کرکٹ

کب تک نظر انداز ہوں گے علی زریاب آصف؟ میرٹ کا سوال، سلیکشن کا معیار اور پاکستان کرکٹ کا ایک تشنہ جواب

کب تک نظر انداز ہوں گے علی زریاب آصف؟ میرٹ کا سوال،

سلیکشن کا معیار اور پاکستان کرکٹ کا ایک تشنہ جواب

لاہور: پاکستان کرکٹ میں اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قومی ٹیم کے دروازے ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔

تاہم جب اعداد و شمار اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو چند ایسے نام سامنے آتے ہیں جن کی کارکردگی اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہی میں ایک نمایاں نام علی زریاب آصف کا ہے۔

ان دنوں انگلینڈ کی یارکشائر سدرن پریمیر لیگ میں بارنسلے وولی کرکٹ کلب کی نمائندگی کرنے والے علی زریاب آصف نے ایک بار پھر اپنی کلاس ثابت کرتے ہوئے شیفلڈ کالجیٹ کلب کے خلاف 102 رنز کی شاندار سنچری اسکور کی، جو رواں ایونٹ میں ان کی پانچویں سنچری ہے۔

اعداد و شمار خود ان کی کارکردگی کی گواہی دے رہے ہیں۔ صرف 12 میچوں میں 980 رنز، پانچ سنچریاں، چار نصف سنچریاں، 108.89 کی اوسط اور 79.61 کا اسٹرائیک ریٹ—یہ وہ ریکارڈ ہے

جو انگلینڈ کی مشکل بیٹنگ کنڈیشنز میں کسی بھی اوپننگ بیٹر کے لیے غیرمعمولی تصور کیا جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ یہ کارکردگی کسی ایک اننگ یا مختصر دورانیے تک محدود نہیں بلکہ تسلسل کی بہترین مثال ہے۔

اگر صرف انگلینڈ کی کارکردگی کو ہی معیار نہ بھی بنایا جائے تو گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں علی زریاب آصف کی مستقل مزاجی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ریڈ بال ہو یا وائٹ بال،

انہوں نے ہر فارمیٹ میں رنز بنائے ہیں۔ پاکستان شاہین کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی بیٹنگ اوسط 92 رہی، جبکہ انگلینڈ لائنز کے خلاف اپنے آخری پاکستان شاہین میچ میں انہوں نے ناقابلِ شکست سنچری بھی اسکور کی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز کے دوران انجری نہ آتی تو ممکن ہے ان کا سفر مزید آگے بڑھ چکا ہوتا۔

علی زریاب آصف کا کریئر صرف ڈومیسٹک کرکٹ تک محدود نہیں۔ وہ آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت آئی سی سی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں بھی شامل رہے۔

اسی ٹیم میں بھارت کے موجودہ کپتان شبھمن گل بھی موجود تھے۔ بھارتی کرکٹ نے اپنی نوجوان صلاحیت پر اعتماد کیا، اسے قومی ٹیم میں جگہ دی، تسلسل سے مواقع دیے اور آج وہی کھلاڑی بھارتی ٹیم کی قیادت کر رہا ہے۔

دوسری طرف علی زریاب آصف کی مسلسل کارکردگی کے باوجود انہیں آج تک قومی ٹیم میں وہ اعتماد اور موقع نہیں مل سکا جس کے وہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مستحق دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو کرکٹ حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈومیسٹک کرکٹ، پاکستان شاہین اور فرسٹ کلاس کارکردگی ہی قومی ٹیم کے انتخاب کا اصل معیار ہے تو پھر علی زریاب آصف کو مسلسل نظر انداز کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اگر میرٹ کا اطلاق ہر کھلاڑی پر یکساں نہیں ہوگا تو ڈومیسٹک نظام پر کھلاڑیوں کا اعتماد بھی متاثر ہوگا۔

کرکٹ حلقوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو ایسے بیٹرز کی ضرورت ہے جو مشکل کنڈیشنز میں لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور علی زریاب آصف نے گزشتہ کئی برسوں سے یہی صلاحیت مسلسل ثابت کی ہے۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ سلیکشن کے فیصلوں میں صرف نام نہیں بلکہ کارکردگی کو اصل بنیاد بنایا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلسل رنز بنانے، ہر سطح پر خود کو ثابت کرنے اور بین الاقوامی معیار کی کنڈیشنز میں کامیاب ہونے کے باوجود بھی ایک کھلاڑی قومی ٹیم تک نہیں پہنچ پاتا تو پھر سوال صرف ایک کھلاڑی کا نہیں رہتا بلکہ پورے سلیکشن سسٹم کی شفافیت اور میرٹ پر اٹھنے لگتا ہے۔

کرکٹ حلقوں نے قومی سلیکٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ علی زریاب آصف کی غیرمعمولی اور مسلسل کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور انہیں قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں موقع دے کر یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان کرکٹ میں واقعی میرٹ ہی سب سے بڑی سفارش ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!