
صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ 2025–26: کھیل میدان میں نہیں، فائلوں میں دوڑ رہے ہیں
مسرت اللہ جان
سال 2025–26 کے چھ ماہ پورے ہو چکے ہیں۔ اتنا وقت تو کرکٹ کے میچ میں بارش کی وجہ سے ضائع نہیں ہوتا جتنا وقت ہمارے صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے “سوچنے” میں لگا دیا۔ اگر کوئی پوچھ لے کہ ان چھ ماہ میں کیا ہوا تو جواب بڑا سادہ ہے: فائلیں فِٹ رہیں، افسران فِٹ رہے، بس کھیل ذرا کمزور ہو گئے۔
سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے افسران کو خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے، اور اگر مشکل لگے تو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کر لیں: ہم نے کیا کیا؟ جواب آئے گا، “بہت کچھ کیا ہے، بس نظر نہیں آ رہا۔” کیونکہ جو کام کاغذ پر ہو وہ آنکھ سے کہاں دکھائی دیتا ہے۔
صوبے کے پینتیس اضلاع ہیں اور ہر ضلع کی اپنی الگ کہانی ہے، لیکن انجام سب کا ایک جیسا ہے۔ کہیں ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس ہے مگر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر غائب ہے۔ شاید وہ کھیلوں کے کسی لانگ ٹرم کیمپ پر گئے ہوئے ہیں، جو فائلوں میں چل رہا ہے۔ وہاں کے کھلاڑی پوچھتے ہیں کہ ہمارا افسر کون ہے؟ جواب ملتا ہے،
“آپ فکر نہ کریں، سسٹم خود چل رہا ہے۔”پھر یہی لوگ ٹی وی پر آ کر کہتے ہیں کہ نوجوان منفی سرگرمیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ بھئی جب کھیلوں کا افسر ہی نہیں ہوگا تو نوجوان کس کے ساتھ کھیلے؟ دیواروں سے؟ فائلوں سے؟ یا پھر انہی کلبوں سے جو صرف کاغذوں میں بنتے ہیں؟
ضم اضلاع میں کلبوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر یہ سب حقیقت میں ہوتے تو اولمپکس وہیں شفٹ ہو جاتے۔ کاغذات میں اتنے کلب ہیں کہ پشاور، ایبٹ آباد، مردان اور چارسدہ بھی شرما جائیں۔ مگر میدان میں جائیں تو صرف گھاس ہے، وہ بھی ادھار کی۔مزے کی بات یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ آفس میں پورا عملہ موجود ہے،
تنخواہیں وقت پر ملتی ہیں، چائے بھی گرم ہوتی ہے، بس ایک چیز نہیں ہوتی اور وہ ہے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر۔ لیکن کوئی مسئلہ نہیں، نظام خودکار ہے۔
ڈائریکٹریٹ میں کچھ افسران اتنے “اسپورٹی” ہیں کہ ان کا تبادلہ پشاور اور چارسدہ کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ باقی اضلاع شاید نقشے میں ہی نہیں آتے۔ کبھی بھائی ڈیلی ویج پر بھرتی ہو جاتا ہے،
کبھی بچوں کا نام فائل میں چپکا دیا جاتا ہے۔ اس سب کو کہتے ہیں فیملی اسپورٹس۔بیوروکریسی کا حال یہ ہے کہ وزرا بھی سوچتے ہوں گے کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔ نئے وزیر کو اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ خود ہی ہار مان لیتا ہے۔ افسران مسکرا کر کہتے ہیں، “فکر نہ کریں، سب پالیسی کے مطابق ہے۔”
زیادہ تر اضلاع میں فنڈز بڑے زور و شور سے نکل رہے ہیں، لیکن کھیلوں کی سرگرمیاں چھٹی پر ہیں۔ کھیلوں کی پالیسی 2018 کہتی ہے کہ نوجوانوں کو آگے لانا ہے، مگر یہاں نوجوانوں کو صرف تقریروں میں لایا جا رہا ہے،
میدان میں نہیں۔ہنگو سے ایک کھلاڑی نے ویڈیو بھیجی اور پوچھا کہ ہمارے ضلع کا سپورٹس آفیسر کون ہے؟ یہ سوال سن کر سسٹم کو ہارٹ اٹیک آ جانا چاہیے تھا، مگر کچھ نہیں ہوا۔ یہی حال ٹانک، جنوبی اضلاع، ملاکنڈ اور لوئر دیر کا ہے۔ وہاں کھیل کاغذ پر بہت تیز دوڑ رہے ہیں، مگر کھلاڑی سانس پھولنے کی وجہ سے نظر نہیں آتے۔
ایک سال پہلے رائٹ ٹو انفارمیشن کی درخواست دی گئی۔ جواب آج تک نہیں آیا۔ شاید اس لیے کہ جواب میں بتانا پڑ جاتا کہ دس کمپیوٹر کہاں گئے۔ کمپیوٹر تو گئے، مگر سوال وہیں رہ گیا۔
صوابی میں ہاکی کے نام پر انسانی سمگلنگ کا کیس سامنے آیا۔ کھیلوں کی آڑ میں لاکھوں روپے لے کر لوگ روس اور پھر جرمنی پہنچائے گئے۔ جب یہ کاروبار بند ہوا تو کچھ لوگوں نے گالیاں دیں۔ سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے شاید میچ دیکھا ہو، ایکشن نہیں لیا۔
اسی سال صوابی میں ہاکی ٹرف لگایا گیا۔ لگاتے وقت ہی پھٹا ہوا تھا، اب اور زیادہ خراب ہے۔ نشاندہی ہوئی، تصویریں آئیں، مگر یہاں آنکھیں بند رکھنا قومی کھیل بن چکا ہے۔اگر چھ ماہ کے اخراجات سامنے آ جائیں تو پتا چل جائے گا کہ کھیلوں پر کتنا خرچ ہوا اور ٹی اے ڈی اے، دوروں، میلوں اور تصویروں پر کتنا۔
اس وقت کھیل دبلا ہے، مگر کچھ جیبیں بہت صحت مند ہیں۔نیشنل گیمز میں جو تھوڑی بہت کارکردگی آئی، وہ کسی نظام کی نہیں بلکہ ان کھلاڑیوں کی ضد ہے جو ہر حال میں کھیلتے ہیں۔ ورنہ سسٹم تو پہلے ہی ریٹائر ہو چکا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو آنے والے سالوں میں کھیل صرف فائلوں میں ہوں گے، اور میدانوں میں صرف سوالات۔


