بلوچستان سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس، کھیلوں کے موجودہ نظام پر تشویش کا اظہار

بلوچستان سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس،
کھیلوں کے موجودہ نظام پر تشویش کا اظہار
کوئٹہ: بلوچستان سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس 19 اگست 2026 کو کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں ایسوسی ایشن کے عہدیداران سمیت ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان میں کھیلوں کی موجودہ صورتحال، کھلاڑیوں کو درپیش مسائل، کھیلوں کی سہولیات کی عدم دستیابی اور محکمہ کھیل کے طریقۂ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سال 2025 اور 2026 بلوچستان میں کھیلوں کے زوال کے سال ثابت ہو رہے ہیں۔
کھیلوں کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز جاری ہونے کے باوجود گراؤنڈز میں موجود کھلاڑی بنیادی سہولیات، کھیلوں کا سامان، گراؤنڈز کی مناسب دیکھ بھال اور دیگر ضروری وسائل سے محروم ہیں۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر کھیلوں کے لیے مختص فنڈز واقعی کھلاڑیوں اور کھیلوں کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں تو اس کے اثرات گراؤنڈز میں واضح نظر آنے چاہئیں۔ بدقسمتی سے متعدد کھلاڑی اور کھیلوں کی ایسوسی ایشنز آج بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ محکمہ کھیل میں مبینہ طور پر پسند و ناپسند اور گڈ لسٹ کی بنیاد پر بعض کھلاڑیوں اور ایسوسی ایشنز کو ترجیح دی جا رہی ہے،
جبکہ دیگر کھلاڑیوں اور ایسوسی ایشنز کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ اس کی وابستگی، تعلقات یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
بلوچستان سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ کھیلوں کے صحافی صرف مقابلوں کی رپورٹنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کھلاڑیوں کے جائز حقوق اور مسائل کی آواز بھی بنیں گے۔
جو کھلاڑی اور ایسوسی ایشنز نظرانداز ہو رہے ہیں، ان کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا اور متعلقہ حکام تک ان کی آواز پہنچائی جائے گی۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ محکمہ کھیل بلوچستان کھیلوں کے فنڈز کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائے، تمام کھلاڑیوں اور رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں،
گراؤنڈز کو کھیلوں کے قابل بنایا جائے اور مستحق کھلاڑیوں کو کھیلوں کا ضروری سامان اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔
شرکاء نے کہا کہ "گڈ لسٹ اور بیسٹ” کا مبینہ نظام کسی صورت قابل قبول نہیں، کھیلوں میں میرٹ، شفافیت اور برابری کو بنیادی اصول بنایا جائے۔ جو کھلاڑی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، انہیں کسی سفارش یا ذاتی پسند و ناپسند کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
اجلاس میں بلوچستان کے تمام کھیلوں، کھلاڑیوں اور ایسوسی ایشنز کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرنے، کھیلوں کے مسائل کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے اور متعلقہ حکام سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنے کا عزم کیا گیا۔
آخر میں بلوچستان سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور تمام ممبران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کھیلوں میں ناانصافی، امتیازی سلوک اور کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے کے خلاف آواز بلند کی جائے گی
اور بلوچستان کے نوجوان کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ اجلاس اسی عزم اور اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔



