
امپائرنگ میں دیر سے پروموشن، آخر فائدہ کس کا؟
حال ہی میں گریڈ ٹو فائنل کے دوران 59 سالہ پروفیسر ناصر حسین کے چند غلط فیصلوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ان ویڈیوز کا مقصد کسی ایک امپائر کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں،
بلکہ ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ جب امپائرز کو کیریئر کے آخری حصے، یعنی 55، 58 یا 59 سال کی عمر میں اعلیٰ سطح پر پروموٹ کیا جائے،
تو ایسے مسائل سامنے آنا حیران کن نہیں ہوتے۔ امپائرنگ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں تجربے کے ساتھ ساتھ فٹنس، تیز فیصلہ سازی اور مسلسل اعلیٰ سطح پر کام کرنے کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔
گزشتہ سال ہونے والی امپائرز کی پروموشنز آج بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔ یہ سوال کسی فرد کی صلاحیت پر نہیں، بلکہ امپائرنگ ڈپارٹمنٹ پر ہے جس کے تحت امپائرز کو کیریئر کے آخری حصے میں بڑے مواقع دیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ سال ہدایت اللہ (58 سال)، مقبول احمد (56 سال)، ممتاز علی (51 سال) اور نورالحکم (48 سال) کو ایمرجنگ پینل سے سپلیمنٹری پینل میں پروموٹ کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی عمر میں ملنے والی پروموشن پاکستان کے امپائرنگ کے مستقبل کے مفاد میں ہے؟
اگر کسی امپائر کو 58 سال کی عمر میں اعلیٰ سطح پر لایا جائے، جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہو، تو کیا وہ دو سال کے اندر فرسٹ کلاس اور ممکنہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ میں وہ تجربہ حاصل کر سکتا ہے جس کے لیے برسوں درکار ہوتے ہیں؟
اگر میرٹ پر پورا اترنے والے نوجوان امپائرز کو 40 یا 45 سال کی عمر میں اعلیٰ سطح پر پروموٹ کیا جائے تو وہ اگلے 15 سے 20 سال تک پاکستان کرکٹ اور بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ یہی وہ وژن ہے جو دنیا کے کامیاب امپائرنگ سسٹمز اپناتے ہیں۔
یہ بہتر وقت ہے کہ گزشتہ سال ہونے والی پروموشنز سمیت پورے پروموشن سسٹم کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
امید ہے کہ سینئر منیجر ڈومیسٹک، اسامہ شارون نیازی، اور منیجر امپائرز اینڈ ریفریز، عبد الحمید صاحب اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ایسی پروموشن پالیسی بنائیں گے
جس میں میرٹ کے ساتھ ساتھ نوجوان امپائرز کے مستقبل کو بھی ترجیح دی جائے گی، تاکہ پاکستان کو آنے والے برسوں میں عالمی معیار کے امپائرز میسر آ سکیں۔
پاکستان کرکٹ سدا سلامت رہو آمین 💛



