دیگر سپورٹس

"سیشلز نیچر ٹریل چیلنج 2026” میں ٹائٹل کا کامیاب دفاع

، پاکستانی عوام کی دعائیں میری سب سے بڑی طاقت ہیں: وقار احمد

سیشلز نیچر ٹریل چیلنج میں ٹائٹل کا کامیاب دفاع،

پاکستانی عوام کی دعائیں میری سب سے بڑی طاقت ہیں: وقار احمد

لاہور: مایہ ناز پاکستانی الٹرا رنر وقار احمد ناصر نے معتبر بین الاقوامی دوڑ "سیشلز نیچر ٹریل چیلنج 2026” میں اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنے کے بعد کہا ہے کہ پاکستانی عوام کی دعائیں، محبت اور بھرپور حمایت ہمیشہ ان کی طاقت اور آگے بڑھنے کا سب سے بڑا ذریعہ رہی ہیں۔

اس شاندار بین الاقوامی کامیابی کے بعد اپنے ایک بیان میں وقار احمد ناصر کا کہنا تھا، "میں پاکستانی عوام کی جانب سے ملنے والی مسلسل دعاؤں، محبت اور تعاون پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں، جو میرے لیے سب سے بڑی طاقت اور محرک ہیں۔”

اپنے اس سفر میں سپورٹ کرنے والی شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وقار احمد نے سال نیفرون (Sal Nephrun)، فصیح صالح، مس وائلڈ پاتھس (Ms. Wild Paths) اور ویگا ٹیلز (Vaga Tales) کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کے لیے خصوصی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اپنے اس مشن کو اسپانسر کرنے اور تعاون فراہم کرنے پر ‘ACTIVIT’ اور اس کے سی ای او رانا رضوان آفتاب احمد کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تاکید کے ساتھ کہا، "پورے سفر کے دوران میری سرپرستی، مسلسل تعاون، اعتماد اور حوصلہ افزائی کے لیے میں ‘ACTIVIT’ کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔”

وقار احمد نے اس کامیابی میں ‘مارگلہ ٹریل رنرز’ کمیونٹی اور اپنے ساتھی ایتھلیٹس کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے مزید کہا، "میں مارگلہ ٹریل رنرز فیملی، مارگلہ کمیونٹی اور تمام ساتھی رنرز کا اس سفر کے دوران شاندار حوصلہ افزائی، حقیقی اسپورٹس مین شپ اور بھرپور تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔”

وقار احمد نے جزیرہ ماہے (Mahé Island) پر منعقدہ انتہائی کٹھن ‘سیشلز نیچر ٹریل چیلنج’ میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

14 ممالک کے 150 سے زائد مایہ ناز رنرز کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے، پاکستانی ایتھلیٹ نے 22 کلومیٹر پر محیط انتہائی مشکل ریس 2 گھنٹے 11 منٹ کے شاندار وقت میں مکمل کی اور چیمپئن شپ کا ٹائٹل انتہائی شاندار انداز میں اپنے نام برقرار رکھا۔

جنوبی افریقہ کے ڈینیئل کلاسن (Daniel Claasen) پاکستانی رنر سے محض دو منٹ کے فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ کئی دیگر چوٹی کے بین الاقوامی مدمقابل اس پُرپیچ اور کٹھن ٹریک پر وقار کی رفتار کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔ خواتین کے زمرے میں،

جنوبی افریقہ کی ایملی جوک (Emily Jock) نے 2 گھنٹے 51 منٹ کے وقت کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ری یونین آئی لینڈ کی سلواین کسوٹ (Sylvaine Cussot) دوسرے نمبر پر رہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ‘مارگلہ ٹریل رنرز’ کمیونٹی کی نمائندگی کرنے والے وقار احمد کی یہ مسلسل دوسری بین الاقوامی فتح پاکستان میں ٹریل رننگ کے ابھرتے ہوئے رجحان اور فروغ کی عکاس ہے۔

مارگلہ ہلز کی اس کمیونٹی نے محدود وسائل اور پزیرائی کے باوجود مسلسل ایسے باصلاحیت ایتھلیٹس تیار کیے ہیں جو اعلیٰ ترین بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!