
محکمہ کھیل کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی گونج بلوچستان اسمبلی تک پہنچ گئی،
بلوچستان اسمبلی میں ہنگامہ – محکمہ کھیل میں بھرتیوں پر سوالات، تحقیقات کا مطالبہ
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان میں ہونے والی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، میرٹ کی خلاف ورزیوں اور فنڈز کے استعمال سے متعلق معاملات پر اراکین اسمبلی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسمبلی کے فلور پر اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر خان ترین، رکن بلوچستان اسمبلی زرک خان مندوخیل، پارلیمانی سیکرٹری اسفندیار کاکڑ سمیت دیگر اراکین نے محکمہ کھیل میں بھرتیوں اور انتظامی امور پر تحفظات کا اظہار کیا۔
اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ اگر بھرتیوں میں میرٹ کو نظرانداز کیا گیا ہے تو یہ بلوچستان کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے، جس کی تحقیقات ضروری ہیں۔
اراکین اسمبلی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اہل نوجوانوں کو ان کے جائز حقوق نہیں ملیں گے تو اس سے سرکاری نظام پر ان کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب مشیر کھیل مینا مجید نے سامنے آنے والے الزامات کو مسترد کیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری اسفندیار کاکڑ کے حوالے سے بھی معاملہ زیرِ بحث آیا، جبکہ بھرتیوں کے طریقہ کار اور میرٹ سے متعلق تحفظات سامنے آئے۔
شکایات کے مطابق بعض اضلاع کی آسامیوں پر مبینہ طور پر دوسرے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کو تعینات کیا گیا، جس سے مقامی امیدواروں کے حقِ روزگار اور بھرتیوں کے شفاف طریقہ کار پر سوالات اٹھے ہیں۔ متعلقہ شکایات کی دستاویزی جانچ اور سرکاری ریکارڈ کی پڑتال کے ذریعے ان دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔
محکمہ کھیل میں بھرتیوں کے علاوہ فنڈز کے استعمال اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے بھی شفافیت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھرتیوں کے اشتہارات، امیدواروں کی اہلیت،
ڈومیسائل، میرٹ لسٹوں، تقرریوں کے احکامات اور مالی ریکارڈ کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
بلوچستان کے نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسمبلی میں اٹھائے گئے
سوالات اور تحفظات کے تناظر میں متعلقہ حکام کی جانب سے واضح جواب، ریکارڈ کی جانچ اور شفاف کارروائی اس معاملے کی حقیقت سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔



