کرکٹ

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر وزیر محمد 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

حنیف محمد. مشتاق محمد. صادق محمد کے بھائی پاکستان کے ابتدائی دور کے معروف کرکٹر
وزیر محمد 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ملتان (اظہار عباسی سے) پاکستان کے ابتدائی دور کے معروف کرکٹر وزیر محمد 95سال کی عمر میں انتقال کر گئے
وزیر محمد نے پاکستان کی جانب سے 20 ٹیسٹ میچز کھیلے، وہ ان ابتدائی کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے ملک کی بین الاقوامی کرکٹ کی بنیاد رکھی۔

ان کے بھائیوں میں حنیف محمد، مشتاق محمد، صادق محمد اور رئیس محمد شامل ہیں۔ رئیس محمد واحد بھائی تھے جنہوں نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ نہیں کھیلا، جبکہ حنیف محمد 2016 میں وفات پا گئے تھے۔

وزیر محمد مڈل آرڈر بیٹر تھے۔ ان کی ٹیسٹ اوسط 27.62 تھی، لیکن ان کی اننگز کئی تاریخی مواقع پر پاکستان کے لیے یادگار ثابت ہوئیں۔

ان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں اوسط 40 رہی، جو ان کی اصل صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار ان کے بڑے مداحوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

ان کی سب سے یادگار اننگز 1954 میں انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ میں سامنے آئی، جب پاکستان نے پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ جیتا۔

فاضل محمود کی 12 وکٹوں کی شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ وزیر محمد کی مزاحمتی اننگز نے پاکستان کو کامیابی کی راہ دکھائی۔ انہوں نے آخری دو وکٹوں کے ساتھ مل کر پاکستان کا اسکور دگنا کیا اور چار گھنٹے میں ناقابلِ شکست 42 رنز بنائے، جس کی بدولت پاکستان نے تاریخی طور پر 24 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

اسی طرح 1956-57 میں کراچی ٹیسٹ کے دوران آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے کپتان کاردار کے ساتھ 104 رنز کی شراکت قائم کی۔ اس میچ میں ان کے 67 رنز میچ کی دوسری بڑی اننگز تھی، جس کی بدولت پاکستان نے آسٹریلیا کو نو وکٹوں سے شکست دی۔

ان کی بہترین کارکردگی 1957-58 کے ویسٹ انڈیز کے دورے میں سامنے آئی، جہاں انہوں نے 440 رنز بنائے، جن میں دو سنچریاں اور ایک 97 ناٹ آؤٹ شامل تھا۔

اسی سیریز میں حنیف محمد نے اپنا تاریخی 337 رنز بنایا، جبکہ وزیر محمد نے بھی اس اننگز میں اہم شراکت داری نبھائی۔ پورٹ آف اسپین میں ان کی 189 رنز کی اننگز نے پاکستان کو فتح دلائی۔

اپنے کیریئر کے اختتامی مرحلے میں وہ نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے جگہ چھوڑ گئے، جن میں ان کے بھائی مشتاق محمد بھی شامل تھے، جنہوں نے وزیر کے ساتھ اپنا ڈیبیو ٹیسٹ کھیلا۔

وزیر محمد کو شائقین کرکٹ پیار سے "وزڈن” بھی کہا کرتے تھے کیونکہ انہیں اعدادوشمار اور کرکٹ کی تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ وہ 1964 تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے اور بعد ازاں برمنگھم (انگلینڈ) میں سکونت اختیار کی۔
پاکستان کرکٹ کے ابتدائی سنہری دور کے اس عظیم کردار کے انتقال سے شائقین کرکٹ نے ایک اور تاریخی نام کھو دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!