پاکستان کی پچپن سالہ ٹیبل ٹینس کھلاڑی نے ایشین گیمز میں حصہ لیکر نیا ریکارڈ قائم کردیا

پاکستان کی پچپن سالہ ٹیبل ٹینس کھلاڑی نے ایشین گیمز میں حصہ لیکر نیا ریکارڈ قائم کردیا
55 سال کی عمر میں جب اکثر کھلاڑی کھیل کے میدان سے دور ہو چکے ہوتے ہیں، لاہور کی نوشین اسلم نے جاپان کے شہر ناگویا میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشین گیمز کے ٹیبل ٹینس مقابلوں میں قدم رکھا۔
نوشین اسلم کے لیے یہ صرف ایک بین الاقوامی مقابلہ نہیں تھا بلکہ تقریباً 12 سال پہلے شروع ہونے والے ایک ایسے سفر کی تکمیل تھی، جس کا آغاز انہوں نے اس وقت کیا جب وہ تین بیٹوں کی والدہ تھیں۔
ایشین گیمز 2026 میں نوشین پاکستان کی خواتین ٹیبل ٹینس ٹیم کا حصہ بنیں اور 55 سال کی عمر میں خواتین کے ٹیم ایونٹ کی سب سے عمر رسیدہ کھلاڑیوں میں نمایاں رہیں۔ پاکستان کی سرکاری دستے کی فہرست میں بھی ان کا نام ٹیبل ٹینس ٹیم کے کھلاڑیوں میں شامل تھا۔
لیکن نوشین کے لیے عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنی۔وہ کہتی ہیں کہ ٹیبل ٹینس نے انہیں زیادہ فعال اور فٹ رہنے کا موقع دیا، جبکہ کھیل کے دوران وہ زندگی کی دوسری پریشانیوں کو بھول جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ٹیبل ٹینس بنیادی طور پر مہارت کا کھیل ہے اور اگر کھلاڑی کی صلاحیت اچھی ہو تو عمر فیصلہ کن چیز نہیں رہتی۔
نوشین کا سفر اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ انہیں صرف کھیل پر توجہ نہیں دینی تھی۔گھر، بچوں، کھانا پکانے، کام اور ٹیبل ٹینس کی پریکٹس کے درمیان وقت نکالنا ان کے لیے روزمرہ کا چیلنج تھا۔وہ اکثر اپنی دوسری ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد رات کے وقت پریکٹس کرتی رہیں۔
ان کے تینوں بیٹے کرکٹ کھیلتے ہیں، جبکہ ان کی کئی ساتھی کھلاڑی عمر میں ان کے بچوں کے قریب ہیں۔ ایشین گیمز میں ان کی ساتھی 15 سالہ علینہ خان تھیں۔ یوں ایک ہی ٹیم میں ماں کی عمر کی کھلاڑی اور نئی نسل کی نوجوان کھلاڑی ایک ساتھ پاکستان کی نمائندگی کر رہی تھیں۔
خواب جو 55 سال کی عمر میں پورا ہوانوشین کے لیے ایشین گیمز میں شرکت ایک دیرینہ خواب تھا۔ یہ ان کا پہلا ایشین گیمز تھا اور رپورٹ کے مطابق بیرون ملک کسی بین الاقوامی مقابلے میں بھی ان کی یہ پہلی شرکت تھی۔
ایشین گیمز سے قبل انہوں نے تقریباً دو سے تین ماہ تیاری کی۔ اس تیاری میں انہیں اپنے شوہر اور بچوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔میدان میں نتائج البتہ ان کے حق میں نہیں آئے۔
پاکستان کی خواتین ٹیم نے گروپ مرحلے میں سنگاپور، انڈونیشیا اور بھارت کے خلاف مقابلے کھیلے اور کوئی میچ نہیں جیت سکی۔ نوشین نے سنگاپور اور انڈونیشیا کے خلاف پاکستان کی نمائندگی کی۔
انڈونیشیا کے خلاف ان کا مقابلہ نی مہارانی سے ہوا، جہاں وہ 3-0 سے شکست کھا گئیں۔لیکن نوشین کے لیے ایشین گیمز کی اہمیت کسی میچ کے اسکور سے کہیں زیادہ تھی۔
ایشین گیمز کا سفر ختم ہونے کے بعد بھی نوشین نے کھیل چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔ان کا اگلا ہدف پاکستان میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز ہیں، جو دستیاب رپورٹ کے مطابق اپریل 2027 میں شیڈول ہیں۔
نوشین کا کہنا ہے کہ ان کی جسمانی حالت اب بھی اچھی ہے اور وہ شاید مزید دو یا تین سال کھیل جاری رکھ سکتی ہیں۔یہی اس کہانی کا سب سے اہم پہلو ہے۔نوشین اسلم کی کہانی صرف 55 سالہ خاتون کے ایشین گیمز کھیلنے کی کہانی نہیں۔
یہ اس سوال کی بھی کہانی ہے کہ ایک عام پاکستانی خاتون، جس نے نسبتاً دیر سے کھیل شروع کیا، خاندانی اور روزمرہ ذمہ داریوں کے ساتھ مسلسل محنت کرتے ہوئے قومی سطح سے ایشین گیمز تک کیسے پہنچی۔
12 سال پہلے شروع ہونے والا شوق 55 سال کی عمر میں ایشین گیمز تک پہنچا۔اور نوشین کے لیے سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔اگلا ہدف: ساؤتھ ایشین گیمز۔



