کرکٹ

کرکٹ آسٹریلیا کا بگ بیش لیگ کی فرنچائز نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا اعلان

کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش لیگ کی فرنچائز نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا اعلان کردیا

کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے،کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری لانے کے منصوبے کے تحت میلبورن رینیگیڈز کی فروخت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بورڈ کے مطابق نجی سرمایہ کاروں سے بولیاں طلب کی جائیں گی اور کوشش ہوگی کہ رینیگیڈز 2027-28 کا سیزن نئی ملکیت کے تحت کھیلے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ اور چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ نے ریاستی کرکٹ اداروں کو بگ بیش لیگ کی فرنچائزز میں حصص یا مکمل ملکیت نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔

اس عمل کا پہلا مرحلہ میلبورن رینیگیڈز سے شروع ہوگا، جو کرکٹ وکٹوریہ کی ملکیت ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا نجی سرمایہ کاروں سے رینیگیڈز کے لیے بولیاں طلب کرے گا اور ہدف یہ ہے کہ ٹیم 2027-28 کا سیزن نئی ملکیت کے تحت کھیلے۔

میلبورن رینیگیڈز نے 2018-19 میں بگ بیش لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق رینیگیڈز کی فروخت کے نتائج سامنے آنے کے بعد دیگر فرنچائزز کو بھی نجی سرمایہ کاری کے لیے مارکیٹ میں لانے پر غور کیا جائے گا،

تاہم ہر ٹیم کے مستقبل کا فیصلہ متعلقہ ریاستی کرکٹ بورڈ کی رضامندی، مقامی مفادات اور کمیونٹی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے ’سیلف ڈیٹرمینیشن ماڈل‘ اختیار کیا جائے گا، جس کے تحت ہر ریاستی رکن کو اپنے کلب اور مقامی کمیونٹی کے لیے مناسب راستے کا انتخاب کرنے کی آزادی ہوگی۔

کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد آسٹریلوی کرکٹ کی مالی بنیاد مزید مضبوط کرنا اور کھیل کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔

اس میں کمیونٹی کرکٹ، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پاتھ ویز، ایلیٹ کرکٹ، بگ بیش لیگ اور ویمنز بگ بیش لیگ شامل ہیں، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔

کرکٹ آسٹریلیا اس منصوبے کے ذریعے تقریباً 600 ملین آسٹریلوی ڈالر حاصل کرنے کی امید پہلے ہی ظاہر کرچکا ہے۔ بورڈ کے مطابق نجی سرمایہ کاری سے شائقین کے ساتھ روابط بڑھانے،

لیگ کی تجارتی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور آسٹریلوی کرکٹ کے طویل مدتی مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔چیئرمین مائیک بیئرڈ نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستی کرکٹ ادارے بگ بیش لیگ اور ویمنز بگ بیش لیگ میں سرمایہ کاری اور ان کی ترقی کے لیے متحد ہیں۔

ان کے مطابق نجی سرمایہ کاری کا دروازہ کھولنا آسٹریلوی کرکٹ کے طویل مدتی مستقبل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک سوچا سمجھا قدم ہے، جبکہ میلبورن رینیگیڈز کی فروخت کا عمل اس نئے ماڈل میں پہلا اہم قدم ہوگا۔

کرکٹ آسٹریلیا نے ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ نجی ملکیت آنے کے باوجود اہم معاملات پر فیصلہ سازی کا اختیار بورڈ اور اس کے ریاستی ارکان کے پاس برقرار رہے گا۔

ان معاملات میں بین الاقوامی شیڈولنگ، کھلاڑیوں کی دستیابی، بگ بیش لیگ کی تنخواہوں کی حد، برانڈنگ کی تجاویز، کلب لائسنس کی کم از کم قیمت اور نئے سرمایہ کاروں کی منظوری شامل ہیں۔

تاہم بگ بیش لیگ میں نجی سرمایہ کاری کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرکٹ آسٹریلیا اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان مالی معاملات پر نئے مفاہمتی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔

آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو پال مارش نے کہا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے کے اعلان سے ان معاملات پر کام کرنے کی ضرورت ختم نہیں ہوئی جو بگ بیش لیگ کی فرنچائزز کی فروخت کے لیے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ آسٹریلیا کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم کی منظوری کے بغیر کسی ٹیم کی فروخت کا عمل آگے نہیں بڑھا سکتا۔موجودہ مفاہمتی معاہدے کے تحت آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن آسٹریلوی کرکٹ کی مجموعی آمدنی کا 27.5 فیصد حاصل کرنے کی حقدار ہے۔

ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ بگ بیش لیگ کلبوں میں حصص یا ملکیت کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی اسی آمدنی میں شامل ہونی چاہیے۔

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کا مؤقف ہے کہ کھلاڑی صرف فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع یا سود میں سے 27.5 فیصد کے حقدار ہوں گے۔

آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے فروری میں مذاکرات کے دوران تجویز دی تھی کہ وہ فرنچائزز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 27.5 فیصد پر اپنا دعویٰ چھوڑ سکتی ہے،

تاہم اس کے بدلے کھلاڑیوں کے مستقل ریونیو شیئر میں اضافہ کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ حصہ 33 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی، جسے کرکٹ آسٹریلیا نے مسترد کردیا۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ پال مارش کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں، تاہم اس وقت دونوں فریق مذاکرات کی نوعیت اور بعض اہم معاملات پر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ مفاہمتی معاہدہ 2028 کے اختتام تک نافذ ہے، اس لیے مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے۔

ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے منصوبے کا بنیادی مقصد آسٹریلوی کرکٹ میں مزید سرمایہ لانا اور بالخصوص کھلاڑیوں کے ہاتھ میں زیادہ رقم پہنچانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!