Gamesمضامین

جب میدان آباد تھے اور دہشت گردی شکست کھا رہی تھی ،

امیر حیدر خان ہوتی اور سید عاقل شاہ کی وہ حکمتِ عملی جس نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو مایوسی سے امید کی طرف موڑ دیا

جب میدان آباد تھے اور دہشت گردی شکست کھا رہی تھی ،

امیر حیدر خان ہوتی اور سید عاقل شاہ کی وہ حکمتِ عملی جس نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو مایوسی سے امید کی طرف موڑ دیا

غنی الرحمن

تاریخ کے کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف سیاسی فیصلوں سے نہیں بلکہ عوام کی اجتماعی یادداشت، قربانیوں اور عملی حکمتِ عملی سے یاد رکھا جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا بھی ایک ایسے ہی کٹھن دور سے گزرا جب دہشت گردی کی آگ نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ بازار، مساجد، اسکول، دفاتر، کھیلوں کے میدان اور عوامی مقامات کسی بھی وقت دہشت گردی کا نشانہ بن سکتے تھے۔

ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ طلوع ہوتی تھی، لیکن شام تک کسی نہ کسی سانحے کی خبر دلوں کو غمزدہ کر دیتی تھی۔ اس تاریک دور میں خیبرپختونخوا کے عوام نے بے مثال حوصلے، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔

اس سرزمین کے غیور، محب وطن اور اصول پسند لوگوں نے خوف کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ثابت قدم رہنے کا راستہ اختیار کیا۔

پولیس، سیکیورٹی فورسز، صحافی، اساتذہ، ڈاکٹرز، سیاسی کارکن، کھلاڑی اور عام شہری سب کسی نہ کسی صورت اس جنگ کے فرنٹ لائن سپاہی تھے۔

اس وقت صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ کی ذمہ داری امیر حیدر خان ہوتی کے کندھوں پر تھی۔ دہشت گردی صرف عوام تک محدود نہیں رہی بلکہ سیاسی قیادت بھی براہِ راست اس کی زد میں آئی۔

سینئر وزیر بشیر احمد بلور دہشت گردی کا نشانہ بنے، میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو شہید کیا گیا، ہارون بلور سمیت متعدد سیاسی رہنما اور کارکن جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے، جبکہ سوات، چارسدہ، پشاور، مردان اور دیگر اضلاع مسلسل آزمائشوں سے گزر رہے تھے۔

ایسے حالات میں حکومت کے سامنے صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک پوری نسل کو مایوسی، خوف اور بے یقینی سے بچانا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ اسی مرحلے پر ایک ایسی حکمتِ عملی سامنے آئی جسے آج بھی کھیلوں سے وابستہ حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کی سرپرستی میں اُس وقت کے صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ نے کھیلوں کو صرف مقابلوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں نوجوانوں کی ذہنی، سماجی اور قومی تعمیر کا ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔

اس دور میں صوبے کے مختلف اضلاع میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو مسلسل جاری رکھا گیا۔ پشاور، چارسدہ، صوابی، مردان، سوات، کالام، ناران، کاغان اور دیگر علاقوں میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے گئے۔

نوجوانوں کو میدانوں کی طرف راغب کیا گیا تاکہ وہ خوف اور مایوسی کے بجائے محنت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور صحت مند مقابلے کی فضا میں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں۔ کامیاب کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، انہیں انعامات دیے گئے اور کھیلوں کے ذریعے امید کا چراغ روشن رکھا گیا۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس دور میں کھیل محض تفریح نہیں رہے بلکہ معاشرتی استحکام اور نوجوان نسل کے اعتماد کی بحالی کا ایک اہم ذریعہ بنے۔ جب بارود کی بو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی،

تب کھیلوں کے میدان نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ میدانوں میں دوڑتے ہوئے قدم دراصل خوف کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکے تھے۔

کھیلوں سے وابستہ بہت سی شخصیات آج بھی اس دور کو خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے فروغ کا ایک اہم باب قرار دیتی ہیں۔

ان کے مطابق مشکل ترین حالات کے باوجود کھیلوں کی سرگرمیوں کا تسلسل نوجوان نسل کے حوصلے بلند رکھنے میں معاون ثابت ہوا اور اس سے معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ ملا۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ تاریخ کا جائزہ ہمیشہ توازن اور حقائق کی روشنی میں لیا جائے۔

دہشت گردی کے خاتمے میں سیکیورٹی فورسز، پولیس، عوام، سول سوسائٹی، صحافیوں، اساتذہ، مختلف سیاسی جماعتوں اور بے شمار شہریوں نے اپنی اپنی سطح پر اہم کردار ادا کیا اور بے مثال قربانیاں دیں۔

اسی وسیع تناظر میں اگر کھیلوں کے شعبے نے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑے رکھنے میں مؤثر کردار ادا کیا تو یہ بھی ایک قابلِ ذکر پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج جب خیبرپختونخوا نسبتاً بہتر حالات کی طرف گامزن ہے تو ہمیں اس تجربے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کے لیے صرف بیانات کافی نہیں ہوتے،

بلکہ کھیلوں کے میدان، تعلیمی ادارے، ثقافتی سرگرمیاں، لائبریریاں اور صحت مند ماحول فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جس معاشرے میں کھیلوں کے میدان آباد ہوں، وہاں امید، برداشت اور باہمی احترام کے امکانات بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

وقت گزر جاتا ہے مگر اچھے فیصلے اپنی شناخت چھوڑ جاتے ہیں۔ اگر کسی دور میں کھیلوں کو نوجوانوں کی مثبت تربیت، اعتماد اور مصروفیت کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا، تو اس تجربے سے آج بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

یہی تاریخ کا اصل سبق ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی امید کے دروازے بند نہیں ہونے چاہیں، کیونکہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم، کھیل، ثقافت اور مثبت سوچ سے بھی مضبوط بنتی ہیں۔

دہشت گردی نوجوانوں سے مستقبل چھیننے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ کھیل انہیں مقصد، نظم و ضبط، اعتماد اور امید دیتے ہیں۔ جو قوم اپنے کھیلوں کے میدان آباد رکھتی ہے، وہ اپنی آنے والی نسلوں کے ذہن بھی آباد رکھتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!