Tag: cricket news

  • رائل چیلنجرز بنگلورو مسلسل دوسری بار انڈین پریمیئر لیگ کی چیمپین بن گئی.

    رائل چیلنجرز بنگلورو مسلسل دوسری بار انڈین پریمیئر لیگ کی چیمپین بن گئی.

    رائل چیلنجرز بنگلورو مسلسل دوسری بار انڈین پریمیئر لیگ کی چیمپین بن گئی

    احمد آباد: احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں، رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) نے گجرات ٹائٹنز (GT) کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار چیمپئن کا تاج اپنے نام کیا۔

    اس جیت کے ساتھ، آر سی بی تیسری ٹیم بن گئی ہے جس نے ممبئی انڈینز اور چنئی سپر کنگز کے بعد اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ اس سے پہلے،

    ایم ایس دھونی نے 2010 اور 2011 میں چنئی سپر کنگز کی بیک ٹو بیک چیمپئن شپ میں قیادت کی تھی، اس کے بعد روہت شرما تھے، جنہوں نے 2019 اور 2020 میں ممبئی کے لیے لگاتار ٹائٹل حاصل کیے تھے۔

    فائنل میچ میں، پانچ وکٹ ہاتھ میں رکھتے ہوئے ویراٹ کوہلی کی 75 رنز کی شاندار ناقابل شکست اننگز کی بدولت آر سی بی نے 18ویں اوور میں 156 رنز کا ہدف آرام سے حاصل کر لیا۔

    اس میچ جیتنے والی کارکردگی کے لیے ویراٹ کو ‘پلیئر آف دی میچ’ کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ ویراٹ کے علاوہ وینکٹیش ایر نے 16 گیندوں پر 32 رنز کی اہم اننگز کھیلی جبکہ ٹم ڈیوڈ نے 17 گیندوں پر 24 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔

    دونوں کھلاڑیوں نے ویراٹ کے ساتھ اہم شراکت داری بھی قائم کی۔ ائیر نے کوہلی کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے 27 گیندوں پر 62 رنز کی شراکت کی، جبکہ ڈیوڈ نے کوہلی کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 31 گیندوں پر 41 رنز کی شراکت داری کی۔

    ویراٹ کوہلی نے 75 رنز بنانے کے لیے صرف 42 گیندوں کا سامنا کیا، یہ اننگز 9 چوکوں اور 3 چھکوں سے بھری ہوئی تھی۔ بولنگ ڈپارٹمنٹ میں راسخ سلام نے آر سی بی کی جانب سے 3 جبکہ بھونیشور کمار اور ہیزل ووڈ نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

    اس سے قبل میچ میں، آر سی بی نے ٹاس جیت کر گجرات کر پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ گجرات نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے۔ واشنگٹن سندر 37 گیندوں پر 50 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔

    اس کے علاوہ، کوئی اور بلے باز زیادہ دیر تک کریز پر نہیں ٹھہر سکا، جس نے آخر کار گجرات کو آر سی بی کے خلاف زبردست ٹوٹل بنانے سے روک دیا۔

    واضح رہے کہ آر سی بی نے گزشتہ سال فائنل میں پنجاب کنگز کو شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا آئی پی ایل ٹائٹل جیتا تھا جبکہ اب ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرکے فرنچائز نے ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا۔

  • جنوبی افریقا نے پانچویں ٹی20 میں نیوزی لینڈ کو ہراکر سیریز اپنے نام کرلی

    جنوبی افریقا نے پانچویں ٹی20 میں نیوزی لینڈ کو ہراکر سیریز اپنے نام کرلی

    جنوبی افریقا نے پانچویں ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔

    کرائسٹ چرچ کے تاریخی ہیگلے اوول اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹی20 میچ میں جنوبی افریقا نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پانچ میچوں پر مشتمل سیریز اپنے نام کر لی.

    اس فتح کے ساتھ مہمان ٹیم نے سیریز میں برتری حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 2-3 سے کامیابی سمیٹی اور حریف ٹیم کے میدان میں ہی اس کی امیدوں کا خاتمہ کر دیا۔

    میچ کا آغاز میزبان نیوزی لینڈ کے ٹاس جیتنے کے ساتھ ہوا، جس کے بعد انہوں نے جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پروٹیز بیٹنگ لائن اپ نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز کا مضبوط مجموعہ ترتیب دیا۔

    جنوبی افریقا کی اننگز میں کونر اسٹرہوئیزن نمایاں رہے جنہوں نے محض 33 گیندوں پر 75 رنز کی برق رفتار اور جارحانہ اننگ کھیل کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کر دی۔ ان کے ساتھ روبن ہرمین نے 39 رنز جبکہ ویان ملڈر نے 31 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر اسکور کو آگے بڑھایا اور ٹیم کو ایک مشکل مگر مسابقتی ہدف تک پہنچایا۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے بولنگ میں بین سیئرز سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ زیک فولکس اور جوش کلارکسن ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے، تاہم وہ جنوبی افریقی بیٹنگ کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہے۔

    ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار نظر آئی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں، جس کے باعث میزبان ٹیم مطلوبہ رن ریٹ برقرار نہ رکھ سکی۔ پوری ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 154 رنز تک محدود رہی اور یوں ہدف سے کافی پیچھے رہ گئی۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے بیون جیکبس 36 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے، جبکہ ٹم روبنسن نے 25 اور کپتان جیمز نیشم نے 24 رنز بنائے، تاہم یہ انفرادی کاوشیں ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکیں۔

    جنوبی افریقا کی جانب سے بولنگ میں شاندار کارکردگی دکھائی گئی، جہاں جیرالڈ کوئٹزے، ویان ملڈر اور اوٹنیل بارٹمین نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کیشو مہاراج نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    ٹیم کی منظم بولنگ اور جارحانہ بیٹنگ نے مجموعی طور پر اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جنوبی افریقا نے نہ صرف میچ بلکہ سیریز بھی اپنے نام کر لی۔

  • انگلینڈ کے بین ڈکٹ کا آئی پی ایل سے دستبرداری کا اعلان

    انگلینڈ کے بین ڈکٹ کا آئی پی ایل سے دستبرداری کا اعلان

    انگلینڈ کے تجربہ کار کرکٹر بین ڈکٹ نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔

    انگلش کرکٹر کا آئی پی ایل میں دلی کیپیٹلز کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا تاہم انہوں نے اپنی عدم دستیابی سے فرنچائز کو آگاہ کردیا ہے۔

    بین ڈکٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا انگلینڈ کا کیریئر بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور وہ ٹیم کے تمام ارکان سے معذرت خواہ ہیں کہ وہ اس سیزن میں ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔

    انگلش بیٹر نے مزید کہا کہ انہوں نے اس فیصلے کے بارے میں کافی سوچ بچار کی ہے اور یہ ان کے کیریئر کے لیے بہترین فیصلہ ہے۔

    آئی پی ایل سے دستبرداری کی وجہ سے بین ڈکٹ دو لاکھ پاؤنڈز سے محروم ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ 2029 تک آئی پی ایل میں کھیلنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ بین ڈکٹ نے پاکستان کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

  • انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان اب کیسے سیمی فائنل میں جا سکتا ہے؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان اب کیسے سیمی فائنل میں جا سکتا ہے؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان اب کیسے سیمی فائنل میں جا سکتا ہے؟

    ٹی20ورلڈ کپ سپر8 مرحلے کے میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کے لیے سیمی فائنل میں جگہ بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

    منگل کو کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی، جس کے بعد سیمی فائنل تک پہنچنا اب پاکستان کے لیے صرف اپنے آخری میچ کے نتائج پر نہیں بلکہ گروپ میں دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی منحصر ہو گیا ہے۔

    اس وقت گروپ 2 میں انگلینڈ دونوں میچ جیت کر 4 پوائنٹس کے ساتھ سرِ فہرست ہے، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے پاس ایک ایک پوائنٹ ہے جبکہ سری لنکا نے ابھی تک کوئی میچ نہیں جیتا۔

    پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو شکست دے۔

    اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ انگلینڈ اپنے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کو شکست دے، جبکہ سری لنکا بھی نیوزی لینڈ کو ہرائے۔

    ایسی صورت میں پاکستان کے 3 پوائنٹس ہوں گے اور وہ سیمی فائنل میں جگہ بنا لے گا، جبکہ نیوزی لینڈ صفر اور سری لنکا کے 2 پوائنٹس ہوں گے۔

    اگر انگلینڈ نیوزی لینڈ کو ہرا دے لیکن نیوزی لینڈ سری لنکا کو شکست دے دیتا ہے، تو پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں کے 3، 3 پوائنٹس ہو جائیں گے اور سیمی فائنل میں جگہ کا فیصلہ رن ریٹ کے حساب سے ہوگا۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ: سری لنکا نے آسٹریلیا کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    ٹی 20 ورلڈ کپ: سری لنکا نے آسٹریلیا کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا کو ایونٹ میں دوسری شکست کا سامنا

    پالی کیلے: ٹی 20 ورلڈ کپ کے 30ویں میچ میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    پالی کیلے میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا 182 رنز کا ہدف سری لنکا نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 2 اوور پہلے ہی حاصل کرلیا،

    پتھم نسانکا نے ناقابل شکست 52 گیندوں پر 100 رنز کی اننگز کھیلی، ان کی اننگ میں 10 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔

    سری لنکا کی جانب سے کوشل مینڈس 38 گیندوں پر 51 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، کوشل پریرا ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے، پون رتنائیکے 28 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے دونوں وکٹیں مارکوس اسٹوئنس نے حاصل کی۔

    قبل ازیں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 181 رنز بنائے تھے اور سری لنکا کو جیت کے لیے 182 رنز کا ہدف دیا تھا، کپتان مچل مارش اور ٹریوس ہیڈ کی نصف سنچریاں رائیگاں گئیں، جوش انگلس نے 27، میکسویل نے 22 رنز بنائے۔

    سری لنکا کی جانب سے دسن شناکا نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، چمیرا نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

  • پنجاب کی پہلی پریمیئر لیگ کا شاندار آغاز

    پنجاب کی پہلی پریمیئر لیگ کا شاندار آغاز

    پنجاب کی پہلی پریمیئر لیگ کا شاندار آغاز

    لیگ کا آغاز 18 فروری سے ہوگا اور مجموعی طور پر 33 میچز کھیلے جائیں گے

    لاہور ; پنجاب حکومت کے زیر اہتمام صوبے کی پہلی پریمیئر لیگ (پی پی ایل) کی افتتاحی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی، جہاں وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین نے پہلے سیزن کی ٹرافی کی باقاعدہ رونمائی کی۔

    تقریب میں اعلیٰ سرکاری افسران اور مختلف محکموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

    افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل آئی جی، سی او او روڈا، وائس چیئرمین واسا، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، ڈی جی واسا پنجاب سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

    اس موقع پر بلال یاسین کا کہنا تھا کہ بسنت فیسٹیول کی کامیابی کے بعد اب صوبے میں کرکٹ کا جوش و خروش شروع ہونے جا رہا ہے، جو سرکاری ملازمین کے لیے ایک مثبت اور صحت مند سرگرمی ثابت ہوگا۔

    پنجاب پریمیئر لیگ میں پنجاب حکومت کے 12 مختلف محکموں کے افسران اور ملازمین اپنی ٹیموں کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ لیگ کا آغاز 18 فروری سے ہوگا اور مجموعی طور پر 33 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل مقابلہ مارچ میں منعقد ہوگا۔

    تمام میچز لاہور کے ای ایم ای اور ڈی ایچ اے گراؤنڈ میں کھیلے جائیں گے۔

    شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ ایونٹ نہ صرف سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے گا بلکہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے ذریعے صحت مند ماحول کو بھی تقویت ملے گی۔

  • وہ میچز جو کبھی کھیلے ہی نہ جا سکے، انٹرنیشنل کرکٹ کے متنازع بائیکاٹس

    وہ میچز جو کبھی کھیلے ہی نہ جا سکے، انٹرنیشنل کرکٹ کے متنازع بائیکاٹس

    وہ میچز جو کبھی کھیلے ہی نہ جا سکے، انٹرنیشنل کرکٹ کے متنازع بائیکاٹس

    انٹرنیشنل کرکٹ میں سیاسی، سیکیورٹی اور اخلاقی وجوہات کی بنیاد پر میچز اور ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ کی روایت کوئی نئی نہیں۔ مختلف ادوار میں کئی ممالک نے حالات یا اصولی مؤقف کے تحت کرکٹ مقابلوں سے دستبرداری اختیار کی۔

    رپورٹ کے مطابق 1979 میں سری لنکا نے آئی سی سی ٹرافی میں اسرائیل کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا اور پوائنٹس قربان کیے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے مختلف وجوہات کی بنا پر بعض میچز چھوڑے۔

    1982 کے ویمنز ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی خواتین ٹیم کو مدعو کیا گیا، تاہم اس نے احتجاجاً شرکت نہیں کی، جبکہ نیدرلینڈز مالی مسائل کے باعث شامل نہ ہو سکا۔

    دونوں ٹیموں کی جگہ ایک انٹرنیشنل الیون تشکیل دی گئی، جس میں بھارت، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور نیدرلینڈز کے کھلاڑی شامل تھے۔

    1986 میں بھارت نے سری لنکا میں منعقدہ ایشیا کپ میں شرکت سے انکار کیا، جس کی وجہ وہاں تامل باشندوں کے ساتھ سلوک پر تحفظات بتائے گئے۔ اس کے دو سال بعد 1988 میں بھارتی ویمنز ٹیم نے بھی ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیا۔

    1990-91 کے ایشیا کپ سے پاکستان دستبردار ہوا، جبکہ 1993 کا ایشیا کپ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور ممبئی بم دھماکوں کے باعث مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔

    1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سری لنکا میں اپنے گروپ میچز کھیلنے سے انکار کر دیا، اس وقت ملک خانہ جنگی کا شکار تھا۔ بعد ازاں سری لنکا نے لاہور میں فائنل کھیل کر آسٹریلیا کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔

    2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے زمبابوے کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا، جس کی وجہ صدر رابرٹ موگابے کی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بتائے گئے۔ اسی ایونٹ میں نیوزی لینڈ نے بھی کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے باعث کینیا کا دورہ نہیں کیا۔

    2009 میں انگلینڈ میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں زمبابوے کی ٹیم ویزا مسائل کے باعث شرکت نہ کر سکی، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔

    اسی طرح 2016 میں ڈھاکا کی خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث آسٹریلیا انڈر 19 ٹیم نے ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا اور اس کی جگہ آئرلینڈ کو موقع دیا گیا۔

    حالیہ برسوں میں بھی ایسی مثالیں سامنے آئیں۔ 2022 میں نیوزی لینڈ نے سخت قرنطینہ پابندیوں کے باعث ویسٹ انڈیز میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی، جس کے بعد ایک بار پھر اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا۔

    کرکٹ کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ کھیل کے میدان سے باہر کے عوامل کئی بار میدان کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔

  • پال اسٹرلنگ سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے

    پال اسٹرلنگ سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے

    پال اسٹرلنگ سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے

    آئرلینڈ کے کپتان پال اسٹرلنگ نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نیا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے اور وہ مختصر ترین فارمیٹ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

    یہ اعزاز آئرلینڈ کے کپتان پال اسٹرلنگ نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کھیلے گئے میچ کے ساتھ حاصل کیا، جو ان کے کیریئر کا 160 واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلہ تھا۔

    اس کامیابی کے ساتھ ہی 35 سالہ پال اسٹرلنگ نے بھارت کے سابق کپتان روہت شرما کو پیچھے چھوڑ دیا، جن کے نام 159 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کا ریکارڈ تھا، روہت شرما 2024 میں اس فارمیٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں، جس کے بعد یہ ریکارڈ اسٹرلنگ کے لیے حاصل کرنا ممکن ہوا۔

    پال اسٹرلنگ نے اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز 2009 میں پاکستان کے خلاف کیا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ نہ صرف آئرلینڈ کرکٹ کے اہم ستون بنے بلکہ عالمی سطح پر بھی مختصر فارمیٹ کے سب سے تجربہ کار کھلاڑیوں میں شمار ہونے لگے۔ ان کی مستقل مزاجی اور فٹنس نے انہیں طویل عرصے تک بین الاقوامی کرکٹ میں نمایاں مقام دلایا۔

    اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پال اسٹرلنگ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کے آل ٹائم رن اسکوررز کی فہرست میں چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ وہ اب تک 3 ہزار 874 رنز اسکور کر چکے ہیں، جن میں ایک شاندار سنچری اور 24 نصف سنچریاں شامل ہیں، جو ان کی جارحانہ بیٹنگ اور میچ وننگ صلاحیت کا واضح ثبوت ہیں۔

