Category: Worldcup 2026

  • ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: بھارت نے شاندار ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: بھارت نے شاندار ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: بھارت نے شاندار ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    احمد آباد: آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے زبردست ریکارڈ بنادیا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو 96 رنز سے شکست دے کر ٹی ٹوئنٹی ٹائٹل کا کامیاب دفاع کر لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ انڈیا اپنے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بھی بن گئی ہے۔

    بھارتی شہر احمد آباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں سنجو سمسن نے 14ویں اوور میں راچین راویندرا کی گیندوں پر تین چھکے لگا کر بھارت کو ایک اور ریکارڈ دلا دیا۔

    اس کے ساتھ ہی بھارت پہلی ٹیم بن گیا ہے جس نے کسی بھی ورلڈ کپ ایڈیشن میں 100 چھکوں کا ہندسہ عبور کیا۔ اب ٹیم کے مجموعی چھکے کی تعداد 102 ہو گئی ہے۔

    بھارتی بیٹر سنجو نے 46 گیندوں پر 89 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر شائقین کو محظوظ کیا، لیکن آخرکار وہ ایک فل ٹاس گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

    نیوزی لینڈ کو شکست دیتے ہی بھارتی ٹیم اب دنیا کی واحد ٹیم بن گئی ہے جس نے اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ یعنی تین مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔

    مزید یہ کہ بھارت دنیائے کرکٹ کی پہلی ٹیم بھی بن گئی جس نے مسلسل دو مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتا لیا اور اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرلیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ٹیم گھر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتنے والی پہلی ٹیم بھی بن گئی ہے، اس سے قبل کوئی بھی ہوم ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکی تھی۔

    فائنل میں بھارتی کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں شاندار کارکردگی دکھائی اور نیوزی لینڈ کو یکطرفہ مقابلے میں شکست دی۔

    خیال رہے کہ بھارت نے پہلی مرتبہ 2007 میں جبکہ دوسری مرتبہ 2024 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتا تھا۔

  • چیمپیئنز ٹرافی: پاک بھارت میچ انڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا میچ قرار

    چیمپیئنز ٹرافی: پاک بھارت میچ انڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا میچ قرار

    چیمپیئنز ٹرافی: پاک بھارت میچ انڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا میچ قرار

    آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت کے میچ کو انڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ون ڈے میچ قرار دیا گیا ہے۔

    اس میچ نے ورلڈکپ 2023 سے 23 فیصد زائد ویورشپ حاصل کرکے انڈیا میں کرکٹ کی تاریخ کا یہ منفرد ریکارڈ حاصل کیا۔

    آئی سی سی کے مطابق اسٹار اسپورٹس پر اس میچ کی براہ راست نشریات کو 137 ارب جبکہ جیو ہاٹ اسٹار چینل پر 110 ارب منٹس کا ’واچ ٹائم‘ مل گیا جو انڈیا کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔

    آئی سی سی کے بیان کے مطابق اس ایونٹ کے فائنل میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کو 230 ملین لوگوں نے مختلف پلیٹ فارم پر دیکھا اور اسے 53 ارب منٹس کا واچ ٹائم حاصل ہوا۔

    جیو ہاٹ اسٹار کے سربراہ سنجوگ گپتا نے کہا ہے کہ یہ کامیابی اس بات کا نتیجہ ہے کہ ہم نے کھیلوں کے لیے وسیع اور مختلف پلیٹ فارمز فراہم کی ہیں، جبکہ اس میں ہماری اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کی ٹائٹل اپنے نام کرنے کی ناقابل شکست مہم نے شائقین کے جوش و خروش کو مزید بڑھایا اور فائنل کے لیے ناظرین کی تعداد میں اضافہ کیا۔

  • چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی پر بھارتی ٹیم کے لیے نقد انعام کا اعلان

    چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی پر بھارتی ٹیم کے لیے نقد انعام کا اعلان

    چیمپئنز ٹرافی میں فتح ،بھارتی بورڈ کا اپنی ٹیم کیلئے 58 کروڑ روپے انعام کا اعلان

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی پر بھارتی ٹیم کے لیے نقد انعام کا اعلان کردیا۔ بھارتی بورڈ کے مطابق ٹیم کو 58 کروڑ بھارتی روپے دیے جائیں گے۔

