35ویں نیشنل گیمز: بلوچستان کی ویمن والی بال اور ویمن ہاکی ٹیموں میں ایک ہی کھلاڑی کی شمولیت
سنگین سوالات نے جنم لے لیا

35ویں نیشنل گیمز: بلوچستان کی ویمن والی بال اور ویمن ہاکی ٹیموں میں ایک ہی کھلاڑی کی شمولیت—سنگین سوالات نے جنم لے لیا
کوئٹہ: 35ویں نیشنل گیمز میں بلوچستان کی ویمن والی بال اور ویمن ہاکی ٹیموں میں ایک ہی کھلاڑی کی بار بار شمولیت نے صوبائی اسپورٹس نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کیا بلوچستان میں باقی باصلاحیت خواتین کھلاڑی موجود نہیں؟ یا پھر متعلقہ حکام نے دیگر کھلاڑیوں کا حق شعوری طور پر نظرانداز کیا ہے؟
باوثوق ذرائع کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف میرٹ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ صوبے میں خواتین اسپورٹس کے فروغ پر بھی سنگین سوالیہ نشان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سلیکشن کمیٹیاں چند مخصوص ناموں تک محدود رہیں تو بلوچستان کے سینکڑوں محنت کرنے والی کھلاڑیوں کی حق تلفی ہوتی رہے گی۔
اس معاملے پر ذمہ داری کا تعین کون کرے گا؟ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ، متعلقہ فیڈریشنز یا پھر وہ عہدیداران جو میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں؟
کھلاڑیوں نے بھی مطالبہ کیا ہے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر برائے کھیل و امور نوجوانان بلوچستان مینا مجید بلوچ سے کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے اور اصل حق دار کھلاڑیوں کو ان کا حق دلایا جائے۔



