
بھارتی تعصب پسند کھلاڑیوں کا رویہ اورآئی سی سی کا کردار؟
رپورٹ ; شکیل الرحمن
ایشیا کپ 2025دبئی میں کھیلے گئے روایتی حریفوں کے درمیان ہائی وولٹیج میچ میں بھارت نے پاکستان کو تو ہرا دیا لیکن تعصب پسند ہندو ابھی تک رافیل گرانے کا غم نہیں بھولے۔
میچ جیتنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ بھی نہیں ملایا اس کے بعد پوری دنیا نے اس کو کھیل پر ایک بدنما داغ قرار دیا۔کھیل اور سیاست یا جنگ میں فرق ہوتا ہے ہے
جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے لیکن کھیل میں سپورٹس مین سپرٹ بھی ایک لازم جزو ہوتا ہے لیکن بھارتی کھلاڑیوں نے جیت کے باوجود سپورٹ مین سپرٹ کے جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا جسے پوری دنیا میں کرکٹ کے حلقوں نے اچھی نظروں سے نہیں دیکھا۔
ویسے ہاتھ دوستوں میں ملائے جاتے ہیں دشمنوں میں تو صرف جنگ ہوتی ہے، مئی میں ہم جیتے اور دبئی میں وہ، بات ختم لیکن حساب جاری ہے اس لئے کہ ابھی سپر فور اور فائنل باقی ہے پھر ملاقات ہوگی،
پھر بات ہوگی اور پھر حساب کتاب ہوگا اور کرکٹ میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔آئی سی سی اور اے سی سی دونوں بھارت کے تابع ہے اس لئے بھارت کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی۔
اگر پاکستان کے کپتان کچھ ایسی حرکت کرتے تو کم از کم ان کے میچ فیس کٹوتی تو لازمی تھی ۔ہاتھ ملانا نہ ملانا تو چھوڑے میچ کے بعد بیان میں میں سوریہ کمار نے فوج کے تعریفی پل باندھے جو کہ کھیل رولز کے منافی ہے۔
اتوار کو ایشیا کپ میں ہندوستان کی پاکستان کے خلاف سات وکٹوں سے جیت سے پہلے یا بعد میں کسی مصافحہ کا تبادلہ نہیں ہوا کیونکہ دبئی کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔
فاتح کپتان سوریہ کمار یادیو نے کہا کہ بی سی سی آئی نے ہندوستانی حکومت کے ساتھ مل کرنے میچ سے پہلے فیصلہ کیا تھا – کہ وہ اپوزیشن سے ہاتھ نہیں ملائیں گے، ایک ایسا اقدام جس نے پاکستان کو بظاہر مایوس کیا۔
پاکستان کے کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ ٹیم کھیل کے بعد مصافحہ کرنے کا انتظار کر رہی تھی ۔جس کی وجہ سے پاکستان کے کپتان سلمان آغا میچ کے بعد ٹی وی انٹرویو کے لیے حاضر نہیں ہوئے، جیسا کہ نشریاتی معمول ہے۔
ان واقعات پر پاکستان کی ناراضگی میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ تک پھنچ چکی ہے۔میچ ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد، پی سی بی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے ٹیم منیجر نے ان کے خلاف “رسمی احتجاج” درج کرایا ہے، کیونکہ انہوں نے “کپتانوں سے ٹاس کے دوران ہاتھ نہ ملانے کی درخواست کی تھی”
۔اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار سے دشمنی کا تبادلہ ہونے کے بعد سے یہ دونوں فریقوں کے درمیان پہلا میچ تھا۔
ہندوستان سے میچ کا بائیکاٹ کرنے کے کئی مطالبات سامنے آئے تھے۔لیکن ہندوستانی حکومت پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے مقابلے کے لیے اپنی سرکاری پالیسی کے ساتھ سامنے آئی،
سوریہ کمار نے میچ کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں کہا، “ہماری حکومت اور بی سی سی آئی – ہم آج ایک دوسرے سے منسلک تھے۔” “آرام کریں، ہم نے فون کیا تھاہاتھ نہ ملانے کے بارے میں ہم یہاں صرف گیم کھیلنے آئے تھے۔
ہم نے مناسب جواب دیا ہے۔”ایک سوال پوچھے جانے پر کہ کیا مصافحہ کرنے سے ان کا انکار کھیل کے جذبے کے خلاف نہیں تھا، سوریہ کمار نے کہا: “زندگی میں کچھ چیزیں اسپورٹس مین اسپرٹ سے بھی آگے ہوتی ہیں۔
میں نے پریزنٹیشن میں یہ بھی کہا تھا، ہم پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔”
میچ کو بھارت نے یکطرفہ بناتے ہوئے پاکستان کو زیر کر دیا۔ گرین شرٹس کے 128 رنز کے ہدف کو بھارت نے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے ایونٹ میں دوسری کامیابی حاصل کی۔
پاکستانی بلے بازوں کے بعد بولرز بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ فاسٹ بولرز کے ساتھ ساتھ اسپنرز بھی کمال نہ دکھا پائے۔بھارت نے 128 رنز کا ہدف 16ویں اوور میں پورا کر دیا۔
کپتان سوریا کمار یادیو 47 رنز بنا کر نمایاں رہے جب کہ ابھیشیک شرما اور تلک ورما نے 31،31رنز اسکور کیے۔ بھارت کی تینوں وکٹیں صائم ایوب نیحاصل کیں۔
میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ہاتھ نہیں ملایا، ٹاس کے موقع پر کپتان ایک کے دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے لیکن ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
میچ کے اختتام پر بھی عمومی طور پر سخت حریف بھی رسمی ہاتھ ملاتے ہیں لیکن بھارتی بلے باز میچ ختم ہوتے ہی میدان سے باہر چلے گئے اور پاکستان کھلاڑی میدان سے اکٹھے ہو کر باہر آئے۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو غلط ثابت ہوا۔ پاکستانی بیٹنگ بھارتی بولنگ کے سامنے ریت کا دیوار ثابت ہوئی اور شاہین شاہ کی آخری اوورز میں 16 گیندوں پر ناقابل شکست 33 رنز کی اننگ نے اسکور 127 رنز تک پہنچا کر ٹیم کو بڑی شرمندگی سے بچایا۔