    بھارتی بورڈ کی طرف سے دی جانیوالی یہ رقم کھلاڑیوں کے علاوہ سپورٹنگ سٹاف میں بھی تقسیم کی جائے گی

    یاد رہے کہ بھارتی ٹیم نے روہت شرما کی قیادت میں ٹورنامنٹ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی۔

  • چیمپئنز ٹرافی سے پاکستان کو نقصان کے بھارتی دعوے پر پی سی بی کا ردعمل سامنے آگیا

    چیمپئنز ٹرافی سے پاکستان کو نقصان کے بھارتی دعوے پر پی سی بی کا ردعمل سامنے آگیا

    چیمپئنز ٹرافی سے پاکستان کو نقصان کے بھارتی دعوے پر پی سی بی کا ردعمل سامنے آگیا

    لاہور: آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے بعد بھارتی میڈیا نے پاکستان کرکٹ کو بدنام کرنے کی مہم شروع کردی، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت ، بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

    ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا قیاس آرائیوں پر مبنی کہانیاں گھڑ رہا ہے، قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی میچ فیس کو کم کرنے سے اس کہانی کو تراشا گیا ہے۔

    پی سی بی ترجمان نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی سے پی سی بی کو کوئی نقصان نہیں ہوا، ہمیں 6 ملین ڈالرز میزبانی پر ملیں گے اورگیٹ منی سے آمدنی کا فیصلہ کچھ ماہ میں آڈٹ کے بعد ہوگا جب کہ ہوٹلوں کا کرایہ، جہازوں کے ٹکٹ، پرائز منی اور دیگر اخراجات آئی سی سی ادا کرے گا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025کی میزبانی کے دوران 869کروڑ روپے(85 ملین ڈالر) کا نقصان ہوا جس کے بعد بورڈ نے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں کٹوتی اور 5 اسٹار ہوٹلوں کی سہولت ختم کرنے جیسے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

  • آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کی 10 بہترین ڈیلوریز کی فہرست جاری

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کی 10 بہترین ڈیلوریز کی فہرست جاری

    چیمپئنز ٹرافی،10 بہترین ڈیلوریز میں 4 پاکستانیوں کی شامل

    آئی سی سی نےچیمپئنز ٹرافی 2025ء کی 10 بہترین ڈیلوریز کی فہرست جاری کردی۔

    چیمپئنز ٹرافی کی 10 بہترین ڈیلوریز میں سے 4 پاکستانی بولرز کی ہیں، اس فہرست میں ابرار احمد کی 2، نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کی 1، 1 بال شامل ہے ۔

    نیوزی لینڈ کے ڈیون کانووے اور بھارت کے شبمن گل کے خلاف ابرار احمد کی گیند بہترین ڈیلوریز میں شامل ہے ۔

    چیمپئنز ٹرافی میں شاہین شاہ آفریدی کی روہت شرما کو بولڈ کرنا بھی میگا ایونٹ کی بہترین ڈیلوریز میں سے ایک قرار پائی ہے نسیم شاہ کی گیند پر نیوزی لینڈ کے اسٹار بیٹر کین ولیم سن کو آؤٹ کرنے والی بال بھی بہترین ڈیلوریز کا حصہ ہے ۔

  • چیمپئنز ٹرافی کی کامیاب میزبانی پر پی سی بی کا شکریہ ; آئی سی سی

    چیمپئنز ٹرافی کی کامیاب میزبانی پر پی سی بی کا شکریہ ; آئی سی سی

     انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو چیمپئنز ٹرافی کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی ہے۔

    آئی سی سی چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ ایونٹ کے انعقاد میں شامل تمام افراد سٹیڈیم کی تزئین و آرائش، پچز کی تیاری شاندار تھی،میچز کی میزبانی اور ٹیموں و شائقین کے استقبال میں شامل ہر شخص کو اپنی محنت پر فخر ہونا چاہیے۔

