
کراچی کنگز کی تیاری مکمل، میر حمزہ کا ٹیم اور قیادت پر بھرپور اعتماد
لاہور: میر حمزہ نے کراچی کنگز کی تیاریوں اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (ایچ بی ایل پی ایس ایل) 11 کے لیے بھرپور انداز میں خود کو تیار کر رہی ہے۔
لاہور کے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں پریکٹس میچ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر نے کہا کہ عید کے وقفے کے باعث معمولی سست روی کے بعد ٹیم آہستہ آہستہ اپنی ردھم میں واپس آ رہی ہے۔
میر حمزہ نے کہا، “ہماری تیاری اچھی جا رہی ہے اور وارم اپ میچ عین وقت پر ہوا۔ ایک ٹیم کے طور پر ہمیں میچ پریکٹس کی ضرورت تھی اور آج کے میچ نے ہمیں ردھم حاصل کرنے میں کافی مدد دی۔”
پی ایس ایل کے اس سیزن میں ٹیموں کی تعداد آٹھ ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مقابلے کے بڑھتے ہوئے معیار کو تسلیم کیا، تاہم کراچی کنگز کے امکانات کے بارے میں پرامید دکھائی دیے۔
انہوں نے کہا، “ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی یہی خوبصورتی ہے کہ کسی بھی دن یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سی ٹیم سب سے مضبوط ہے۔ تمام فرنچائزز نے مضبوط اسکواڈز تیار کیے ہیں، اس لیے ہمیں ایک سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اس فارمیٹ میں سب کچھ اسی دن کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔”
میر حمزہ نے کپتان ڈیوڈ وارنر کی قیادت پر بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور اسے ٹیم کے لیے ایک بڑا مثبت پہلو قرار دیا۔ وارنر مسلسل دوسرے سیزن میں ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، جب کہ گزشتہ سیزن میں انہوں نے کراچی کنگز کو پلے آف مرحلے تک پہنچایا تھا۔
انہوں نے کہا، “ڈیوڈ وارنر کا دوبارہ کپتان ہونا ہمارے لیے بہت مثبت ہے۔ گزشتہ سیزن میں ان کی قیادت شاندار رہی، اور اب دوسرے سال میں کپتان اور کھلاڑیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔ وہ ایک سپورٹو اور نیچرل لیڈر ہیں، جو خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔”
انہوں نے سلمان علی آغا کی ٹیم میں شمولیت کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی مڈل آرڈر کو مزید مضبوط بنائے گی۔
میر حمزہ کے مطابق، “سلمان علی آغا کی شمولیت ہمارے لیے ایک بڑا اضافہ ہے۔ وہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کو تقویت دیتے ہیں اور طویل اننگز کھیلنے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر تیز رفتار بیٹنگ کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔”
موسمی حالات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میر حمزہ نے کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے ہر صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، “موسم ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتا ہے، اور ہمیں ہر طرح کے حالات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔ دن کے میچز خاص طور پر گرمی کی وجہ سے مشکل ہوتے ہیں، اسی لیے ہم نے نیٹ سیشنز کے بجائے میچ پریکٹس کو ترجیح دی تاکہ کھلاڑی میچ کنڈیشنز کے عادی ہو سکیں اور بہتر انداز میں خود کو ڈھال سکیں۔”



