
فیفا ورلڈ کپ: تماشائیوں کی تعداد نے گزشتہ 2 ورلڈ کپس کے ریکارڈ توڑ دیے
واشنگٹن: فیفا ورلڈ کپ 2026 نے فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے کیونکہ جاری ٹورنامنٹ کے دوران اسٹیڈیمز کا رُخ کرنے والے تماشائیوں کی تعداد نے گزشتہ 2 عالمی مقابلوں کے مجموعی ریکارڈ کو باضابطہ طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ایونٹ کی میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں اور اب تک کھیلے گئے ابتدائی 100 میچوں کے دوران 65 لاکھ سے زائد شائقین نے اسٹیڈیمز میں براہ راست میچز دیکھے ہیں۔ یہ تعداد کھیل کے دیوانوں کی غیر معمولی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔
فیفا کے اعداد و شمار کے مطابق روس میں 2018 میں منعقدہ ورلڈ کپ میں 30 لاکھ 31 ہزار سے زائد جبکہ قطر میں 2022 کے عالمی کپ میں 34 لاکھ 4 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی۔ دونوں ایونٹس کے تماشائیوں کی مجموعی تعداد 64 لاکھ 36 ہزار تھی۔
موجودہ ورلڈ کپ میں ابھی اہم ترین میچز کا انعقاد باقی ہے جن میں 2 سیمی فائنلز، تیسری پوزیشن کا فیصلہ کن مقابلہ اور فائنل شامل ہیں۔ ان اہم میچوں میں لاکھوں مزید شائقین کی شرکت متوقع ہے جو اس ریکارڈ کو ایک ناقابلِ یقین بلندی تک پہنچا دے گی۔
اسپورٹس ماہرین کا کہنا ہے کہ 3 ممالک میں ٹورنامنٹ کے انعقاد سے شائقین کی رسائی آسان ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اسٹیڈیمز میں غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے۔ یہ عالمی فٹ بال کی مقبولیت کا ایک نیا باب ہے جو کھیل کی معاشی اور سماجی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ورلڈ کپ کا یہ سفر جس طرح تماشائیوں کے جوش و خروش سے عبارت رہا ہے، وہ مستقبل میں منعقد ہونے والے ایونٹس کے لیے ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ فائنل کے دن تک یہ تعداد کئی مزید ریکارڈز کو دھول چٹا دے گی۔
فیفا انتظامیہ بھی اس بڑی کامیابی پر خاصی پرجوش دکھائی دیتی ہے کیونکہ اسٹیڈیمز کی مکمل گنجائش کا استعمال اور شائقین کی بڑی تعداد میں آمد ایونٹ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں ٹورنامنٹ کے فاتح اور حتمی تماشائیوں کے ریکارڈ پر لگی ہیں۔



