کرکٹ

لارڈز ٹیسٹ،انجری کے باعث بیٹنگ نہ کرنے پر امام الحق شدید تنقید کی زد میں آگئے

لارڈز ٹیسٹ،انجری کے باعث بیٹنگ نہ کرنے پر امام الحق شدید تنقید کی زد میں آگئے

لارڈز ٹیسٹ میں قومی ٹیم کے اوپنر امام الحق کی جانب سے معمولی پنڈلی کی انجری کے باعث بیٹنگ کے لیے نہ آنے پر کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوئی،

لیکن اس دوران امام الحق کا انجری کے باعث بیٹنگ کے لیے نہ آنا بھی بحث کا مرکز بن گیا۔

سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے امام الحق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ واقعی انجرڈ تھے تو انہیں میچ ہی نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بھی امام کی

انجری پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’’ڈرامے بازی‘‘ قرار دیا ہے۔انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں معمولی پنڈلی کی انجری کے باعث بیٹنگ کے لیے نہ آنے پر قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق کو سابق کرکٹرز اور کرکٹ حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر نے ایک انٹرویو میں امام الحق کی انجری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بیٹنگ کے لیے میدان میں آنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کھلاڑی بازو میں فریکچر کے باوجود بیٹنگ کرچکے ہیں،

ایسے میں امام کم از کم ایک اینڈ سنبھال سکتے تھے اور وکٹ روکنے کی کوشش کرسکتے تھے۔محمد عامر نے کہا کہ اگر امام الحق واقعی انجرڈ تھے تو انہیں میچ ہی نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امام کا بیٹنگ کے لیے نہ آنا ٹیم اور پاکستان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے،

کیونکہ ان کی انجری ایسی نوعیت کی نہیں تھی جس میں بیٹنگ بالکل ناممکن ہو۔سابق فاسٹ بولر نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ہیمسٹرنگ کی تکلیف کے باوجود میچز کھیل چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنڈلی کے معمولی کھچاؤ اور ہیمسٹرنگ انجری میں واضح فرق ہوتا ہے، لیکن جب ٹیم کے لیے میچ اور سیریز بچانے کی صورتحال ہو تو کھلاڑی کو خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔

دوسری جانب سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بھی امام الحق کی انجری پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’’ڈرامے بازی‘‘ قرار دیا ہے۔ محمد وسیم کے مطابق اس نوعیت کا معاملہ پہلے بھی سامنے آچکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امام الحق نے پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی، جس کے بعد پی سی بی کی جانب سے اسکین کرایا گیا اور معمولی کھچاؤ کی نشاندہی ہوئی۔

تاہم بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آنے پر ان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ناقدین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مشکل صورتحال میں امام الحق نے اسٹرائیک نوجوان اوپنر اذان اویس کو دینے کو ترجیح دی۔

ماضی میں بھی کئی کھلاڑی فریکچر اور دیگر سنگین انجریز کے باوجود ٹیم کے لیے بیٹنگ کرچکے ہیں، جس کی وجہ سے امام الحق کے فیصلے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔امام الحق کی حالیہ ٹیسٹ کارکردگی بھی تنقید کی زد میں ہے۔

گزشتہ 8 ٹیسٹ میچز کی دوسری اننگز میں وہ صرف دو مرتبہ ڈبل فگر میں پہنچ سکے اور مجموعی طور پر 45 رنز بناسکے، جبکہ فیلڈنگ کے دوران سلپ میں اہم کیچ چھوڑنے پر بھی انہیں تنقید کا سامنا رہا۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ ناکامی کے بعد اب نظریں صرف اسکور بورڈ پر نہیں بلکہ امام الحق کی انجری اور ان کے بیٹنگ کے لیے نہ آنے کے فیصلے پر بھی مرکوز ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!