
پنجاب میں بیس بال کے فروغ پر اہم پیش رفت،
ایسوسی ایشن وفد کی صوبائی وزیر کھیل سے ملاقات
لاہور: پنجاب میں بیس بال کے فروغ کے لیے پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان پنجاب محمد فیصل ایوب کھوکھر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور صوبے میں کھیل کے فروغ سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔
ملاقات میں پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد حمود لکھوی، پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد جمیل کامران، ظفر شیروانی جبکہ سینئر مسلم لیگی رہنما اور سابق ملتان ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق پاکستان کرکت ٹیم کے منیجر میاں منیر بھی موجود تھے۔
اس موقع پر ایسوسی ایشن کی جانب سے صوبہ پنجاب میں بیس بال کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع بڑھانے اور مختلف سطح کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔ وفد نے ملتان میں پنجاب انٹر ڈویژن فلڈ لِٹ بیس بال چیمپئن شپ 2026 کے انعقاد کی تجویز بھی دی۔
پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت 2026 کو “کھیلوں کا سال” قرار دیے جانے کے بعد کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب میں بیس بال کے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، تاہم باقاعدہ انٹر ڈویژن مقابلوں کے فقدان کے باعث نوجوان ٹیلنٹ کو بھرپور مواقع نہیں مل سکے۔
ملاقات میں لاہور،ساہیوال، راولپنڈی، گوجرانوالہ، بہاولپور، ڈیرہ غازیخان ،فیصل آباد اور سرگودھا سمیت مختلف شہروں میں چیمپئن شپ، کوچنگ کیمپس اور ٹریننگ پروگرامز کے انعقاد کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
اسی طرح ملتان، لاہور اور راولپنڈی میں بیس بال گراؤنڈز اور فیلڈز کے قیام، نئے کوچز کی تربیت، اور پنجاب اسپورٹس بورڈ میں بیس بال کوچنگ اکیڈمی بنانے کی سفارش بھی کی گئی۔
وفد نے پنجاب کے اسکولوں اور اسپورٹس ہالز کو بیس بال سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے کی بھی درخواست کی تاکہ صوبے میں کھیل کو مزید فروغ دیا جا سکے اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
اسی موقع پر پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد جمیل کامران نے بیس بال قوانین پر مشتمل اپنی تصنیف بھی صوبائی وزیر کھیل کو پیش کی، جس پر محمد فیصل ایوب کھوکھر نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کاوش کو سراہا۔
صوبائی وزیر کھیل محمد فیصل ایوب کھوکھر نے وفد کو یقین دلایا کہ پنجاب میں بیس بال سمیت تمام کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔



