Gamesدیگر سپورٹس

پاکستان میں انٹرنیشنل ایتھلیٹکس کی واپسی، دو بڑے ایونٹس کی میزبانی مل گئی

ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن کا سالانہ اجلاس،

پاکستان کو کراس کنٹری 2028 کی میزبانی مل گئی،

اسلام آباد (سپورٹس لنک رپورٹ) ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن کا سالانہ اجلاس 14 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا جس میں جنوبی ایشیا کے سات ممالک بنگلہ دیش، مالدیپ، سری لنکا، بھوٹان، پاکستان، انڈیا اور نیپال کی ایتھلیٹکس فیڈریشنز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن کے چیئرمین میجر جنرل محمد اکرم ساہی نے کی۔

انہوں نے پیرس اولمپکس، ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2025 اور ورلڈ ایتھلیٹکس الٹیمیٹ چیمپئن شپ 2026 میں پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ جنوبی ایشیا نے عالمی سطح پر ایتھلیٹکس میں اپنا لوہا منوایا ہے۔

میجر جنرل اکرم ساہی نے بحیثیت چیئرمین ایشین ایتھلیٹکس ڈویلپمنٹ کمیشن تمام شرکاء پر زور دیا کہ خطے میں ایتھلیٹس اور کوچز کی ترقی کے لیے نئے طریقے اور مقامات تلاش کیے جائیں۔

انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کے عوام ساؤتھ ایشین گیمز 2027 کے لیے جنوبی ایشیا کے ایتھلیٹس کے استقبال کے لیے بے چینی سے منتظر ہیں جو اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔

ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر ڈاکٹر للت کمار بھانوت نے جنوبی ایشیائی ممالک کی ایتھلیٹکس میں ترقی پر روشنی ڈالی اور پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے ایتھلیٹس کی جانب سے عالمی مقابلوں میں پوڈیم پوزیشنز حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

انہوں نے نیپال، مالدیپ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کو ورلڈ اور ایشین لیول پر مسابقتی ٹیمیں بھیجنے پر بھی سراہا۔

ورلڈ ایتھلیٹکس کے نائب صدر مسٹر ایڈل سماروالا نے بطور خصوصی نمائندہ اجلاس میں شرکت کی اور تمام ممالک کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب شرکت کو ورلڈ اور ایشین لیول پر میڈل وننگ پرفارمنس میں بدلنا ہوگا۔

اجلاس میں اہم فیصلے: 1. انڈر 23 ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2027 کی میزبانی بھارت کو دے دی گئی 2. کراس کنٹری چیمپئن شپ 2028 کی میزبانی پاکستان کو سونپ دی گئی

3. ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس فیڈریشن کے آئندہ انتخابات کی تاریخیں بھی فائنل کر لی گئیں 4. ہر سال کوچز کے لیے سنٹرلائزڈ ٹریننگ کورسز منعقد ہوں گے تاکہ جدید ٹریننگ تکنیک سے آگاہی دی جا سکے

5. گراس روٹ لیول پر ایتھلیٹکس کے فروغ پر تمام شرکاء کا اتفاق

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!