گراؤنڈ سے گرین شرٹ تک؛ پی سی بی کا سکول ٹیلنٹ ہنٹ گیم چینجر قرار
سکول کرکٹ سے قومی ستاروں تک؛ پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام پاکستان کرکٹ کے مستقبل کی مضبوط بنیاد قرار

سکول کرکٹ سے قومی ستاروں تک؛
پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام پاکستان کرکٹ کے مستقبل کی مضبوط بنیاد قرار
چودھری غلام علی کی جانب سے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی،
خواجہ ندیم احمد اور لاہور ریجن کی انتظامیہ کو خراجِ تحسین —
100 سے زائد میچز میں نوجوان ٹیلنٹ کی صلاحیتیں نمایاں ہونے لگیں
لاہور: (رپورٹ: عابد حسین) خضرا کرکٹ کلب کے سینئر نائب صدر چودھری غلام علی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیرِ اہتمام پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام برائے سکول کرکٹ کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے
کہ سکولوں کی سطح پر منظم کرکٹ سرگرمیوں کا آغاز نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے، قومی سطح تک رسائی حاصل کرنے اور ملک کے لیے مستقبل کے ستارے بننے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کو سکول کرکٹ کے فروغ کے لیے اس انقلابی اور کھیل دوست اقدام پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی معنوں میں کرکٹ کی ترقی اسی وقت ممکن ہے
جب ٹیلنٹ کی تلاش کا عمل نچلی سطح سے شروع ہو اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لیے منظم پلیٹ فارم میسر آئے۔
چودھری غلام علی نے لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ ندیم احمد کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور جیسے بڑے کرکٹ مرکز میں سکول ٹورنامنٹ کا منظم انداز میں انعقاد،
وسیع پیمانے پر میچز کا کامیاب انعقاد اور نوجوان کھلاڑیوں کو کھیل کے مواقع فراہم کرنا قابلِ قدر کاوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ ندیم احمد کی سربراہی میں لاہور ریجن میں کرکٹ سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کا عمل خوش آئند ہے۔
انہوں نے پی سی بی کے ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسامہ شارون نیازی کی کوششوں اور محنت کو بھی اس پروگرام کی کامیابی میں کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سکول کرکٹ جیسے بڑے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، مربوط حکمتِ عملی اور مسلسل نگرانی ضروری ہے، جس کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہتر کرکٹ ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
چودھری غلام علی نے لاہور ریجن میں پروگرام کے منتظم اور منیجر کرکٹ آپریشنز عابد حسین کے انتظامی کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے لیے بروقت تیاریاں،
میچز کا منظم انعقاد اور انتظامی معاملات پر توجہ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ لاہور ریجن کی انتظامیہ سکول کرکٹ کو ایک بامقصد اور نتیجہ خیز سرگرمی بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ان کے مطابق لاہور ریجن میں 100 سے زائد میچز مکمل ہونا اس پروگرام کے وسیع دائرۂ کار اور تسلسل کا واضح اظہار ہے۔ ان مقابلوں میں نوجوان کھلاڑیوں کی پرفارمنس سامنے آنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے،
کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مستقبل کے باصلاحیت کرکٹرز کی نشاندہی، ان کی صلاحیتوں کا جائزہ اور انہیں مزید آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مقابلوں میں حصہ لینے والے نوجوان کھلاڑی پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی کارکردگی کو تسلسل کے ساتھ جانچا جائے،
نمایاں صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں کی مناسب رہنمائی کی جائے اور انہیں اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ سکول کرکٹ سے اعلیٰ سطح کی کرکٹ تک ایک مؤثر راستہ قائم ہو سکے۔
چودھری غلام علی نے ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو بھی پاکستان کرکٹ بورڈ اور لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کی قابلِ تحسین کاوش قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو بہتر ماحول اور منظم مقابلے فراہم کرنا نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ ان میں نظم و ضبط، مسابقتی جذبے اور کھیل سے وابستگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کی قیادت خواجہ ندیم احمد جیسے کرکٹ سے مخلص اور کھیل کی ترقی کے لیے سرگرم شخصیت کے ہاتھوں میں ہونا لاہور کے کرکٹ حلقوں کے لیے خوش آئند ہے۔
ان کے مطابق سکول کرکٹ کے اس منصوبے کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب آج ان میدانوں میں کھیلنے والے باصلاحیت نوجوان کل ریجنل، ڈومیسٹک اور قومی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
چودھری غلام علی کے مطابق سکول کرکٹ محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے؛ اس کا اصل ثمر نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت، تربیت اور اسے قومی سطح تک پہنچانے کی صورت میں سامنے آئے گا۔



