
ایشین گیمز میں پاکستانی ہاکی ٹیم کو بڑا مسئلہ، کھانا نہ ملنے سے کھلاڑی پریشان
جاپان: ایشین گیمز میں شرکت کے لیے جاپان پہنچنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کو میدان میں مقابلوں کے ساتھ ساتھ حلال کھانے کے حوالے سے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کو ہوٹل میں مناسب مقدار میں حلال کھانا دستیاب نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے کئی کھلاڑیوں کو اپنی خوراک کے لیے متبادل انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہوٹل میں کھانا دستیاب ہوتا بھی ہے تو مقدار کم ہونے کے باعث بہت جلد ختم ہو جاتا ہے، جس کے بعد کھلاڑیوں کو کھانے کے لیے ہوٹل سے باہر جانا پڑتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض پاکستانی کھلاڑی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی جیب سے رقم خرچ کرکے باہر سے کھانا خرید رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حلال فوڈ نہ ملنے کی وجہ سے کھلاڑی خالی پیٹ پریکٹس کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب جاپان میں موجود بعض کھلاڑی ہوٹل میں کھانے کی صورتحال کے باعث باہر موجود پنجابی ریسٹورنٹس سے اپنی جیب سے کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔
یوں ایشین گیمز کے دوران پاکستانی ہاکی ٹیم کو ایک ایسے وقت میں کھانے کے مسئلے کا سامنا ہے جب کھلاڑیوں کو مسلسل ٹریننگ اور اہم مقابلوں کے لیے اپنی فٹنس اور توانائی برقرار رکھنا ہوتی ہے
ایتھلیٹ فٹنس اور پرفارمنس پر اثر: ایک پروفیشنل ایتھلیٹ کے لیے نیوٹریشن اور ریکوری سب سے اہم ہوتی ہے۔ ایسے اہم ایونٹ کے دوران اگر کھلاڑیوں کو بروقت اور مناسب خوراک نہ ملے تو ان کی اینرجی لیول، فٹنس اور فیلڈ پرفارمنس شدید متاثر ہوتی ہے۔
فوری مطالبہ: پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF)، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) اور جاپان میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو اس معاملے پر فوری ایکشن لینا چاہیے
ہوٹل انتظامیہ کے ساتھ حلال کھانے کا کوٹا فوری بڑھایا جائے۔ مقامی کیٹرنگ کے ذریعے کھلاڑیوں کے لیے معیاری حلال خوراک کا انتظام کیا جائے۔
جب تک ہوٹل کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، کھلاڑیوں کو متبادل کھانے کے تمام اخراجات فراہم کیے جائیں۔ ہمارے ہیرو ملک کا نام روشن کرنے گئے ہیں، ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے!



