کرکٹ

دورہ انگلینڈ ; کھلاڑیوں کے ڈسپلن پر سوال، قومی کرکٹرز کیخلاف تحقیقات شروع

انکوائری میں تمام متعلقہ افرادکومؤقف پیش کرنےکاموقع دیا جائے گا، ترجمان پی سی بی

لارڈز ٹیسٹ کے بعد کھلاڑیوں کے ڈسپلن پر سوال، پی سی بی نے اندرونی تحقیقات شروع کردیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے دورے کے دوران قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور رویے سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کا اندرونی طور پر جائزہ لینے کا آغاز کردیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق معاملے کی تحقیقات بورڈ کے معمول کے طریقہ کار اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت کی جارہی ہیں، جبکہ تمام متعلقہ افراد کا مؤقف بھی سنا جائے گا۔

پی سی بی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور کنڈکٹ سے متعلق میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس پر داخلی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا اینڈ ڈیجیٹل کمیونیکیشنز عامر میر کے مطابق بورڈ اس معاملے کا جائزہ اپنے معمول کے طریقہ کار اور ضوابط کے تحت لے رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ افراد کے مؤقف اور حالات کو مناسب اہمیت دی جائے گی اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔

بورڈ نے اس مرحلے پر سوشل میڈیا سمیت بعض دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ دعوؤں سے متعلق بھی واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق ایسی اطلاعات، خصوصاً بیرونی مخالف ذرائع سے سامنے آنے والی رپورٹس، کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا جائے۔پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وہ اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا

اور شائقین سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف بورڈ کے سرکاری بیانات پر انحصار کریں۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے بعد بعض کھلاڑیوں کو واپس بھیجے جانے اور ڈسپلن سے متعلق سامنے آنے والے معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

کھلاڑیوں کے موبائل فون رکھے جانے سے متعلق اطلاعات بھی مبینہ طور پر تحقیقات کا حصہ ہیں، تاہم ان معاملات کی حتمی تفصیلات پی سی بی کی جانب سے جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد میزبان ٹیم نے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی تھی۔

شکست کے بعد پی سی بی نے قومی اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو تبدیل کیا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا۔ دونوں کوچز نے ٹیم کے ساتھ صرف چھ میچز میں کام کیا تھا۔

بعد ازاں وائٹ بال ٹیم کے کوچز مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو عبوری طور پر قومی ٹیم کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی بھی ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا عندیہ دے چکے ہیں۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے اور معاملے میں صرف میدان کے اندر کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی شامل ہوسکتے ہیں،

جن کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔قومی ٹیم اس وقت برمنگھم میں موجود ہے، جہاں انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آخری میچ 9 ستمبر سے کھیلا جائے گا۔

ایسے میں پی سی بی کی داخلی تحقیقات نے ٹیم کے ڈسپلن اور انتظامی معاملات کو بھی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!