
جذبے کا آخری ہوم اسٹینڈ: چاچا کرکٹ کی ریٹائرمنٹ اور اسٹیڈیمز کی اداسی!
تحریر: نواز گوہر ; کھلاڑی آئے۔ کپتان بدلے، نسلیں جوان ہوئیں اور کرکٹ کا انداز بدل گیا، لیکن گزشتہ پچاس سالوں سے پاکستان کے ہر اسٹیڈیم کے اسٹینڈز میں ایک چہرہ، ایک آواز اور ایک جذبہ بالکل ساکت و برقرار رہا۔
وہ آواز تھی صوفی چوہدری عبدالجلیل کی، جنہیں دنیا ‘چاچا کرکٹ’ کے نام سے پوجتی ہے۔ لیکن اب، وقت کے بے رحم پہیے اور 77 سالہ جسم کی تھکن نے اس عظیم روایت کو بریک لگا دی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف جاری ہوم ون ڈے سیریز پاکستان کی حدود میں اس تاریخی سپرفین کا آخری ہوم اسٹینڈ ثابت ہونے جا رہی ہے۔
یہ محض ایک تماشائی کی ریٹائرمنٹ نہیں ہے، یہ پاکستان کرکٹ کے اسٹینڈز سے اس کے سب سے خوبصورت جذباتی سفیر کی رخصتی ہے۔ ہرا کرتا، ہری ٹوپی اور ہاتھوں میں لہراتا ہوا دیوہیکل قومی پرچم اب ہوم گراؤنڈز پر شاید اس آب و تاب سے نظر نہ آئے۔
لاہور کے 19 سالہ لڑکے سے شارجہ کے لیجنڈ تک ;
چاچا کرکٹ کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ ان کا یہ سفر ٹھیک اسی شہر لاہور سے شروع ہوا تھا جب 1968-69 میں ایک 19 سالہ نوجوان نے انگلینڈ کے خلاف میچ دیکھنے کے لیے پہلی بار تماشائیوں کی صفوں میں جگہ بنائی تھی۔
اس کے بعد جذبے کی ایسی لو لگی کہ چاچا نے 80 اور 90 کی دہائی میں شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ان کی پرجوش آواز نے انہیں عالمی منظرنامے پر ایسا چمکایا کہ انہوں نے خلیج کی ایک مستحکم نوکری کو پاکستان کی محبت پر قربان کر دیا اور کُل وقتی "جذبات کے سفیر” بن گئے۔
انہوں نے 1986 میں شارجہ کی باؤنڈری پر کھڑے ہو کر جاوید میانداد کا وہ تاریخی آخری گیند کا چھکا بھی دیکھا جس نے بھارت کو اکھاڑ پھینکا تھا، اور 2017 میں اوول کے تاریخی میدان پر چیمپئنز ٹرافی کی فتح کا جشن بھی منایا۔ وہ صرف جیت کے ساتھی نہیں تھے، جب ٹیم ہاری، جب کڑا وقت آیا، چاچا کرکٹ ایک ڈھال بن کر اسٹیڈیم میں کھڑے رہے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو دلاسا دیتے رہے۔
500 میچز کا سنگ میل اور سیالکوٹ کا خواب ;
اپنے شاندار کیریئر میں پاکستان کے 500 میچز براہ راست دیکھنے کا ناقابل یقین سنگ میل عبور کرنے کے بعد، چاچا کرکٹ اب اپنی زندگی کے آخری حصے کو یادگار بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ سیالکوٹ کے قریب ایک منفرد ریسٹورنٹ اور ایک جدید کرکٹ میوزیم قائم کر رہے ہیں، جہاں وہ پچھلی نصف صدی کے دوران دنیا بھر کے عظیم کھلاڑیوں سے ملنے والے تحائف اور انمول تصاویر کو عوام کے لیے سجائیں گے۔
چاچا کرکٹ نے انتہائی نم آنکھوں کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "میں نے زندگی کا ہر لمحہ اپنے ملک اور اس کھیل کی بے لوث محبت کے نام کیا۔ میرا مقصد صرف دنیا بھر میں پاکستان کا ایک پرامن اور مسکراتا ہوا چہرہ دکھانا تھا۔”
اگرچہ آسٹریلیا کے خلاف یہ میچز پاکستانی سرزمین پر ان کا الوداعی باب ہیں، لیکن وہ اس سال کے آخر میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ایک آخری روایتی غیر ملکی دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

راولپنڈی کا یادگار الوداع اور ‘رسجا’ کا شکریہ ;
راولپنڈی میں اپنے آخری ون ڈے میچ کے موقع پر راولپنڈی اسلام آباد اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (RISJA) نے چاچا کرکٹ کے لیے ایک پروقار کیک کاٹنے کی تقریب کا اہتمام کیا۔ چاچا کرکٹ نے اس پذیرائی پر صحافی برادری کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "میں ‘رسجا’ کا بے حد ممنون ہوں جنھوں نے میری خدمات کا اعتراف کیا۔ اس محبت نے پنڈی اسٹیڈیم میں میرے آخری لمحات کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔”
جب آسٹریلیا سیریز کا آخری غبار چھٹے گا، تو اسٹیڈیم کی کرسیاں شاید پہلے جیسی نہیں ہوں گی۔ چاچا کرکٹ صرف ایک تماشائی نہیں تھے، وہ اسٹیڈیم کے ہجوم کے دل کی دھڑکن تھے، اور ان کا جانا پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے ایک سنہرے باب کا بند ہونا ہے۔



