
ای اسپورٹس کی عالمی دنیا میں پاکستان کا ڈیبیو: پی ایف ایف نے ٹیم فائنل کر لی
لاہور: پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے بین الاقوامی سطح پر مسابقتی فٹ بال گیمنگ (Esports) میں پاکستان کی باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی چار رکنی ٹیم "فیفا ای نیشنز لیگ” میں ملک کی نمائندگی کرے گی، جو فیفا کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ای اسپورٹس کے معتبر ترین عالمی مقابلوں میں سے ایک ہے۔
اس سنگ میل پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی کا کہنا تھا کہ: "پاکستان میں ہمیشہ سے ٹیلنٹ موجود رہا ہے۔ اب ہم اس ٹیلنٹ کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں جہاں وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں اور فخر کے ساتھ ملک کی نمائندگی کر سکیں۔”
یہ اقدام پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی کی اس اسٹریٹجک تبدیلی کا حصہ ہے جس کا مقصد فٹ بال کے ایک ایسے ایکو سسٹم کی تعمیر ہے جو محض میدانِ عمل تک محدود نہ ہو۔
نئی حکمت عملی کے تحت ای اسپورٹس کو پاکستان کے فٹ بال انفراسٹرکچر کی توسیع کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل دور سے وابستہ نوجوان نسل کو فٹ بال سے جوڑنے کے لیے یہ ایک کلیدی قدم ہے۔
صدر گیلانی کی ہدایت پر فیڈریشن نے فیفا ای مقابلوں میں شرکت کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی تیاری، کھلاڑیوں کی نشاندہی اور تمام تکنیکی شرائط کو برق رفتاری سے مکمل کیا۔
صدر پی ایف ایف نے مزید کہا کہ "ای اسپورٹس وہ میدان ہے جہاں لاکھوں پاکستانی نوجوان پہلے سے موجود ہیں۔ بطور فیڈریشن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں وہاں جا کر سپورٹ کریں اور انہیں مقابلے کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کریں۔”
پی ایف ایف ای اسپورٹس کے مینیجر شاہزیب رضا نے ٹیم کی تشکیل کے حوالے سے بتایا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہمارے پارٹنر ‘ریپٹر گیمز’ (Raptr Games) کے تعاون سے منعقدہ سخت نیشنل ٹرائلز کے ذریعے کیا گیا ہے۔
ان ٹرائلز میں ملک بھر سے مجموعی طور پر 178 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جن میں سے بہترین کارکردگی دکھانے والے چار کھلاڑیوں کو پاکستان کی پہلی ای اسپورٹس ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
شاہزیب رضا کا مزید کہنا تھا کہ "فیفا ای نیشنز لیگ ہمارے مستقبل کے روڈ میپ کا پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد بھی ٹرائلز کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ہم پاکستان میں بہترین ٹیلنٹ کی تلاش میں ہیں۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ اسکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کی سطح پر فیفا ای مقابلوں کا انعقاد کیا جائے، اور ہم اس سفر کے حوالے سے بے حد پرجوش ہیں۔”



