سلمان کی سنچری، پاکستان کی جیت، مگر ٹاپ آرڈر پھر ناکام کیوں؟
پاکستان 37 رنز سے جیت گیا، مگر 4 بڑی غلطیوں نے میچ پھنسا دیا تھا

سلمان کی سنچری، پاکستان کی جیت، مگر ٹاپ آرڈر پھر ناکام
راولپنڈی: سہ فریقی ون ڈے ٹرائی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے کر سیریز میں شاندار آغاز کر دیا۔ یہ میچ کل یعنی 18 اکتوبر بروز اتوار کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔
ٹاس جیت کر سری لنکا نے پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جو شروع میں درست فیصلہ لگا۔ پاکستان کے ٹاپ آرڈر نے ایک بار پھر مایوس کیا۔ صائم ایوب 7 اور فخر زمان 16 رنز بنا کر جلد پویلین لوٹ گئے۔
بابر اعظم نے 45 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور اسی دوران انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنے 16,000 رنز مکمل کر لیے، جو ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔
ڈیبیو کرنے والے نوجوان وکٹ کیپر سعد بیگ نے 40 گیندوں پر 39 رنز بنا کر سب کو متاثر کیا، جس میں 3 چوکے اور 2 شاندار چھکے شامل تھے۔
ایک وقت پر پاکستان کا سکور 118 رنز پر 4 وکٹ تھا اور ٹیم مشکل میں نظر آ رہی تھی، تب نائب کپتان سلمان علی آغا میدان میں آئے اور انہوں نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔
سلمان علی آغا کی میچ وننگ سنچری ; سلمان نے نہایت جارحانہ اور سمجھداری سے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 90 گیندوں پر 107 رنز کی شاندار سنچری بنائی، جس میں 10 چوکے اور 1 چھکا شامل تھا۔
انہوں نے پہلے حسن نواز (37 رنز) کے ساتھ 97 رنز اور پھر عرفات منہاس (18 رنز) کے ساتھ 64 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ اسی کی بدولت پاکستان 305 رنز کا مضبوط مجموعہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ سری لنکا کی جانب سے ایشان ملنگا نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔
306 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی شروعات بھی اچھی نہ تھی،لیکن پون رتھنائیکے (79 رنز) اور جنیتھ لیاناگے (60 رنز) نے 119 رنز کی شاندار پارٹنرشپ بنا کر پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا۔
ایسے موقع پر کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کمال باؤلنگ کی۔ شاہین نے 3 وکٹیں، جبکہ نسیم شاہ، حارث رؤف اور فہیم اشرف نے 2-2 وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کو 268 رنز پر آل آؤٹ کر دیا۔
مین آف دی میچ: سلمان علی آغا کو ان کی شاندار سنچری پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔اس جیت کے بعد پاکستان ٹرائی سیریز میں پوائنٹ ٹیبل پر سرفہرست آ گیا ہے۔ پاکستان کا اگلا میچ اب 21 اکتوبر کو اسی گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہوگا۔
سری لنکا نے کیا غلطیاں کیں؟
1. ٹاس جیت کر غلط فیصلہ: راولپنڈی کی پچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی تھی۔ بعد میں اوس پڑنے کی امید پر انہوں نے فیلڈنگ لی، لیکن پچ پر پہلے بیٹنگ کرنا زیادہ بہتر تھا۔
