بنگلادیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے سولہ رکنی اسکواڈ کا اعلان، سرفراز احمد کوچ مقرر
پی سی بی کیمپ یکم مئی کو اختتام پذیر ہوگا جبکہ ٹیم دو مئی کو بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہوگی، پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ نےبنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا۔
پی سی بی کیمپ یکم مئی کو اختتام پذیر ہوگا
جبکہ ٹیم دو مئی کو بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہوگی، پی سی بی

تفصیلات کے مطابق شان مسعود ٹیسٹ ٹیم کی قیادت جاری رکھیں گے جبکہ چار نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی قومی سلیکشن کمیٹی نے اگلے ماہ بنگلا دیش میں ہونے والی دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔
بورڈ کے مطابق شان مسعود ٹیم کی قیادت کریں گے۔
دیگر کھلاڑیوں میں عبداللہ شفیق، عماد بٹ، اذان اویس، بابر اعظم، حسن علی، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد رضوان، محمد غازی غوری، نعمان علی، ساجد خان، سلمان علی آغا، سعود شکیل اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔
پی سی بی کے مطابق اسکواڈ 27 اپریل سے کراچی میں تربیتی کیمپ میں شرکت کرے گا جو یکم مئی تک جاری رہے گا جبکہ ٹیم 2 مئی کو بنگلا دیش کے لیے روانہ ہوگی۔
بورڈ نے مزید بتایا کہ وہ کھلاڑی جو اس وقت پاکستان سپر لیگ میں مصروف ہیں اپنی ٹیم کے ایونٹ سے باہر ہونے کے بعد کیمپ جوائن کریں گے۔
ٹیسٹ ٹیم کی ہیڈ کوچنگ کے فرائض سابق کپتان سرفراز احمد انجام دیں گے، جبکہ سیریز کے شیڈول کا اعلان جلد بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے کیا جائے گا۔
دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ 8 مئی اور دوسرا ٹیسٹ میچ 16 مئی سے کھیلا جائے گا۔
دوسری جانب غازی غوری کی ٹیم میں شمولیت پر کرکٹ ماہرین حیران رہ گئے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کئی ایسے کھلاڑی موجود تھے جن کی کارکردگی زیادہ مضبوط تھی، مگر انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔
خاص طور پر روحیل نذیر جیسے باصلاحیت کھلاڑی کو نظر انداز کرنا مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے، کیونکہ ان کی کارکردگی غازی غوری کے مقابلے میں زیادہ بہتر رہی ہے۔
فینز کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں شفاف سلیکشن پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور میرٹ کی بات کی جا رہی ہے۔
کچھ حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ ٹیم کمبی نیشن کے بجائے دیگر عوامل کی بنیاد پر لیا گیا، جس نے سلیکشن کے معیار پر مزید سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا غازی غوری میدان میں اپنی کارکردگی سے ناقدین کو غلط ثابت کر پاتے ہیں یا یہ فیصلہ مزید تنقید کا سبب بنے گا۔



