
پاکستان ہاکی کا نیا بحران : تحریر رانا حماد
گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان ہاکی کے حوالے سے مالی اور انتظامی مسائل سے متعلق جو خبریں ہاکی کمیونٹی میں گردش کر رہی تھیں، نئی مینجمنٹ، محی الدین احمد وانی کی قیادت میں مثبت قدم اٹھانے کی وجہ سے ٹیم کی پرفامنس میں ایک مثبت پروگریس نظر آئی ہے۔ ۔
اگر ہم 2026 ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی کا گزشتہ ورلڈ کپ مقابلوں سے جائزہ لیں تو یہ کارکردگی 2006 سے 2026 تک کی کارکردگی میں بہت حد تک بہتر دکھائی دیتی ہے۔
اس لیے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ہاکی میں استحکام برقرار رکھا جائے اور غیر ضروری تنازعات کو ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔
کپتانی کا نیا تنازع ;
اس وقت پاکستان ہاکی میں سب سے زیادہ زیرِ بحث معاملہ قومی ٹیم کی کپتانی کا ہے۔
ورلڈ کپ 2026 سے قبل یہ تاثر سامنے آیا کہ بعض سابق اولمپیئنز اور بااثر حلقے، جن میں اولمپیئن طاہر زمان اور اولمپیئن شہباز سینئر کے نام شامل ہیں، عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ عماد بٹ کی جگہ محمد ابوبکر کو قومی ٹیم کا کپتان بنانے کا فیصلہ پہلے ہی طے کیا جا چکا تھا۔
اگر عماد بٹ کو صرف اس وجہ سے کپتانی سے ہٹایا گیا کہ انہوں نے ٹیم اور مینجمنٹ سے متعلق مسائل پر آواز اٹھائی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تو یہ ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ غور معاملہ تھا ۔
کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے انتظامی مسائل کی نشاندہی کرنا بذاتِ خود جرم نہیں ہے، بلکہ ایسے معاملات کو شفاف انداز میں سننا اور حل کرنا ضروری ہے۔ لیکن معاملے کو حل کرنے کی بجائے اُلٹا آواز اٹھانے کی سزا عماد بٹ کو دی گئی ۔
دو سے تین ماہ کے دوران بالآخر گندی سیاست کی وجہ سے عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹا کر محمد ابوبکر کو کپتان مقرر کیا گیا ۔ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے پہلے عماد بٹ کو کپتانی سے ہٹانا بہت بڑی ذیادتی اور ناانصافی تھی ۔
پاکستان ہاکی کو استحکام کی ضرورت ہے ;
اب جبکہ ایشین گیمز بھی قریب ہیں، پاکستان ہاکی ٹیم کو اندرونی اختلافات اور کپتانی کے تنازع سے نکال کر مکمل استحکام فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
موجودہ مینجمنٹ کو اس فیصلے کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ عماد بٹ کو دوبارہ ٹیم کا کپتان مقرر کرنا چاہیے ۔ اور عماد بٹ کا حق اس سے واپس دینا چاہیے ۔ اس وقت سب سے اہم چیز کسی فرد کی انا یا کسی گروپ کی پسند نہیں بلکہ پاکستان ہاکی ٹیم کا مفاد اور مستقبل ہونا چاہیے۔
اولمپیئنز کا کردار — رہنمائی یا مداخلت؟
پاکستان ہاکی کے لیے ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ سابق اولمپیئنز کا موجودہ نظام میں کردار کیا ہونا چاہیے؟
اولمپیئنز ہمارے قومی ہیروز ہیں اور ان کے تجربے سے نئی نسل کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی سابق کھلاڑی مسلسل کئی سالوں سے انتظامی معاملات میں مداخلت کرے، گروپ بندی کو فروغ دے یا ذاتی مفادات کے لیے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کا نقصان پورے قومی کھیل کو ہوتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو لوگ خود کو FIH کوچز کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور گراؤنڈ لیول پر ان کی ترقی کے لیے عملی طور پر کتنا وقت دیتے ہیں؟
پاکستان کو صرف عہدوں، ڈالرز یا بیرونِ ملک مواقع کے لیے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں گراؤنڈ پر کام کرنے والے کوچز اور منتظمین کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں میرٹ، کارکردگی، شفافیت اور قومی مفاد کو ذاتی تعلقات اور گروپ بندی پر فوقیت حاصل ہو۔
ہماری موجودہ مینیجمینٹ جس کی محی الدین احمد وانی قیادت کر رہے ہیں ۔
کہ اب وقت ہے کہ مثبت فیصلے کیے جائیں ۔ اور انصاف پر مبنی اقدام کیے جائیں ۔ اور جن لوگوں نے پاکستان ہاکی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کو ہاکی سے دور رکھا جائے اور میرٹ پے فیصلے کیے جائیں ۔