2. اہم کیچز ڈراپ کرنا: سلمان علی آغا جب 42 رنز پر تھے تو ان کا آسان کیچ ڈراپ ہوا۔ اسی کیچ نے میچ کا رخ بدل دیا، کیونکہ اس کے بعد اس نے 65 رنز اور بنا دیے۔
3. ڈیتھ اوورز میں بری باؤلنگ: پاکستان 118 پر 4 آؤٹ تھا، وہاں سے سری لنکا کو 250 تک روکنا چاہیے تھا۔ لیکن ایشان ملنگا کے علاوہ باقی باؤلرز نے آخر میں بہت رنز دے دیے۔ حسن نواز اور عرفات منہاس کے خلاف کوئی پلان نہیں تھا۔
4. بیٹنگ میں پارٹنرشپ کے بعد پینک: پون رتھنائیکے اور جنیتھ لیاناگے کی 119 رنز کی پارٹنرشپ نے میچ بنا دیا تھا۔ 149 پر 2 سے 188 پر 5 آؤٹ ہونا سب سے بڑی غلطی تھی۔ درمیان میں 39 رنز پر 3 وکٹیں گر گئیں اور سارا پریشر واپس آ گیا۔
پاکستان نے کیا غلطیاں کیں؟
1. ٹاپ آرڈر کی مسلسل ناکامی: صائم ایوب 7 اور فخر زمان 16 پر آؤٹ ہو گئے۔ دونوں نے بہت جلد بازی کی۔ پاور پلے کا فائدہ بالکل نہیں اٹھایا گیا۔
2. مڈل اوورز میں سست بیٹنگ: بابر اعظم نے 45 رنز تو بنائے لیکن 57 گیندیں لیں۔ 20 سے 30 اوور کے درمیان پاکستان نے بہت زیادہ ڈاٹ بالز کھیلیں، جس سے پریشر بنا اور سعد بیگ کو غلط شاٹ کھیلنا پڑا۔
3. 118 پر 4 وکٹ کا بحران: ایک وقت پر لگا کہ پاکستان 220 پر آل آؤٹ ہو جائے گا۔ اگر سلمان علی آغا کی سنچری نہ ہوتی تو پاکستان یہ میچ ہار جاتا۔ ٹیم ایک کھلاڑی پر بہت زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
4. نئی گیند سے باؤلنگ میں رنز لیک کرنا: حارث رؤف اور فہیم اشرف نے شروع میں بہت زیادہ شارٹ بالز کیں اور وائیڈ بالز دیں۔ سری لنکا کے اوپنرز کو جلدی آؤٹ کرنے کے بجائے انہیں سیٹ ہونے دیا۔
خلاصہ: پاکستان میچ سلمان علی آغا کی انفرادی کارکردگی کی وجہ سے جیتا، ٹیم گیم سے نہیں۔ اور سری لنکا بنا بنایا میچ فیلڈنگ اور مڈل آرڈر کی غلطیوں سے ہار گیا۔
اگلے میچ کے لیے درستگی کیا کی جائے؟
پاکستان کو کیا درست کرنا چاہیے؟ (انگلینڈ کے خلاف 21 اکتوبر کو)
1. ٹاپ آرڈر کو ذمہ داری لینی ہوگی: صائم اور فخر کو پاور پلے میں جلد بازی کے بجائے کم از کم پہلے 10 اوورز میں وکٹ بچا کر کھیلنا ہوگا۔ 40 رنز پر 2 آؤٹ ہونے سے سارا پریشر بابر اور سلمان پر آ جاتا ہے۔
2. بابر کو اسٹرائیک روٹیٹ کرنا ہوگا: بابر 45 رنز بنا کر سنگ میل عبور کر گئے، لیکن 57 گیندوں پر بہت زیادہ ڈاٹ بالز کھیلیں۔ انگلینڈ کے خلاف ایسا نہیں چلے گا، انہیں مڈل اوورز میں سنگل ڈبل سے اسٹرائیک روٹیٹ کرنی ہوگی۔
3. نئی گیند سے لائن درست رکھنی ہوگی: حارث رؤف اور فہیم نے بہت زیادہ چھوٹی گیندیں کیں۔ انگلینڈ کے اوپنرز اس کو نہیں چھوڑیں گے۔ شاہین اور نسیم کے ساتھ شروع میں وکٹ ٹو وکٹ باؤلنگ کرنی ہوگی۔
سری لنکا کو کیا درست کرنا چاہیے؟
1. کیچ پکڑو، میچ جیتو: سلمان کا 42 رنز پر کیچ چھوڑنا میچ ہارنے کی سب سے بڑی وجہ بنا۔ انگلینڈ یا پاکستان جیسی ٹیموں کے خلاف ایسے کیچ چھوڑ کر میچ نہیں جیتا جا سکتا۔
2. مڈل آرڈر کو ذمہ داری دکھانی ہوگی: 119 رنز کی پارٹنرشپ کے بعد 39 رنز پر 3 وکٹیں گر گئیں۔ ایک پارٹنرشپ ٹوٹنے پر پورا مڈل آرڈر پینک ہو گیا۔ کسی ایک کو آخر تک کھیلنا ہوگا۔



