PSL2026کرکٹ

پاکستان سپر لیگ کے 12ویں ایڈیشن کو شیڈول سے پہلے کرانے کی تجویز زیر غور

پاکستان سپر لیگ کے 12ویں ایڈیشن کو شیڈول سے پہلے کرانے کی تجویز زیر غور

پاکستان سپر لیگ کے آئندہ ایڈیشن کے انعقاد کے لیے جنوری کی تاریخیں زیر غور آنے لگی ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ اور لیگ کی 8 فرنچائزز کے مالکان نے ٹورنامنٹ کو اپریل، مئی کے بجائے سال کے آغاز میں کرانے کی تجویز پر غور کیا ہے۔

کھیل سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل کی گورننگ کونسل کا اجلاس لندن میں ہوا، جس میں لیگ کے اگلے ایڈیشن کی تاریخوں سمیت مختلف اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اپریل اور مئی میں ٹورنامنٹ کرانے کے نتیجے میں اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود رہنے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایل کو جنوری میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرنچائز مالکان کی جانب سے بھی اس معاملے پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔ مالکان کا مؤقف ہے کہ ٹورنامنٹ جنوری میں ہو یا کسی دوسرے مہینے میں، اس بات کی ضمانت ہونی چاہیے کہ فرنچائزز کو نشریاتی آمدنی میں ان کا مکمل حصہ حاصل ہوگا۔

خاص طور پر ٹیلی وژن کے نشریاتی حقوق سے توقعات کے مطابق آمدنی حاصل نہ ہونے کی صورت میں اشتہارات سے ہونے والی آمدنی پر خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث لیگ کی مالی تقسیم اور مستقبل کی تاریخوں کے انتخاب کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

پی ایس ایل کے موجودہ مالی معاہدے کے تحت تمام فرنچائزز کو مرکزی آمدنی کے مجموعے سے حاصل ہونے والی نشریاتی آمدنی کا 95 فیصد حصہ دیا جاتا ہے، اسی لیے لیگ کے انعقاد کے وقت اور اس سے جڑی تجارتی آمدنی کے معاملات فرنچائز مالکان کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

پی ایس ایل کے ابتدائی 9 ایڈیشنز فروری اور مارچ میں منعقد ہوتے رہے، تاہم بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول کے باعث گزشتہ 2 سیزنز میں لیگ کی تاریخوں میں تبدیلی کی گئی۔

2025 میں عالمی کرکٹ کونسل کی چیمپئنز ٹرافی اور رواں سال ٹی 20 عالمی کپ کے باعث پی ایس ایل کو اپریل اور مئی کی مدت میں منتقل کیا گیا، جس کے نتیجے میں لیگ کا انعقاد بھارتی پریمیئر لیگ کے ساتھ ایک ہی عرصے میں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی پریمیئر لیگ کے ساتھ بیک وقت انعقاد کا ایک نمایاں فائدہ یہ سامنے آیا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی نسبتاً بہتر رہی۔

ماضی میں دنیا کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی ٹی 20 لیگز کے باہمی تصادم کے باعث پی ایس ایل فرنچائزز کو غیر ملکی کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔

تاہم اگر پی ایس ایل دوبارہ جنوری اور فروری کی مدت میں منتقل کیا جاتا ہے تو غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر سامنے آسکتا ہے، کیونکہ اسی عرصے میں جنوبی افریقا کی ایس اے 20 اور آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ بھی جاری ہوتی ہیں۔

ایسی صورت میں پی ایس ایل کو ان دونوں لیگز کے ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں کے حصول کے لیے مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے فرنچائزز کے لیے اپنی ٹیموں میں مطلوبہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب جنوری میں لیگ کرانے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو انتظامی اور موسمی حالات کے حوالے سے بھی مختلف چیلنجز درپیش آسکتے ہیں۔ بالخصوص پنجاب کے شہروں میں جنوری اور فروری کے دوران موسم کی شدت پی ایس ایل کے میچز کے انعقاد اور سفر کے انتظامات کو متاثر کرسکتی ہے۔

پی ایس ایل کے 4 روایتی میدانوں میں سے لاہور، ملتان اور راولپنڈی پنجاب میں واقع ہیں، جہاں موسم سرما کے دوران رات کے اوقات میں درجہ حرارت خاصا کم ہوجاتا ہے۔

غروب آفتاب کے بعد درجہ حرارت بعض اوقات ایک ہندسے تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ شدید دھند بھی معمول بن جاتی ہے، جس کے باعث ٹیموں کی نقل و حرکت اور میچز کے انتظامات متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اگر پی ایس ایل جنوری میں منعقد کی جاتی ہے تو لیگ کا آغاز کراچی سے کیا جائے، جہاں سردیوں کے دوران موسم پنجاب کے مقابلے میں نسبتاً معتدل رہتا ہے۔

تجویز کے مطابق ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے کے میچز کراچی میں کرانے کے بعد لیگ کو بتدریج پنجاب اور پشاور منتقل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس دوران موسم کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہوگا اور دیگر شہروں میں میچز کے انعقاد کے لیے حالات نسبتاً سازگار ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ بین الاقوامی کرکٹ شیڈول میں نومبر کے وسط سے مارچ تک ایک نسبتاً واضح ونڈو بھی دستیاب ہے، جس کے دوران قومی ٹیم کی کسی ہوم یا بیرون ملک دو طرفہ سیریز طے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مدت کو پی ایس ایل کے انعقاد کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔

قومی ٹیم اکتوبر اور نومبر میں سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کھیلے گی، جس کے بعد مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز شیڈول ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف یہ سیریز موجودہ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دور میں پاکستان کی آخری ٹیسٹ مہم بھی ہوگی، جس کے باعث نومبر کے وسط سے مارچ تک دستیاب عرصے کو پی ایس ایل کے آئندہ ایڈیشن کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!