
کلب کرکٹ بحال کریں، پاکستان کرکٹ بحال ہوگی : تحریر ; فواد مصطفیٰ
کل وسیم اکرم صاحب نے ایک بہت اچھی تجویز دی کہ گراس روٹ کرکٹ پر لاہور اور کراچی میں دس، دس کروڑ روپے خرچ کیے جائیں۔ میرے خیال میں اس سے بھی کم رقم میں ایک مؤثر نظام شروع کیا جا سکتا ہے۔
میں کراچی کی مثال دوں گا کیونکہ یہاں کے نظام سے نسبتاً واقف ہوں۔ کراچی میں سات زونز ہیں۔ گزشتہ فضل محمود ٹرافی کی ہر ڈسٹرکٹ کی ٹاپ کی چار، چار ٹیمیں لے لیں تو 28 ٹیمیں بن جاتی ہیں۔
ان ٹیموں کی چھ ماہ کی باقاعدہ لیگ کرائی جائے، جبکہ ہر کلب کو اپنے کلب کے کھلاڑی ملا کر دیگر باصلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ 30 کھلاڑیوں کی ٹیم بنائی جائے تاکہ سب کو موقع مل سکے
میچز ہفتہ اور اتوار کو کرائے جائیں۔ کراچی میں پی سی بی کے موجودہ 2 گراؤنڈز Oval اور KCCA Stadium کے ساتھ مزید پانچ گراؤنڈز شامل کرکے ہفتے اور اتوار کو بیک وقت میچز کرائے جا سکتے ہیں۔ 40 یا 50 اوورز کے یہ میچز باقاعدگی سے کھیلے جائیں اور یوٹیوب پر براہِ راست دکھائے جائیں۔
میرا یقین ہے کہ اگر یہ نظام صرف چھ ماہ بھی سنجیدگی سے چلایا جائے تو ہمیں کوالٹی کرکٹ میں واضح فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اس کے لیے دس کروڑ روپے بھی ضروری نہیں؛ نسبتاً کم لاگت میں ایک مسابقتی اور مستقل کلب کرکٹ کا نظام کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
مجھے پنجاب کے کئی ایسے سابق کھلاڑیوں سے بھی یہ سننے کو ملا ہے کہ اگر کراچی کی کرکٹ بہتر ہو جائے تو پاکستان کی کرکٹ خود بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔ ماضی میں کراچی کی کلب کرکٹ پورے پاکستان سے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم تھی۔ ہمیں اسی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔
لاہور میں بھی اسی طرز کا ماڈل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم دو، تین سال مسلسل کلب کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر بحال کر دیں تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان کرکٹ دوبارہ اپنی اصل سمت میں واپس آ سکتی ہے۔