    خیال رہے کہ چیمپینز ٹرافی 19 فروری سے 9 مارچ تک پاکستان اور دبئی میں کھیلی گئی،

    یہ 1996 کے بعد پاکستان میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی ملٹی ٹیم ایونٹ تھا،یہ ایونٹ پی سی بی کیلئےانتہائی اہمیت کا حامل تھا،آئی سی سی امارات کرکٹ بورڈ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے۔

    پاکستان نے 1996 کے بعد پہلی مرتبہ کسی عالمی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کی۔ چیمپیئنز ٹرافی کے میچز کراچی، لاہور، راولپنڈی اور دبئی میں کھیلے گئے۔

    واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کا میزبان پاکستان تھا تاہم بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آئی اور اپنے میچ دبئی میں کھیلے،فائنل میں بھارت فاتح رہا۔

  • آئی سی سی نے فائنل میں پی سی بی آفیشل کی غیر موجودگی کی وضاحت کردی

    آئی سی سی نے فائنل میں پی سی بی آفیشل کی غیر موجودگی کی وضاحت کردی

    آئی سی سی نے فائنل میں پی سی بی آفیشل کی غیر موجودگی کی وضاحت کردی

    دبئی: چیمپئنز ٹرافی 2025 کے فائنل کی انعامی تقریب کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی سٹیج پرغیر موجودگی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا بیان سامنے آگیا۔

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی اختتامی تقریب میں میزبان پاکستان کو نظر انداز کرنے پر پی سی بی حکام سخت برہم تھے اور اس معاملے پر آئی سی سی سے وضاحت مانگی طلب کی گئی تھی۔

    دبئی میں کھیلے گئے آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل ختم ہونے پر ٹرافی اور دوسرے ایوارڈز دینے کی تقریب ہوئی

    جس میں آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ، بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر راجربینی، سیکرٹری بی سی بی آئی اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے راجر ٹوز موجود تھے، میزبان پی سی بی کے نمائندے کو اسٹیج پر مدعو نہیں کیا گیا۔

    پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سمیر احمد سید وہاں موجود تھے لیکن آئی سی سی نے ان کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا۔

    پی سی بی حکام اس حوالے سے باقاعدہ طور پر آئی سی سی کو خط لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ان سے وضاحت مانگی جائے کہ میزبان بورڈ کو نظر انداز کیوں کیا گیا۔

    ماضی میں آئی سی سی ایونٹس پر میزبان ملک کی سٹیج پر نمائندگی ہمیشہ ہوتی رہی ہے مگر حیران کن طور پر دبئی میں اس روایت کی پاسداری نہیں کی گئی جس پر پی سی بی حکام کے ساتھ کرکٹ فینز بھی آئی سی سی کے اس رویے پر سخت ناراض ہیں۔

    اب اس معاملے پر آئی سی سی کا بیان سامنے آگیا جس میں کہا گیا کہ چیئرمین پی سی بی کو فائنل کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم وہ فائنل کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی سی سی اپنے تمام ٹورنامنٹ کے لیے یکساں قوانین پر عمل پیرا ہے، آئی سی سی میزبان بورڈ کے سربراہ، نائب صدر یا سی ای او کو مدعو کرتا ہے،

    آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ بورڈ کے دیگر عہدیدار چاہے مقام پر موجود ہوں، وہ سٹیج کی کارروائی کا حصہ نہیں ہیں۔

  •  آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان

     آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان

     آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کردیا گیا۔

    آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں پاکستان کا کوئی کھلاڑی شامل نہیں۔ ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں بھارت کے 6، نیوزی لینڈ کے 4 اور افغانستان کے 2 کھلاڑی شامل ہیں۔

    ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں رچن رویندرا، ابراہیم زدران، ویرات کوہلی، شریاس ایئر، کے ایل راہول اور گلین فلپس شامل ہیں۔عظمت اللہ عمرزئی، مچل سینٹنر، محمد شامی، میٹ ہینری، ورن چکرورتی بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

    بھارتی پلیئر اکشر پٹیل کو بطور 12واں کھلاڑی شامل کیا گیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے مچل سینٹر کو ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

  • چیمپئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کو سفید کوٹ کیوں پہنایا جاتا ہے؟

    چیمپئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کو سفید کوٹ کیوں پہنایا جاتا ہے؟

    چیمپئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کو سفید کوٹ کیوں پہنایا جاتا ہے؟

    بھارتی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تیسری بار ٹرافی اپنے نام کر لی دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے

    اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 251 رنز بنائے جس کے جواب میں بھارت نے 49ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا میچ کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کو ونر میڈلز دیے گئے

    اور اس کے ساتھ ہی انہیں ایک خاص سفید کوٹ بھی پہنایا گیا جو چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو دیا جاتا ہے یہ سفید کوٹ چیمپئن ٹیم کے اعزاز محنت اور عزم کی علامت سمجھا جاتا ہے

    اس کی جیب پر چیمپئنز ٹرافی کا لوگو موجود ہوتا ہے جبکہ بٹن گولڈن رنگ کے ہوتے ہیں چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو سفید کوٹ دینے کی روایت 2009 میں جنوبی افریقا میں منعقدہ ایڈیشن سے شروع ہوئی

    اس سے پہلے چیمپئن ٹیم کو صرف ٹرافی دی جاتی تھی لیکن 2009 میں آئی سی سی نے اس ایونٹ کو مزید خاص بنانے کے لیے یہ منفرد روایت متعارف کرائی رکی پونٹنگ کی قیادت میں آسٹریلیا وہ پہلی ٹیم تھی جسے چیمپئن بننے کے بعد یہ اعزازی سفید کوٹ پہنایا گیا

    اس کے بعد 2013 میں بھارت 2017 میں پاکستان اور اب 2025 میں بھارت نے چیمپئنز ٹرافی جیت کر یہ سفید کوٹ پہننے کا اعزاز حاصل کیا

    آئی سی سی کے مطابق چیمپئنز ٹرافی میں ہر میچ کی اہمیت ہوتی ہے اور یہ سفید کوٹ چیمپئن ٹیم کے لیے ایک ایسا اعزاز ہے جو ان کی کامیابی کی پہچان بن جاتا ہے یہ کوٹ چیمپئنز کی شان میں اضافہ کرتا ہے

    اور ان کی جیت کے سفر کو مزید یادگار بناتا ہے آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ بے مثال عزم اور سخت محنت کی علامت ہے جو کرکٹ کی دنیا میں برتری اور کامیابی کی نمائندگی کرتی ہے

    اس روایت نے چیمپئنز ٹرافی کو مزید منفرد بنا دیا ہے اور ہر کھلاڑی کے لیے ایک بڑا خواب بن چکا ہے کہ وہ نہ صرف ٹرافی بلکہ یہ اعزازی سفید کوٹ بھی حاصل کرے

  • چیمپئنز ٹرافی کا معرکہ: کرکٹ میدان سے سیاست کے اکھاڑے تک، بھارت ٹرافی لے گیا لیکن سوال باقی!

    چیمپئنز ٹرافی کا معرکہ: کرکٹ میدان سے سیاست کے اکھاڑے تک، بھارت ٹرافی لے گیا لیکن سوال باقی!

    چیمپئنز ٹرافی کا معرکہ: کرکٹ میدان سے سیاست کے اکھاڑے تک، بھارت ٹرافی لے گیا لیکن سوال باقی!

    غنی الرحمن

    چیمپئنز ٹرافی 2025ء کا میدان سجا، جو بظاہر کرکٹ کا سب سے بڑا معرکہ تھا مگر حقیقت میں ایک سیاسی شطرنج کی بساط ثابت ہوا۔ شائقینِ کرکٹ جس ٹورنامنٹ کے منتظر تھے، اس کی افتتاحی تقریب نے امیدوں کو باندھ دیا۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں روشنیوں کی بارش، موسیقی کی دھنیں، اور روایتی ثقافتی رنگ سب کچھ موجود تھا۔ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے پاکستان میں ہونے والے اس میگا ایونٹ کو کھیل کی واپسی کا جشن قرار دیا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

    ٹورنامنٹ کے شیڈول کے مطابق تمام میچز پاکستان میں ہونا تھے۔ مگر بھارت نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔

    نتیجتاً، ایشین کرکٹ کونسل اور آئی سی سی کی طویل مشاورت کے بعد بھارت کے تمام میچز دبئی منتقل کر دیے گئے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ بلکہ شائقین کے لیے بھی ایک کڑوا گھونٹ ثابت ہوا۔

    ایک طرف پاکستان دنیا کے سامنے اپنی میزبانی کے جوہر دکھا رہا تھا، تو دوسری طرف بھارتی ٹیم نے دبئی میں الگ تھلگ ہو کر ایک طرح سے کھیل کو تقسیم کر دیا۔

    چیمپئنز ٹرافی کی یہ تقسیم شدہ میزبانی ایک سوال بن گئی۔ کیا کھیل میں بھی سیاست اتنی غالب ہو چکی ہے کہ ایک ایونٹ دو حصوں میں بٹ جائے؟ دبئی میں کھیلے جانے والے بھارتی میچز کو پاکستان کے شائقین نے اسکرینز پر تو دیکھا، مگر دل سے اس فیصلے کو کبھی قبول نہ کر سکے۔

    سب سے زیادہ مایوسی اس وقت ہوئی جب فائنل میچ کو بھی دبئی منتقل کر دیا گیا۔ وجوہات وہی پرانی تھیں، بھارت کی شرکت کو یقینی بنانا۔ پاکستان کے کرکٹ دیوانے جنہوں نے خواب دیکھے تھے کہ اپنی سرزمین پر فائنل کا جشن منائیں گے، وہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔

    فائنل میچ میں بھارت نے بہترین کارکردگی دکھا کر چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی، لیکن یہ جیت میدان کے اندر سے زیادہ، میدان کے باہر کی سفارتکاری کا نتیجہ محسوس ہوئی۔

    چیمپئنز ٹرافی کے بعد اب سب کی نظریں بھارت میں ہونے والے آئندہ بڑے ٹورنامنٹس پر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، بھارت میں جا کر کھیلنے کے لیے تیار ہوگا؟ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت کے سامنے ایک مشکل فیصلہ ہے۔

    ماضی میں بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کیا، اور پاکستان کو مجبوراً غیر جانبدار مقامات پر کھیلنا پڑا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بھی اسی حکمتِ عملی کو اپنائے گا؟ یا کھیل کی بہتری کے نام پر اپنی پوزیشن کو نرم کرے گا؟

    ذرائع کے مطابق پی سی بی کے اندرونی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔ کچھ کا مؤقف ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے دوہرے معیار کا سخت جواب دینا ضروری ہے۔

    فی الحال پاکستان کی بھارت میں کسی بھی ٹورنامنٹ میں شرکت غیر یقینی نظر آتی ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ اہم ایونٹس کے لیے بھی "نیوٹرل وینیو” کی شرط رکھ دی جائے، جیسا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کیا۔

    کرکٹ جسے "جنٹلمین گیم” کہا جاتا ہے، اب تیزی سے سیاسی ایجنڈوں کا شکار ہو رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی 2025ء اس کی واضح مثال ہے۔ بھارت کی شرکت، دبئی منتقلی، اور فائنل کا فیصلہ ایک بار پھر یہ دکھا گیا کہ کھیل کے میدان میں بھی سیاسی اثر و رسوخ حاوی ہے۔

    بھارت چیمپئنز ٹرافی لے گیا، لیکن کھیل کے اصل چیمپئن وہ شائقین ہیں جنہوں نے کھیل کو جوڑے رکھا۔ پاکستان نے اپنی بھرپور میزبانی اور بہترین ٹیم کارکردگی کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ کھیل کا اصل مرکز بن سکتا ہے۔

    مگر یہ بھی طے ہو گیا کہ جب تک کھیل کو سیاست سے آزاد نہیں کیا جاتا، ایسے فیصلے کھیل کی روح کو مجروح کرتے رہیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اپنا آئندہ لائحہ عمل کس انداز میں طے کرتا ہے، اور کیا بھارت کی سرزمین پر قدم رکھنا کھیل کے لیے ہوگا یا اصولوں پر سمجھوتہ؟

error: Content is protected !!