کرکٹ

آئی پی ایل اور بھارتی فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک بار پھر میچ فکسنگ کی گونج،

سابق کرکٹر کےتہلکہ خیز انکشافات

آئی پی ایل اور بھارتی فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک بار پھر میچ فکسنگ کی گونج،

سابق کرکٹر کےتہلکہ خیز انکشافات

بھارتی کرکٹ میں ایک بار پھر مبینہ کرپشن کی گونج سنائی دینے لگی ہے، آئی پی ایل سے لے کر ڈومیسٹک کرکٹ تک میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کے ایسے دعوے سامنے آئے ہیں

جنہوں نے کرکٹ کے نظام پر نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ خفیہ کیمرہ تحقیقات میں سابق فرسٹ کلاس کرکٹر رچت بھاٹیہ نے کئی سنسنی خیز دعوے کیے،

جن میں آئی پی ایل کے میچز سے متعلق اندرونی معلومات بکیز تک پہنچانے کا اعتراف بھی شامل ہے۔انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک بار پھر مبینہ کرپشن کے الزامات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رچت بھاٹیہ نے خفیہ کیمرہ تحقیقات کے دوران دعویٰ کیا کہ انہوں نے آئی پی ایل 2025 کے 5 میچز میں چنئی سپر کنگز سے متعلق اندرونی معلومات لندن میں موجود بکیز تک پہنچائیں۔

ان کے بقول اس کام کے لیے انہیں فی میچ 60 لاکھ بھارتی روپے ملے اور 5 میچز سے مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ معلومات میچ کے ٹاس سے قبل حاصل کرکے اسنیپ چیٹ کے ذریعے مبینہ طور پر لندن میں موجود سٹے بازوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔  رچت بھاٹیہ کے دعووں کے مطابق انہیں ٹیم کی پلیئنگ الیون سے متعلق معلومات ایک کھلاڑی کے ذریعے ملتی تھیں۔

’تہلکہ‘ کی تحقیقات میں دہلی پریمیئر لیگ کا معاملہ بھی سامنے آیا، جہاں رچت بھاٹیہ نے مبینہ طور پر ٹیم کی پلیئنگ الیون کا اعلان ہونے سے پہلے معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

رپورٹ کے مطابق 3 اگست 2026 کو سینٹرل دہلی کنگز اور نارتھ دہلی اسٹرائیکرز کے میچ سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل بھاٹیہ نے سینٹرل دہلی کنگز کی پلیئنگ الیون کی معلومات فراہم کیں،

جو بعد میں ٹاس کے بعد اعلان کی گئی ٹیم سے مطابقت رکھتی تھی۔رپورٹ کے مطابق اس معلومات کے عوض 40 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم مبینہ طور پر رقم 3 لاکھ روپے پر طے ہوئی۔

ڈی ڈی سی اے نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے بی سی سی آئی کو آگاہ کیا اور کہا کہ الزامات کی مکمل جانچ کے لیے متعلقہ حکام سے رہنمائی طلب کی گئی ہے۔

ڈی ڈی سی اے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ الزامات فی الحال غیر مصدقہ ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے۔رچت بھاٹیہ نے مبینہ اسپاٹ فکسنگ سے متعلق بھی دعوے کیے۔

ان کے مطابق 2018-19 کی سید مشتاق علی ٹرافی کے دوران انہوں نے سٹے بازوں سے رقم لے کر جان بوجھ کر 2 وائیڈ گیندیں کروائیں، جن کے عوض انہیں 8،8 لاکھ روپے، یعنی مجموعی طور پر 16 لاکھ روپے ملے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھاٹیہ نے رانجی ٹرافی میں اپنی سلیکشن یقینی بنانے کے لیے 15 لاکھ روپے رشوت دینے کا بھی اعتراف کیا۔ تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملے میں وکٹ کیپر بیٹر ونش بیدی کا نام بھی سامنے آیا ہے، تاہم بیدی کے حوالے سے دستیاب رپورٹ کے مطابق انہوں نے ڈی ڈی سی اے کے اینٹی کرپشن ونگ کو خود مبینہ فکسنگ کی پیشکش کی اطلاع دی تھی۔

رچت بھاٹیہ نے 2026 کے آئی پی ایل اور دہلی پریمیئر لیگ میں بھی اسپاٹ فکسنگ اور پلیئنگ الیون کی معلومات فراہم کرنے کے لیے مختلف رقوم کا ذکر کیا، تاہم یہ دعوے بھی ان کی جانب سے خفیہ کیمرہ تحقیقات میں کیے گئے

بیانات تک محدود ہیں۔بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان تمام دعووں پر حتمی سرکاری نتیجہ سامنے آنے تک معاملے کی اصل نوعیت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

اب نظریں بھارتی کرکٹ بورڈ اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں پر ہیں کہ خفیہ کیمرہ تحقیقات میں سامنے آنے والے ان دعووں کی کس حد تک تصدیق ہوتی ہے اور معاملے میں مزید کیا کارروائی سامنے آتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!