دیگر سپورٹسمضامین

ارشد ندیم کی ہار نہیں، پاکستان کی جیت – کھیل، امن اور ہماری اصل طاقت”

تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق

ارشد ندیم کی ہار نہیں، پاکستان کی جیت – کھیل، امن اور ہماری اصل طاقت”

تحریر: کھیل دوست، شاھدالحق

اولمپکس کے بعد دنیا کے سب سے بڑے اتھلیٹکس ایونٹ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2025 میں ارشد ندیم اگرچہ میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئے اوردسویں نمبر پر رہے،

لیکن یہ کبھی نہ بھولیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے اور روشن ستاروں میں سے سب سے چمکدار ہیں۔ کھیل جیت اور ہار کا نام ہے، ہر بار کوئی نہ کوئی آگے نکلتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔

اصل مقصد مقابلہ کرنا اور اس میں شرکت کرنا اور پھر اعلیٰ مقام۔کے لئے جہدوجہد کرنا ہی کھیل کی خوبصورتی اور طاقت ھے۔ مگر جو ریکارڈ، جو مقام اور جو پہچان ارشد ندیم نے پاکستان کو دی ہے،

وہ ہمیشہ تاریخ کے سنہری باب میں لکھا جائے گا۔ آج ہم پوری قوم کی طرف سے ارشد ندیم کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے نام اور سبز ہلالی پرچم کو دنیا کے سب سے بڑے میدانوں میں واضح طور پر بلند کیا۔

وہ ہمارے اصل ہیرو ہیں، چاہے جیتیں یا ہاریں۔ ان کے ہر تھرو کے ساتھ پاکستان کا نام گونجتا رہا، اور دنیا بار بار ہمارے پرچم کو پہچانتی رہی۔

یہی وہ لمحے ہیں جو ایک قوم کی پہچان بنتے ہیں اور ھمیں فخر کرنا چاہیے کہ ارشد کی وجہ سے پاکستان کا نام و پرچم الیکٹرانک ، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے کروڑوں آنکھوں تک رسائی حاصل کر سکا۔

دنیا میں آج طاقت کا اصل امتحان میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ کھیلوں کے میدان میں ہے۔ جو قومیں پہلے گولی سے جیتی جاتیں تھیں، وہ آج کھیلوں کے میدان میں اپنے پرچم لہرا کر دنیا کو فتح کر رہی ہیں۔

کھیل وہ طاقت ہے جو نہ صرف نوجوانوں کو صحت مند و توانا جسم دیتیں ھیں بلکہ ایک مثبت سمت دیتی ہے جو دنیا میں امن، بھائی چارے اور یکجہتی کا پیغام بھی لے کر جاتی ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے،

ایک بہادر فوج رکھتا ہے، اور دنیا کے امن میں ہمیشہ اپنا حصہ ڈالتا آیا ہے، مگر کھیلوں کے ذریعے بھی ہم دنیا کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ پاکستان امن اور ترقی کی علامت ہے۔ کھیل وہ زبان ہے جسے ہر قوم اور ہر نسل سمجھتی ہے۔

کبھی ہم ہاکی، ایتھلیٹکس، سکواش، کرکٹ، باکسنگ، ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ میں دنیا پر راج کرتے تھے۔ وہ دن آج بھی یاد ہیں جب پاکستانی کھلاڑی میدانوں میں دنیا کو حیران کر دیتے تھے۔

لیکن افسوس کہ اس ساکھ کو قائم رکھنے کے لیے ہمارے اداروں اور ذمہ داران نے کبھی سنجیدہ توجہ نہیں دی۔ یہ وقت ہے کہ ہمارے حکمران اور پالیسی ساز شرم محسوس کریں اور کھیلوں کو صرف نمائشی تقریبات اور میلوں ٹھیلوں تک محدود نہ کریں۔

کھیل ایک قومی سرمایہ ہیں، اور انہیں فارن ڈپلومیسی، نوجوانوں کی ترقی اور عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت پہچان بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

ارشد ندیم، جہانگیر خان اور سہیل عباس کے علاوہ کرکٹ کے ٹاپ سٹارز جیسے ہیروز ہمارے اصل سرمایہ ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن کی محنت، قربانی اور لگن سے پاکستان کا پرچم دنیا کے سب سے بڑے ایونٹس میں بلند ہوتا ہے۔

ہمیں ان کی ہر حال میں قدر کرنی چاہیے۔ کھیل نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہیں بلکہ امن، دوستی اور ترقی کے دروازے بھی کھولتے ہیں۔

حکومتِ پاکستان اور ذمہ دار اداروں کو اب جاگنا ہوگا۔ اگر ہم نے کھیلوں کو اپنی قومی پالیسی اور ڈپلومیسی کا حصہ نہ بنایا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ارشد ندیم، تم جیتو یا ہارو، ہم تم سے پیار کرتے ہیں۔ تم پاکستان کا مان اور دنیا کے میدانوں میں امن اور عزت کا نشان ہو۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!