    پال اسٹرلنگ کا یہ سنگِ میل نہ صرف آئرلینڈ کرکٹ کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں بھی ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ان کی طویل وابستگی، کارکردگی اور عالمی کرکٹ میں مقام کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

  • پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل

    پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل

    پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل

    پاکستان ٹیم میں آج 3 تبدیلیاں کی گئی ہیں، فہیم اشرف،

    نسیم شاہ اورعثمان طارق ٹیم میں شامل۔

    لاہور: پاکستان نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

    پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جس میں مہمان ٹیم کو باآسانی 90 رنز سے شکست دے کر پاکستان نے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔

    اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا اور پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان ہر 198 رنز اسکور کیے۔

    کپتان سلمان علی آغا جارحانہ 76 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے، عثمان خان نے بھی بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور نصف سنچری کی بدولت 53 رنز اسکور کیے۔

    علاوہ ازیں صائم ایوب 23، صاحبزادہ فرحان 5 اور بابر اعظم 2 رنز بناکر پویلین لوٹے جب کہ شاداب خان نے 28 اور محمد نواز نے 9 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔

    آسٹریلیا کی جانب سے ایڈم زیمپا، کُوپر کونولی، میتھیو کونمین، شان ایبٹ اور زیویئر بارٹلیٹ نے 1، 1 وکٹ حاصل۔

    199 رنز کے تعاقب میں مہمان ٹیم 15.4 اوورز میں 108 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئی، کیمرون گرین 35، مچل مارش 18، ٹریوس ہیڈ 4 اور جوش انگلس نے 5 رنز کی اننگز کھیلی جب کہکوپر کونولی ایک رن ہی بناسکے۔

    پاکستان کی جانب سے شاداب خان اور ابرار احمد نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3،3 وکٹیں حاصل کی جب کہ عثمان طارق نے کھلاڑیوں کا شکار کیا، صائم ایوب اور محمد نواز ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔

    اس سے قبل ٹاس کے موقع پر قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ میچ جیت کر سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے، کوشش ہوگی آسٹریلیا کو اچھا ہدف دیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ٹیم میں آج 3 تبدیلیاں کی گئی تھیں، فخرزمان، شاہین آفریدی اور سلمان مرزا کی جگہ فہیم اشرف، نسیم شاہ اورعثمان طارق کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

    اس سے قبل پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دے دی تھی۔

    پاکستان کی پلیئنگ الیون ;  اس میچ میں پاکستان کی پلیئنگ الیون میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان علی آغا (کپتان)، بابر اعظم، عثمان خان (وکٹ کیپر)، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، نسیم شاہ، عثمان طارق اور ابرار احمد شامل تھے۔

    آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون ; اس میچ میں آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون میں مچل مارش (کپتان)، ٹریوس ہیڈ، کیمرون گرین، جوش انگلس (وکٹ کیپر)، میٹ رینشا، کوپر کونولی، میتھیو شارٹ، زیویئر بارٹلیٹ، شان ایبٹ، میتھیو کنیمن اور ایڈم زمپا شامل تھے۔

  • ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے امریکا نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے امریکا نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ٹی20 ورلڈ کپ 2026، امریکا نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    امریکا نے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، ٹیم کی قیادت مونانک پٹیل کریں گے۔

    امریکا کی جانب سے اعلان کردہ اسکواڈ میں تجربہ کار اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں شایان جہانگیر، جسدیپ سنگھ، ستیجا مکھاملا، سوربھ نیتھراالواکر، اینڈریز گاؤس،

    سنجے کرشنامورتی، علی خان، شیہن جےسوریا، حرمت سنگھ، محمد محسن، ملند کمار، نوستش کینجیگے، شبھم رنجنے اور شادلے وین شالک ویک شامل ہیں۔

    امریکی ٹیم حالیہ برسوں میں ٹی 20 کرکٹ میں تیزی سے ابھری ہے اور اس اسکواڈ کے اعلان کے بعد شائقین کو توقع ہے کہ امریکا ورلڈ کپ میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔

    یاد رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 7 فروری سے ہوگا، 7 فروری سے 8 مارچ تک جاری رہنے والے ورلڈ کپ کی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر میزبانی کررہے ہیں

error: Content is protected !!