Tag: pakistan hockey news

  • مینز جونیئر ایشیا کپ 2026: پاکستان نے ملائیشیا کو 2-5 سے شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا ۔

    مینز جونیئر ایشیا کپ 2026: پاکستان نے ملائیشیا کو 2-5 سے شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا ۔

    مینز جونیئر ایشیا کپ 2026:

    پاکستان نے ملائیشیا کو 2-5 سے شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا ۔

    مینز جونیئر ایشیا کپ 2026 کے پول B کے ایک اہم میچ میں پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملائیشیا کو 2 کے مقابلے میں 5 گول سے شکست دے دی۔

    واضع رہے پاکستان نے ابھی تک ایونٹ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے تیسری فتح حاصل کی یے۔ علی حمزہ مین آف دی میچ قرار پائے۔

    میچ کا آغاز سنسنی خیز رہا جہاں 9ویں منٹ میں ملائیشیا کے محمد صالحی نے گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ تاہم، پاکستان کی قومی جونیئر ٹیم نے دوسرے ہاف میں زبردست کم بیک کیا اور ملائیشیا کے دفاع کو تہس نہس کر دیا۔

    پاکستان کی جانب سے گول کرنے کا سلسلہ 32ویں منٹ میں ندیم خان کے شاندار گول سے شروع ہوا جس نے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس کے بعد 36ویں منٹ میں عبداللہ سمیع رانا نے گول کر کے پاکستان کو 1-2 کی برتری دلائی۔

    پاکستان کے ولید رانا نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 39ویں اور 40ویں منٹ میں بیک ٹو بیک دو خوبصورت گول داغ کر میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کر دی۔ 41ویں منٹ میں علی حمزہ نے پانچواں گول کر کے اسکور 1-5 کر دیا۔

    میچ کے 54ویں منٹ میں ملائیشیا کے گناسیلن دھیرش نے اپنی ٹیم کا دوسرا گول اسکور کیا، لیکن پاکستان نے میچ کے اختتام تک اپنی برتری برقرار رکھی اور 2-5 سے فتح اپنے نام کی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے شاندار فتح پر جونیئر ٹیم اور مینجمنٹ کو مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم آنے والے میچز میں بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھے گی۔

  • پاکستان ہاکی کا نیا بحران : تحریر رانا حماد

    پاکستان ہاکی کا نیا بحران : تحریر رانا حماد

    پاکستان ہاکی کا نیا بحران : تحریر رانا حماد

    گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان ہاکی کے حوالے سے مالی اور انتظامی مسائل سے متعلق جو خبریں ہاکی کمیونٹی میں گردش کر رہی تھیں، نئی مینجمنٹ، محی الدین احمد وانی کی قیادت میں مثبت قدم اٹھانے کی وجہ سے ٹیم کی پرفامنس میں ایک مثبت پروگریس نظر آئی ہے۔ ۔

    اگر ہم 2026 ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی کا گزشتہ ورلڈ کپ مقابلوں سے جائزہ لیں تو یہ کارکردگی 2006 سے 2026 تک کی کارکردگی میں بہت حد تک بہتر دکھائی دیتی ہے۔

    اس لیے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ہاکی میں استحکام برقرار رکھا جائے اور غیر ضروری تنازعات کو ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔

    کپتانی کا نیا تنازع ;

    اس وقت پاکستان ہاکی میں سب سے زیادہ زیرِ بحث معاملہ قومی ٹیم کی کپتانی کا ہے۔

    ورلڈ کپ 2026 سے قبل یہ تاثر سامنے آیا کہ بعض سابق اولمپیئنز اور بااثر حلقے، جن میں اولمپیئن طاہر زمان اور اولمپیئن شہباز سینئر کے نام شامل ہیں، عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ عماد بٹ کی جگہ محمد ابوبکر کو قومی ٹیم کا کپتان بنانے کا فیصلہ پہلے ہی طے کیا جا چکا تھا۔

    اگر عماد بٹ کو صرف اس وجہ سے کپتانی سے ہٹایا گیا کہ انہوں نے ٹیم اور مینجمنٹ سے متعلق مسائل پر آواز اٹھائی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تو یہ ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ غور معاملہ تھا ۔

    کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے انتظامی مسائل کی نشاندہی کرنا بذاتِ خود جرم نہیں ہے، بلکہ ایسے معاملات کو شفاف انداز میں سننا اور حل کرنا ضروری ہے۔ لیکن معاملے کو حل کرنے کی بجائے اُلٹا آواز اٹھانے کی سزا عماد بٹ کو دی گئی ۔

    دو سے تین ماہ کے دوران بالآخر گندی سیاست کی وجہ سے عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹا کر محمد ابوبکر کو کپتان مقرر کیا گیا ۔ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے پہلے عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹانا بہت بڑی ذیادتی اور ناانصافی تھی ۔

    پاکستان ہاکی کو استحکام کی ضرورت ہے ; 

    اب جبکہ ایشین گیمز بھی قریب ہیں، پاکستان ہاکی ٹیم کو اندرونی اختلافات اور کپتانی کے تنازع سے نکال کر مکمل استحکام فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    موجودہ مینجمنٹ کو اس فیصلے کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ عماد بٹ کو دوبارہ ٹیم کا کپتان مقرر کرنا چاہیے ۔ اور عماد بٹ کا حق اس سے واپس دینا چاہیے ۔ اس وقت سب سے اہم چیز کسی فرد کی انا یا کسی گروپ کی پسند نہیں بلکہ پاکستان ہاکی ٹیم کا مفاد اور مستقبل ہونا چاہیے۔

    اولمپیئنز کا کردار — رہنمائی یا مداخلت؟

    پاکستان ہاکی کے لیے ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ سابق اولمپیئنز کا موجودہ نظام میں کردار کیا ہونا چاہیے؟

    اولمپیئنز ہمارے قومی ہیروز ہیں اور ان کے تجربے سے نئی نسل کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی سابق کھلاڑی مسلسل کئی سالوں سے انتظامی معاملات میں مداخلت کرے، گروپ بندی کو فروغ دے یا ذاتی مفادات کے لیے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کا نقصان پورے قومی کھیل کو ہوتا ہے۔

    یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو لوگ خود کو FIH کوچز کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور گراؤنڈ لیول پر ان کی ترقی کے لیے عملی طور پر کتنا وقت دیتے ہیں؟

    پاکستان کو صرف عہدوں، ڈالرز یا بیرونِ ملک مواقع کے لیے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں گراؤنڈ پر کام کرنے والے کوچز اور منتظمین کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں میرٹ، کارکردگی، شفافیت اور قومی مفاد کو ذاتی تعلقات اور گروپ بندی پر فوقیت حاصل ہو۔

    ہماری موجودہ مینیجمینٹ جس کی محی الدین احمد وانی قیادت کر رہے ہیں ۔

    کہ اب وقت ہے کہ مثبت فیصلے کیے جائیں ۔ اور انصاف پر مبنی اقدام کیے جائیں ۔ اور جن لوگوں نے پاکستان ہاکی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کو ہاکی سے دور رکھا جائے اور میرٹ پے فیصلے کیے جائیں ۔

  • ہاکی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ٹیم میں بڑی تبدیلی، عماد بٹ کی جگہ ابوبکر کپتان مقرر

    ہاکی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ٹیم میں بڑی تبدیلی، عماد بٹ کی جگہ ابوبکر کپتان مقرر

    ہاکی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ٹیم میں بڑی تبدیلی، عماد بٹ کی جگہ ابوبکر کپتان مقرر

    ہاکی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے قومی ٹیم کی قیادت میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹا کرابوبکر کو نیا کپتان مقرر کردیا ہے۔

    پی ایچ ایف کے مطابق ابوبکرآئندہ بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان ہاکی ٹیم کی قیادت کریں گے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے پروفیشنل ڈولپمنٹ کمیٹی کی سفارش پریہ فیصلہ کیا۔

    فیڈریشن کے مطابق عماد شکیل بٹ بطورسینئرکھلاڑی قومی ٹیم کا حصہ رہیں گے اورٹیم کی بہتری کے لئے اپنا کردارادا کرتے رہیں گے۔

    نئے کپتان ابوبکرپہلی مرتبہ 30 جولائی سے شروع ہونے والی کوریا کے خلاف ہوم سیریزمیں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

    پی ایچ ایف نے امید ظاہر کی ہے کہ ابوبکرکی قیادت، سینئرکھلاڑیوں کے تجربے اور نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے قومی ٹیم مزید مضبوط اورمتحد اندازمیں میدان میں اترے گی۔

    قومی ہاکی ٹیم کیلئے یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے، عالمی کپ کا آغاز 15 اگست سے ہوگا جس کی میزبانی نیدرلینڈزاوربیلجیئم مشترکہ طور پرکریں گے۔

    میگا ایونٹ میں 16 ٹیمیں شرکت کریں گی جنہیں چارگروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، پاکستان کو گروپ ڈی میں انگلینڈ، ویلزاور روایتی حریف بھارت کیساتھ رکھا گیا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ 19 اگست کو کھیلا جائے گا۔

  • پرائم منسٹر نیشنل ویمن انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ کے لیے آفیشلز کا اعلان

    پرائم منسٹر نیشنل ویمن انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ کے لیے آفیشلز کا اعلان

    ویمن انڈر21 ہاکی چیمپئن شپ 2026 کے لیے آفیشلز کا اعلان

    اسلام آباد ; پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی کی ہدایت پر پرائم منسٹر نیشنل ویمن انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ 2026 کے کامیاب انعقاد کے لیے آفیشلز کے پینل کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

    یہ چیمپئن شپ 2 جولائی سے 8 جولائی 2026 تک نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم، اسلام آباد میں کھیلی جائے گی جس میں ملک بھر سے صوبائی اور دیگر الحاق شدہ ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ٹورنامنٹ کے جملہ امور کی نگرانی کے لیے پینل تشکیل دیا گیا ہے، جس میں درج ذیل آفیشلز شامل ہیں:

    ٹورنامنٹ ڈائریکٹر: محمد شفیق بھٹی (لاہور) اسسٹنٹ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر: راحت خان (لاہور) ایونٹ کوآرڈینیٹر: محمد وقاص شیخ (سکھر) کوآرڈینیٹر: حبیب الرحمن (لاہور) اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر: خاور جاوید (گوجرہ)

    آرگنائزنگ سیکریٹری: تنزیلہ امیر چیمہ (لاہور) اسسٹنٹ آرگنائزنگ سیکریٹری: چاند پروین (لاہور) شامل ہیں

    میچز کو شفاف انداز میں چلانے کے لیے مقرر کیے گئے ٹیکنیکل آفیشلز میں زیب النساء (لاہور)، سونیا خان (واپڈا)، رابعہ قادر (واپڈا)، رفعت مسعود (اسلام آباد)، عبدالملک (گوجرہ)، ریحانہ جعفر (اسلام آباد)، مہوش ایمان (اسلام آباد)، علینہ شاکر (اسلام آباد)، فضیلہ اشرف (سکھر) اور وقاص احمد (پشاور) شامل ہیں۔

    امپائرنگ پینل میں بینش حیات (لاہور) بطور امپائرز مینیجر فرائض انجام دیں گی۔ فیلڈ امپائرز کے پینل میں محی الدین (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مظہر وسیم (نکانہ صاحب)، زاہد حمید (واپڈا )، محمود علی (پی آئی اے )، اسد عباس (آرمی)، وجاہت منیر (اسلام آباد)، ساجد رضا (اسلام آباد)، عظیم احمد (اسلام آباد)، فیضان ڈار (آرمی)، حنا پرویز (لاہور)، وقاص بٹ (راولپنڈی) اور عقیلہ نسیم (لاہور) کو شامل کیا گیا ہے۔

    پی ایچ ایف کے مطابق، تمام شریک ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی کوآرڈینیشن کے لیے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر محمد شفیق بھٹی سے رابطہ کریں۔

    ٹورنامنٹ کے باقاعدہ آغاز سے قبل یکم جولائی 2006 کو اہم بریفنگ میٹنگز طلب کی گئی ہیں، جس میں امپائرز اور ٹورنامنٹ آفیشلز کی میٹنگ دوپہر 3:00 بجے جبکہ مینیجرز، کپتانوں اور کوچز کی میٹنگ شام 4:00 بجے ہوگی۔

    ترجمان پی ایچ ایف نے واضح کیا ہے کہ ایونٹ میں صرف وہی خواتین کھلاڑی شرکت کی اہل ہوں گی جن کی تاریخِ پیدائش یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد کی ہے۔

    تمام کھلاڑیوں کے لیے رپورٹنگ کے وقت کارآمد پاسپورٹ، 6 عدد حالیہ تصاویر (سفید پس منظر)، ڈومیسائل، بی-فارم اور نادرا کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہوگا، بصورتِ دیگر انہیں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • پرائم منسٹر نیشنل ویمن انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ ; ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اور ایونٹ کوآرڈینیٹر کا اعلان

    پرائم منسٹر نیشنل ویمن انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ ; ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اور ایونٹ کوآرڈینیٹر کا اعلان

    پرائم منسٹر نیشنل ویمن انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ ;

    ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اور ایونٹ کوآرڈینیٹر کا اعلان

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیراہتمام پرائم منسٹر نیشنل ویمنز انڈر-21 ہاکی چیمپئن شپ 2026 کا انعقاد 2 جولائی سے 9 جولائی 2026 تک اسلام آباد میں ہونا طے پایا ہے۔

    چیمپئن شپ کے شیڈول کو حتمی شکل تمام نیشنل ایسوسی ایشنز اور محکموں (departments) کی جانب سے شرکت کی تصدیق کے بعد دی جائے گی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، ایونٹ کے شاندار اور پُرونق انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اہم عہدیداران کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ شفیق بھٹی کو ٹورنامنٹ ڈائریکٹر جبکہ محمد وقاص شیخ کو چیمپئن شپ کے لیے ایونٹ کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

    پی ایچ ایف کی جانب سے الحاق شدہ یونٹس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ٹورنامنٹ سے متعلقہ معاملات، کٹ (Kit) کی ضروریات اور دیگر انتظامات کے لیے مقررہ عہدیداران سے فوری رابطہ کریں۔

    اس کے علاوہ، تمام ٹیموں کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ چیمپئن شپ کے آغاز سے قبل کھلاڑیوں کی  رجسٹریشن اور تصدیق کے لیے درج ذیل اصل (Original) دستاویزات کی موجودگی کو یقینی بنائیں:

    1۔ پاسپورٹ (Valid Passport): تمام کھلاڑیوں کے پاسپورٹ کا ہونا لازمی ہے۔

    2۔ بے-فارم (B-Form): جہاں قابلِ اطلاق ہو۔

    3۔ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)

    4۔ قومی شناختی کارڈ (CNIC) یا جووینائل کارڈ (Juvenile Card)

    پی ایچ ایف انتظامیہ نے تمام ٹیموں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زحمت سے بچنے کے لیے اپنی دستاویزات کے تمام تقاضے وقت سے پہلے مکمل کر لیں۔

  • پینتھر ہاکی کلب کی ٹیم آل پاکستان ہاکی میلہ دوسوہہ کی چیمپین بن گئی.

    پینتھر ہاکی کلب کی ٹیم آل پاکستان ہاکی میلہ دوسوہہ کی چیمپین بن گئی.

    پینتھر ہاکی کلب کی ٹیم آل پاکستان ہاکی میلہ دوسوہہ کی چیمپین بن گئی

    فیصل آباد ( فہد جالندری لائلپوریا ) عثمان میموریل 242 دوسوہہ ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل میچ پنینتھر ہاکی کلب گٹی 202 فیصل آباد عثمان ہاکی کلب 242 دوسوہہ سمندری کے مابین کھیلا گیا .

    دونوں ٹیمیں علاقہ کی چوٹی کی ٹیمیں تھیں،

    میچ میں رمیض جامی مختبی شانی احمر حمزہ منشاء شیرا بابر گجر نے نمایاں کارکردگی دیکھا کر میچ کا پلڑا پلٹ دیا 2 کے مقابلے تین گولز سے گٹی ٹیم نے ٹائٹل اپنے نام کیا

    کثیر تعداد میچ کو دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں موجود تھی میچ میں کمینٹری کے فرائض جالندری لائیلپوریہ نے ادا کئے جبکہ ریفری کے فرائض محمد پرویز پاکستان پوسٹ محمد عباد علی شہباز ائیرفورس نے ادا کیے

    جبکہ آرگنائزرز میں توقیر مغل میاں متین صدر قیصر مغل یسین مغل کپتان طاہر شفقت علی محمد شعیب شامل تھے

    بابر گجر صدر پینتھر ہاکی کلب کو آل پاکستان ہاکی میلہ دوسوہہ میں چیمپئین ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں جس میں پورے پاکستان سے 32 ٹیموں نے حصہ لیا ایک عرصے بعد دوبارہ 202 گٹی بھائیوالا کا نام روش کیا

    قیام پاکستان سے ہی گٹی بھائیوالا کو ہاکی میں نمایاں عزاز رہا آل پاکستان ایونٹس جو کے رانا مجاہد اولمپئین صاحب کے دور میں دوبارہ شروع ہو گئے جس سے کھلاڑیوں کے ہنر میں مزید نکھار پیدا ہو گا

    فائنل میچ میں رمیض جامی مختبی شانی احمر حمزہ منشاء نے نمایاں کارکردگی دیکھا کر میچ پلڑا پلٹ دیا جیت اپنے نام کی بابر گجر صدر پینتھر ہاکی کلب کلب کی جانب سے شاندار اعشائیہ دیا گیا جس میں اظہار جارا انٹرنیشنل رضوان جانی کاشف علی کوچ سمیت تمام نے شرکت کی

  • وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی بیلجیئم ہاکی ٹیم کو دورہ پاکستان کی دعوت

    وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی بیلجیئم ہاکی ٹیم کو دورہ پاکستان کی دعوت

    مصدق ملک کی بیلجیئم ہاکی ٹیم کو دورہ پاکستان کی دعوت‘سٹیڈیم میں میچ دیکھا

    وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے بیلجیم ہاکی فیڈریشن کو انڈر 21 ٹیم کے پاکستان کے دورے کی دعوت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، پاکستان ہاکی فیڈریشن کی دعوت پر خصوصی طور پر اسٹیڈیم پہنچے جہاں انہوں نے پاکستان اور بیلجیم کی ٹیموں کے درمیان میچ دیکھا۔

    وفاقی وزیر کی آمد پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے گورننگ بورڈ کے رکن چوہدری پرویز سندھیلہ نے ان کا استقبال کیا اور انہیں قومی ٹیم، یورپی دورے اور آئندہ پروگرام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    مصدق ملک نے قومی کھلاڑیوں سے ملاقات کی، ان کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ یہی سبز ہلالی پرچم کبھی دنیائے ہاکی پر حکمرانی کرتا تھا اور اب اس عظیم روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ذمہ داری موجودہ نسل کے کندھوں پر ہے۔

    اس ملاقات کے دوران کھلاڑیوں نے وفاقی وزیر سے کھل کر گفتگو کی۔ کھلاڑیوں نے اس ملاقات کو اپنے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی نمائندوں کی سرپرستی انہیں مزید جذبے کے ساتھ کھیلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی بیلجیم ہاکی فیڈریشن کے سی ای او سرج پیلے سے بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بیلجیم کے درمیان ہاکی تعلقات کو مزید فروغ دینے، باہمی تعاون اور نوجوان کھلاڑیوں کے تبادلے پر تفصیلی گفتگو کی۔

    ڈاکٹر مصدق ملک نے سرج پیلے کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے بیلجیم کی ہاکی ٹیموں، بالخصوص انڈر 21 ٹیم کو پاکستان آکر میچز کھیلنے کی بھی دعوت دی۔

