کرکٹ

کھیل کے ساتھ کھلواڑ: سفارشی کلچر اور انتظامی نااہلی نے پاکستان کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا

تحریر : نواز گوہر

کھیل کے ساتھ کھلواڑ: سفارشی کلچر اور انتظامی نااہلی نے پاکستان کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا

تحریر: نواز گوہر ; پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ لیکن حالیہ عرصے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اس سب سے محبوب کھیل کو چند نااہل اور ذاتی مفادات کے اسیر عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کرکٹ کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ اور یکے بعد دیگرے عبرتناک شکستوں نے جنونی شائقینِ کرکٹ کو شدید مایوس کیا ہے۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ اس زوال کے اصل ذمہ داران اب بھی اپنے عہدوں پر مضبوطی سے براجمان ہیں اور پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے ساتھ مسلسل جوا کھیل رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندر حالیہ برسوں کے دوران جو انتظامی افراتفری اور اکھاڑ پچھاڑ دیکھنے کو ملی ہے، عالمی اسپورٹس مینجمنٹ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

کپتانوں، کوچز اور سلیکشن کمیٹیوں کی راتوں رات تبدیلی اب ایک معمول بن چکی ہے۔ جب اہم ترین فیصلے گراؤنڈ کی کارکردگی کے بجائے ڈرائنگ رومز کی سیاست، ذاتی پسند ناپسند اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوں گے، تو ٹیم کا حال وہی ہوگا جو آج ہمارے سامنے ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ کے بہترین اور اعلیٰ ٹیلنٹ کو مستقل بنیادوں پر نظر انداز کر کے بااثر افراد اور مخصوص لابیوں کے پسندیدہ کھلاڑیوں کو نوازنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بورڈ نے ٹیم کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر بھی ناتجربہ کار ٹیموں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جب بھی قومی ٹیم کسی بڑے ٹورنامنٹ سے باہر ہوتی ہے، تو بورڈ کے اعلیٰ حکام روایتی راگ الاپتے ہوئے "بڑی سرجری” کا دلاسہ دیتے ہیں۔ تاہم، یہ انتظامی نشتر ہمیشہ صرف کھلاڑیوں یا کوچنگ اسٹاف پر ہی چلایا جاتا ہے۔ اصل پالیسی ساز اور کلیدی عہدوں پر بیٹھے بڑے افسران کبھی بھی اپنی اسٹریٹجک ناکامیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

پاکستان کرکٹ کی بحالی کے لیے پائیدار اور طویل مدتی منصوبے بنانے کے بجائے، انتظامیہ صرف وقتی اور سطحی اقدامات پر انحصار کرتی ہے۔ اس دور اندیشی کے فقدان نے کھلاڑیوں میں عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور خوف سے آزاد ہو کر کھیلنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ فینز کا غصہ اب عروج پر پہنچ چکا ہے، جس کی گونج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے لے کر اسٹیڈیم کے خالی اسٹینڈز تک سنائی دے رہی ہے۔

مخلص شائقین کا پختہ یقین ہے کہ جب تک سیاسی بنیادوں پر آنے والے ان عہدیداروں کو—جو کرکٹ کی مبادیات سے بھی ناواقف ہیں—ہٹا کر پیشہ ور افراد اور سابق کرکٹرز کو سامنے نہیں لایا جاتا، تب تک بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کرکٹ کو اس تاریخی زوال تک پہنچانے والے عناصر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ قومی وقار کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اگر یہ تباہ کن سلسلہ یوں ہی بلا روک ٹوک جاری رہا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کرکٹ کی عظمت ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گی۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!