
ایوانِ کرکٹ میں گونج: آٹھ کپتان، ایک منزل؛ پی ایس ایل 11 کے ہائی اسٹیک مقابلوں کا سفر جاری
تحریر: نواز گوہر ; انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، مگر اس بار میدان کا منظر نامہ ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ جمعرات، 26 مارچ کو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کا باقاعدہ آغاز تاریخی قذافی اسٹیڈیم، لاہور سے ہو رہا ہے۔
اعلیٰ حکام کی حالیہ ہدایات کے باعث جہاں ایک طرف لاہوریوں کا روایتی جوش و خروش اور افتتاحی تقریب کی چکا چوند نظر نہیں آئے گی، وہیں پچ پر ہونے والے مقابلوں کی شدت اپنی انتہا پر ہوگی کیونکہ اس بار لیگ آٹھ ٹیموں کے پاور ہاؤس میں تبدیل ہو چکی ہے۔
افتتاحی معرکہ: دو عہدوں کا ٹکراؤ ;
ٹورنامنٹ کا پہلا میچ ایک دلچسپ صورتحال پیش کر رہا ہے، جہاں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز، جس کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں، کا مقابلہ نووارد ٹیم ‘حیدرآباد کنگز مین’ سے ہوگا جس کی کمان آسٹریلوی بیٹنگ ماسٹر مارنس لیبوشین کے پاس ہے۔ یہ مقابلہ لیگ کی کامیاب ترین فرنچائز اور ایک ایسی نئی ٹیم کے درمیان ہے جو اس "خاموش سیزن” میں اپنی شناخت بنانے کے لیے بے تاب ہے۔
نیا فارمیٹ: ایک اسٹریٹجک جنگ ;
راولپنڈیز اور حیدرآباد کنگز مین کی شمولیت کے ساتھ ہی لیگ کو دو سیٹس (Sets) پر مشتمل فارمیٹ میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ 44 میچز کا شیڈول صرف دو شہروں—لاہور اور کراچی—میں مکمل کیا جا سکے۔
سیٹ اے: لاہور قلندرز، کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی۔
سیٹ بی: حیدرآباد کنگز مین، ملتان سلطانز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور راولپنڈیز۔
ہر ٹیم اپنے سیٹ کی ٹیموں سے دو دو بار، جبکہ دوسرے سیٹ کی ٹیموں سے ایک ایک بار مقابلہ کرے گی۔ اس کٹھن مرحلے کے بعد کوالیفائر اور دو ایلیمینیٹرز طے کریں گے کہ کراچی میں ہونے والے فائنل میں ٹرافی کون اٹھائے گا۔
انعامات کی برسات:
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلی بار 20 لاکھ امریکی ڈالر (2 Million USD) کا مجموعی انعام متعارف کرایا ہے۔ فاتح ٹیم کو 5 لاکھ ڈالر اور رنر اپ کو 3 لاکھ ڈالر ملیں گے، جبکہ 2 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم اس فرنچائز کے لیے رکھی گئی ہے جو "بہترین پلیئر ڈویلپمنٹ” (ٹیلنٹ کی تلاش) کا مظاہرہ کرے گی۔ کھلاڑیوں کے انفرادی اعزازات کے لیے بھی 5 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
کپتانوں کے عزائم ;
شاہین شاہ آفریدی: "ہم نے اسلام آباد میں اپنے ہائی پرفارمنس سینٹر کو تیاریوں کے قلعے میں بدل دیا ہے۔ ہمارا ہدف صرف ایک ہے: ٹائٹل کا تاریخی دفاع۔”
بابر اعظم: "اسٹینڈز میں خاموشی ہمیں محسوس ہوگی، مگر ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے بہترین تفریح فراہم کرنا اب ہماری دگنی ذمہ داری ہے۔”
محمد رضوان: "راولپنڈیز جیسی نئی فرنچائز کی قیادت اعزاز ہے۔ لیگ کی اربوں ڈالر کی مالیت ثابت کرتی ہے کہ پی ایس ایل ایک عالمی برانڈ بن چکا ہے۔”
ڈیوڈ وارنر: "ہم نے ایسی ٹیم بنائی ہے جو حالات کے مطابق ڈھلنا جانتی ہے۔ جو ٹیم پچ کو جلد سمجھے گی، وہی جیتے گی۔”
اعداد و شمار کے سنگ میل ;
ریکارڈ بکس میں بابر اعظم 3,792 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں اور وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے 100 سے زائد میچز کھیلے ہیں۔ ان کے بعد فخر زمان (2,964) اور محمد رضوان (2,770) کا نمبر آتا ہے۔ باؤلنگ میں حسن علی (125 وکٹیں)، شاہین آفریدی (122)، وہاب ریاض (113) اور شاداب خان (105) کے درمیان برتری کی جنگ جاری رہے گی۔
شیڈول اور اوقات
ٹورنامنٹ میں 12 ڈبل ہیڈر (ایک دن میں دو میچز) شامل ہیں۔ دوپہر کے میچز ڈھائی بجے اور شام کے میچز 7 بجے شروع ہوں گے۔ لاہور اور کراچی میں برابر یعنی 22، 22 میچز کھیلے جائیں گے۔



