ایشین گیمز میں سافٹ ٹینس کے بعد مزید کئی من پسند کھلاڑی جاپان بھجوانے کا انکشاف
پاکستان میں ٹرائی تھلون فیڈریشن کا کوئی وجود نہیں تاہم اس کا سات رکنی دستہ ایشین گیمز جاپان میں شرکت کر رہا ہے

ایشین گیمز میں سافٹ ٹینس کے بعد مزید کئی من پسند کھلاڑی جاپان بھجوانے کا انکشاف
سپرنٹر فائقہ ریاض اولمپکس،کامن ویلتھ گیمز میں ناقص پرفارمنس کے باوجود پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اعلی عہدیدار کی "آشیر باد” سے قومی دستے میں جگہ بنانے میں کامیاب
پاکستان میں ٹرائی تھلون فیڈریشن کا کوئی وجود نہیں تاہم اس کا سات رکنی دستہ ایشین گیمز جاپان میں شرکت کر رہا ہے
ٹیبل ٹینس،لان ٹینس میں عمر رسیدہ” ینگ کھلاڑی” بھی قومی دستے میں شامل،کھلاڑیوں کا انتخاب ذاتی پسند نہ پسند سے بغیر ٹرائلز کے کیا گیا
لاہور (پریس نیٹ ورک آف پاکستان،پی این پی) ایشین گیمز میں شرکت کرنے والے قومی دستے میں سافٹ ٹینس کے بعد مزید کئی کھیلوں میں من پسند کھلاڑیوں کی شمولیت کا انکشاف ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اولمپک، کامن ویلتھ اور بیچ گیمز میں ناقص پرفارمنس والی سپرنٹر فائقہ ریاض پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ایک اعلی عہدیدار کی آشیر باد سے ایشین گیمز کا ٹکٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں
جبکہ ٹرائی تھلون کی فیڈریشن کا ملک میں وجود نہ ہونے کے باوجود سات رکنی ٹیم بھی جاپان پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیبل ٹینس اور لان ٹینس میں عمر رسیدہ مرد و خواتین ” ینگ کھلاڑی” بھی قومی دستے میں شامل کئے گئے ہیں۔
پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ فائقہ کی ناقص کارکردگی کے باعث خولہ خان کا نام ایشین گیمز کیلئے تجویز کیا گیا تھا تاکہ مزید کھلاڑیوں کو بھی انٹرنیشنل ایونٹس کا تجربہ دیا جاسکے
لیکن پی او اے کے عہدیدار نے اپنے ایماء پر زبردستی فائقہ ریاض کا نام ایشین گیمز میں شامل کروایا جبکہ کسی بھی ایونٹ میں کھلاڑی کا نام تجویز کرنا متعلقہ فیڈریشن کی صوابدید ہے۔
ٹیبل ٹینس کی دس رکنی ٹیم میں 55 سالہ "نوجوان کھلاڑی” نوشین اسلم بھی شامل ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں کا انتخاب بھی مبینہ طور پر ٹرائلز کے بغیر کیا گیا ہے۔
سب سے مضحکہ خیز کام ٹینس فیڈریشن نے کیا جس کے صدر اعصام الحق کسی نئے کھلاڑی کو موقع دینے کی بجائے بطور کھلاڑی دستے میں شامل ہوگئے۔ ان کے علاوہ عمر رسیدہ عقیل خان بھی قومی دستے کا حصہ ہیں۔
مذکورہ بالا دونوں کھلاڑی اپنی جوانی میں بھی کبھی میڈل نہ جیت سکے تاہم پاکستان سپورٹس بورڈ کی سیلف فنانس سکیم کا فائدہ اٹھا کر جاپان یاترا کا حصہ بن گئے۔



