کرکٹ

کپتان بنائے نہیں جاتے، پیدا ہوتے ہیں ; تحریر: فرحان فرید – اسپورٹس جرنلسٹ کراچی

 کپتان بنائے نہیں جاتے، پیدا ہوتے ہیں ; تحریر: فرحان فرید – اسپورٹس جرنلسٹ کراچی

خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں کپتان، کپتان بنائے نہیں جاتے، وہ قدرتی طور پر ایسی صلاحیتیں رکھتے ہیں کہ وہ ٹیم کو لیڈ کریں۔

پاکستان کی ایک تلخ تاریخ رہی ہے کہ جب بھی پاکستان کو اچھے کپتان ملے تو ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور انہیں ہٹایا گیا۔ سب سے پہلے ہم ذکر کرتے ہیں مشتاق محمد کا، جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو نئی سوچ دی۔ اس کے بعد جاوید میانداد کے خلاف دو دفعہ بغاوت ہوئی۔

پھر گریٹ یونس خان کو بھی ٹیم کے اندر بغاوت کر کے ہٹایا گیا، اور سرفراز احمد 11 مسلسل T20 سیریز جتوانے کے بعد بھی اسی سازش کا شکار ہو گئے۔

1980 سے 1992 تک پاکستان کی ٹیم کی کپتانی صرف دو عظیم کپتانوں نے کی، عمران خان اور جاوید میانداد۔ پھر جاوید میانداد کے خلاف بغاوت ہوئی۔

اور پھر وسیم اکرم کے خلاف جسٹس قیوم رپورٹ کا ایک بڑا فیصلہ کہ انہیں کبھی پاکستان ٹیم کا کپتان نہیں بنایا جائے، جس نے پاکستانی کرکٹ کو بہت نقصان پہنچایا۔

پھر یونس خان ایک بڑی بغاوت کا شکار ہو گئے، سرفراز احمد بھی اسی گند کا شکار ہوئے۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ایسے تبدیل ہوئے جیسے کوئی ٹیم کا اوپننگ بلے باز تبدیل ہوتا ہے، اور اس کے بعد پاکستان کی ٹیم سنبھل نہیں سکی۔

سیاسی مداخلت، دو نہیں بلکہ تین سیاسی پارٹیوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی رہی سہی کسر پوری کر دی، آج ہم پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!