    سرج پیلے نے اس دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے جلد بیلجیم کی انڈر 21 ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اصولی آمادگی کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان ہاکی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر ہاکی حلقوں کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے فیڈریشن کی باگ دوڑ سنبھالی ہے، قومی ہاکی کے حوالے سے ایک نئی امید اور مثبت فضا پیدا ہوئی ہے۔

    فیڈریشن کی منظم منصوبہ بندی، بین الاقوامی ٹیموں کے خلاف مسلسل میچز، کھلاڑیوں کی بہتر تیاری اور عالمی سطح پر پاکستان ہاکی کو دوبارہ نمایاں کرنے کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ہاکی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو گی اور دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی پہچان حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم تقریباً آٹھ سال بعد ایک بڑے عالمی ایونٹ میں شرکت کی تیاری کر رہی ہے۔ یورپ کی مضبوط ٹیموں کے خلاف یہ میچز نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے قیمتی تجربہ ثابت ہو رہے ہیں بلکہ مستقبل میں عالمی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کی بنیاد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

  • پاکستان میں 24 سال بعد انٹرنیشنل ہاکی کی واپسی کی تصدیق ہوگئی۔

    پاکستان میں 24 سال بعد انٹرنیشنل ہاکی کی واپسی کی تصدیق ہوگئی۔

    پاکستان میں 24 سال بعد انٹرنیشنل ہاکی کی واپسی کی تصدیق ہوگئی۔

    ملک میں انٹرنیشنل ہاکی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کوشاں پی ایچ ایف حکام کو جنوبی کورین ہاکی فیڈریشن نے ٹیم بھجوانے کی تصدیق کردی ہے۔

    جنوبی کوریا وہ پہلی ٹیم ہوگی جو 24 سال بعد پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی سرگرمیاں بحال کرے گی، پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان میچز جولائی میں اسلام آباد میں کھیلے جائیں گے۔

    صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی کے مطابق سیریز کا حتمی شیڈول دو سے تین روز میں طے پاجائے گا۔

    واضح رہے کہ 2024 میں جرمنی کی جونیئر ٹیم کے ساتھ ہالینڈ اور جرمن ہاکی کلبز نے پاکستان کے دورے کیے تھے تاہم کسی بھی نیشنل سینئر ٹیم کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہوگا۔

  • "اولمپئین رشید الحسن کی ہاکی بحالی مہم، صدر پی ایچ ایف سے اہم ملاقات میں قومی کھیل کے مستقبل پر غور”

    "اولمپئین رشید الحسن کی ہاکی بحالی مہم، صدر پی ایچ ایف سے اہم ملاقات میں قومی کھیل کے مستقبل پر غور”

    "اولمپئین رشید الحسن کی ہاکی بحالی مہم، صدر پی ایچ ایف سے اہم ملاقات میں قومی کھیل کے مستقبل پر غور”

    تحریر وترتیب: محمد زاہد مجید انور

    پاکستان کی ہاکی ایک شاندار تاریخ کی حامل ہے۔ ایک وقت تھا جب دنیا بھر میں پاکستان کا نام ہاکی کے میدانوں میں عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ قومی ٹیم نے متعدد عالمی اعزازات، ورلڈ کپ، ایشین گیمز اور اولمپکس میں کامیابیاں حاصل کرکے ملک کا پرچم بلند کیا۔

    تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران قومی کھیل ہاکی کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا جس کے باعث اس کا معیار متاثر ہوا۔ ایسے حالات میں سابق اولمپئینز اور قومی ہیروز کی جانب سے ہاکی کی بحالی کے لیے کی جانے والی کاوشیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں

    اسی سلسلے میں پاکستان ہاکی کے مایہ ناز ستارے، سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم اور 1984ء لاس اینجلس اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ رشید الحسن نے اسلام آباد میں صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن سے اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں پاکستان ہاکی کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت، گراس روٹ سطح پر کھیل کے فروغ اور قومی ٹیم کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں شخصیات نے پاکستان ہاکی کو دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کے عزم کا اظہار کیا۔رشید الحسن کا شمار ان عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے

    جنہوں نے اپنے کھیل، قائدانہ صلاحیتوں اور قومی جذبے کے ذریعے پاکستان کے لیے یادگار خدمات انجام دیں۔ 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان کی گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کا حصہ ہونا ان کے کھیل کی عظمت اور قومی خدمات کا روشن ثبوت ہے۔

    آج بھی وہ ہاکی کے فروغ اور نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ملاقات کے دوران رشید الحسن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ہاکی کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف منظم منصوبہ بندی، جدید تربیت اور کھلاڑیوں کی سرپرستی کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر سکولوں، کالجوں اور ضلعی سطح پر ہاکی کے مقابلوں کو فروغ دیا جائے تو ملک بھر سے بہترین کھلاڑی سامنے آسکتے ہیں جو مستقبل میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھی ہاکی کے فروغ کے لیے جاری منصوبوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے، کوچنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر قومی ٹیم کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابق اولمپئینز اور قومی ہیروز کی مشاورت سے ہاکی کے مستقبل کو مزید روشن بنایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر رشید الحسن نے صدر پی ایچ ایف کو "رشید الحسن ہاکی” کی یادگاری شیلڈ (سووینئر) بھی پیش کی جو باہمی احترام اور قومی کھیل کے فروغ کے جذبے کی خوبصورت علامت تھی۔

    یہ لمحہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سابق اور موجودہ ہاکی رہنما قومی کھیل کی بہتری کے لیے متحد ہیں۔پاکستان ہاکی کی بحالی محض ایک کھیل کی بحالی نہیں بلکہ قومی وقار کی بحالی بھی ہے۔ ہاکی نے پاکستان کو عالمی سطح پر بے شمار فتوحات اور اعزازات دلائے ہیں۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ہاکی فیڈریشن، سابق کھلاڑی، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر قومی کھیل کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک نچلی سطح پر کھیل کے ڈھانچے کو مضبوط نہیں بنایا جاتا اور نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم نہیں کیے جاتے،

    اس وقت تک دیرپا کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔رشید الحسن جیسے مخلص اور تجربہ کار اولمپئینز کی موجودگی پاکستان ہاکی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی تجاویز، تجربات اور رہنمائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی کھیل کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    امید کی جا سکتی ہے کہ اس ملاقات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور پاکستان ہاکی ایک بار پھر اپنے شاندار ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے عالمی میدانوں میں کامیابیوں کے نئے باب رقم کرے گی۔

  • انڈر18 ہاکی ایشیاکپ میں پاکستان کا شاندار آغاز، چین کو 3 صفر سے ہرا دیا

    انڈر18 ہاکی ایشیاکپ میں پاکستان کا شاندار آغاز، چین کو 3 صفر سے ہرا دیا

    انڈر 18 ایشیا کپ جاپان – پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں چین کو 0-3 سے شکست دیدی ۔

    ایشین ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام انڈر 18 ایشیا کپ 2026 جو کہ 29 مئی سے 6 جون تک جاپان کے شہر کاکامیگاہارا میں کھیلا جارہا ہے۔

    ایونٹ میں پاکستان اور چین کے مابین کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے چین کو صفر کے مقابلے میں تین گول سے شکست دیدی۔مین آف دی میچ اسنان قرار پائے۔

    پاکستان کی جانب سے پہلا گول پہلے ہاف کے چھٹے منٹ میں عثمان نے، دوسرا گول 11ویں منٹ میں عدیل نے جبکہ تیسرا گول 56ویں منٹ میں یاسین سکور کیا۔

    پاکستان اپنا دوسرا میچ: پاکستان بمقابلہ ملائیشیا — 31 مئی (دوپہر 3:00 بجے)، تیسرا میچ: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش — 3 جون (دوپہر 3:00 بجے) کھیلے گا۔

    شیڈول کے مطابق گروپ مرحلے کے میچز یکم جون تک جاری رہیں گے، جس کے بعد سیمی فائنلز اور پوزیشن میچز کا مرحلہ شروع ہوگا۔5 جون کو کھیلے جائیں گے۔ٹورنامنٹ کا فائنل اور تیسری پوزیشن کا میچ 6 جون کو منعقد ہوگا۔

error: Content is protected !!