مضامین

قومی وقار سے عالمی شرمندگی تک: یونیورسٹی گیمز میں پاکستان کی ناکامی؟

گمشدہ کھلاڑی، نااہل سفارشی آفیشلز۔۔۔

قومی وقار سے عالمی شرمندگی تک: یونیورسٹی گیمز میں پاکستان کی ناکامی,

گمشدہ کھلاڑی، نااہل سفارشی آفیشلز۔۔۔

جرمنی میں ہونے والے تازہ ترین یونیورسٹی گیمز 2025 جہاں دنیا بھر کے نوجوانوں نے سپورٹس کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، وہیں پاکستان کی شرکت ایک افسوسناک داستان بن کر سامنے آئی۔

ان گیمز کا مقصد جہاں سپورٹس جرنلزم، آفیشیٹنگ، کوچنگ اور منیجمنٹ جیسے شعبوں میں نوجوانوں کی تربیت تھا، وہیں پاکستان کے وفد نے ان مواقع کو ضائع کرکے شرمندگی کی نئی مثالیں قائم کیں۔

پاکستان کی جانب سے گیمز میں بھیجی جانے والی ٹیموں اور آفیشلز کی فہرست HEC اور متعلقہ جامعات کی جانب سے شدید اقرباپروری، سفارش اور نالائقی پر مبنی تھی۔ بغیر تیاری اور تربیت کے بھیجی گئی خواتین ٹیم کا 4×400 ریلے مقابلے میں ڈسکوالیفائی ہونا اس کی ایک بڑی مثال ہے۔

ٹیم کی کھلاڑیوں کو نہ تو دوڑنے کی ترتیب کا علم تھا، نہ قوانین کا، اور نہ ہی اسٹیڈیم میں موجود آفیشلز نے بروقت رہنمائی کی۔ یہ بدترین سپورٹس مینجمنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے دنیا کے سامنے پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی۔

مزید حیرت انگیز اور افسوسناک واقعہ دو پاکستانی ایتھلیٹس کی گمشدگی کا ہے، جو لاہور یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا رپورٹس اور اندرونی ذرائع کے مطابق، ان ایتھلیٹس کو بعض بدعنوان آفیشلز کی رضا مندی اور مالی مفاد کے تحت یورپ فرار ہونے میں مدد دی گئی۔

اگر یہ الزامات سچ ثابت ہوئے تو یہ نہ صرف سپورٹس کی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ ملکی بدنامی کا باعث بھی ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف فوری شفاف تحقیقات اور سخت کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں سپورٹس کو ایسی سازشوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

HEC جیسے اہم ادارے کی ناقص پلاننگ، غیر ذمہ دارانہ فیصلے اور ناقابل سپورٹس آفیشلز کی تعیناتی نہ صرف کھیلوں کے معیار کو متاثر کر رہی ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کو بھی تباہ کر رہی ہے۔ جن مواقع سے پاکستان اپنی سافٹ امیج اور ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لا سکتا تھا، وہاں صرف رسوائی نصیب ہوئی۔

مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سپورٹس آفیشلز کی تقرری صرف میرٹ اور پروفیشنل تربیت کی بنیاد پر ہو۔ یونیورسٹی سطح پر کوچنگ، آفیشیٹنگ اور سپورٹس مینجمنٹ کے کورسز کو لازمی بنایا جائے۔ ہر گیمز کے بعد ایک مکمل آڈٹ رپورٹ پیش کی جائے، جس میں اخراجات، کارکردگی اور شکایات کی تحقیقات شامل ہوں۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے کھلاڑیوں کو محض سفری ویزا اور یورپ کی سیر کے لیے نہ بھیجیں، بلکہ ان کی اصل سپورٹس ویلیو کو پہچانیں اور ان کی تربیت، حفاظت اور عزت کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کی عزت کسی کھلاڑی یا ٹیم سے نہیں، بلکہ ان کے نظم و ضبط، اصولوں کی پاسداری اور پروفیشنلزم سے مشروط ہے۔

تحریر: شاہد الحق ؛ اسپورٹس جرنلسٹ، کوچ، وی لاگر اور اسپوفٹ یوٹیوب چینل کے بانی بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے ایونٹس، مینجمنٹ، کوچنگ اور فٹنس میں وسیع تجربہ  رابطہ: spofit@gmail.com

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!