پی ایس ایل فرنچائز کے حصول کے لیے آسٹریلیا سے آئے حمزہ مجید کی بڑی پیش قدمی
، پاکستان میں کرکٹ اور معیشت کے فروغ کا عزم

پی ایس ایل فرنچائز کے حصول کے لیے آسٹریلیا سے آئے حمزہ مجید کی بڑی پیش قدمی،
پاکستان میں کرکٹ اور معیشت کے فروغ کا عزم
لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ایک نئی فرنچائز کے حصول کے لیے بولی کے عمل میں شامل معروف بزنس مین اور اسپورٹس انویسٹر حمزہ مجید نے پاکستان میں کرکٹ کے فروغ اور معیشت میں مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ مجید نے کہا کہ وہ خصوصی طور پر آسٹریلیا سے پاکستان آئے ہیں تاکہ پی ایس ایل کے ذریعے ملک میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ وہ کسی کنسورشیم کے ساتھ نہیں بلکہ انفرادی طور پر پی ایس ایل فرنچائز کے لیے بڈ کر رہے ہیں، اور ان کی کوشش ہو گی کہ ٹیم خرید کر اسے مکمل طور پر پروفیشنل اور جدید اسپورٹس ماڈل کے تحت چلایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک ماہر ٹیم گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
ہم پوری کوشش کریں گے کہ ٹیم نہ صرف مقابلے جیتے بلکہ ایک مضبوط، منظم اور کامیاب فرنچائز بنے۔ اگر کسی وجہ سے کامیابی نہ بھی ملی تو بھی اسپورٹس کے لیے ہمارا جذبہ اور مشن جاری رہے گا۔”
حمزہ مجید نے بتایا کہ وہ ماضی میں آسٹریلیا اور انگلینڈ میں مختلف اسپورٹس سرگرمیوں اور سرمایہ کاری سے وابستہ رہے ہیں، اور اب وہ اپنا تجربہ پاکستان میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے اور وہ مختلف شہروں میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرا تعلق پنجاب سے ہے، اور اگر ہم فرنچائز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کوشش ہو گی کہ ٹیم کا نام پنجاب کے کسی شہر، خصوصاً فیصل آباد یا سیالکوٹ، سے منسوب کیا جائے۔”
حمزہ مجید نے یہ بھی بتایا کہ وہ پہلے لاہور قلندرز کو فالو کرتے رہے ہیں اور ان کے ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ ماڈل سے خاصا متاثر ہیں۔ “ہم بھی یہی کوشش کریں گے کہ نیا اور ابھرتا ہوا ٹیلنٹ سامنے لائیں اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مواقع فراہم کریں۔”
کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ مجید نے کہا کہ ڈرافٹ سسٹم سب سے شفاف اور منصفانہ طریقہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تمام کھلاڑیوں کو برابری کے مواقع میسر آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ترجیح ہو گی کہ ٹیم کے لیے پاکستانی کوچز اور مقامی ٹیلنٹ کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیے جائیں۔
آخر میں حمزہ مجید نے کہا کہ پی ایس ایل نہ صرف کرکٹ بلکہ پاکستان کی مثبت عالمی شناخت اور معیشت کے لیے بھی ایک اہم برانڈ ہے، اور وہ اس سفر کا حصہ بن کر فخر محسوس کریں گے۔



