دیگر سپورٹس

پی ایس بی پینشن و میڈیکل بندش کا بحران چوتھی جان نگل گیا

ہیڈ کوارٹر کے مارکر نور نواص خان آج پینشن اور علاج نہ ملنے کے باعث چل بسے، پینشنرز ایکشن کمیٹی کا وزیراعظم اور اعلیٰ حکام سے ہائی لیول انکوائری کا مطالبہ

پی ایس بی پینشن و میڈیکل بندش کا بحران چوتھی جان نگل گیا

ہیڈ کوارٹر کے مارکر نور نواص خان آج پینشن اور علاج نہ ملنے کے باعث چل بسے، پینشنرز ایکشن کمیٹی کا وزیراعظم اور اعلیٰ حکام سے ہائی لیول انکوائری کا مطالبہ

چوتھی المناک ہلاکت: پینشن اور میڈیکل فنڈز کی غیر قانونی بندش کے باعث اب تک ادارے کے چار ملازمین (عبد القدیر، محمد نبی، غلام حیدر اور اب نور نواص خان) لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

 ہفتہ صبح کا المیہ: پی ایس بی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کے ریٹائرڈ مارکر نور نواص خان مسلسل چار ماہ سے پینشن کی بندش اور طبی سہولیات کے خاتمے کے باعث تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار گئے۔

 چار ماہ کے بقایاجات کا بحران: معمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم مسلسل چار ماہ سے اپنی جائز پینشن کی رقم سے محروم، کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

 طبی تحفظ پر ڈاکا: ریٹائرڈ ملازمین کی ہیلتھ سہولیات مکمل بند، جبکہ حاضر سروس ملازمین کا سالانہ طبی بجٹ بھی محض ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ تک محدود کر دیا گیا ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) میں جاری مالیاتی تعطل، پینشن کی بندش اور میڈیکل فنڈز کی معطلی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔

پی ایس بی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کے ریٹائرڈ مارکر محترم نور نواص خان صاحب پینشن اور طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث شدید معاشی و جسمانی اضطراب کی حالت میں انتقال کر گئے ہیں۔

پینشنرز ایکشن کمیٹی پاکستان اسپورٹس بورڈ اسلام آباد کے مطابق، یہ اس معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں ہونے والی چند مہینوں میں چوتھی المناک ہلاکت ہے، لیکن متعلقہ وزارت اور اعلیٰ حکام اب بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔

کمیٹی نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی)، سیکرٹری آئی پی سی اور ڈی جی پی ایس بی سے ہنگامی اپیل کرتے ہوئے فنڈز کی بندش کے دوران ہونے والی ان تمام ہلاکتوں پر فوری اور غیر جانبدارانہ ہائی لیول انکوائری شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پینشنرز گزشتہ چار ماہ سے زائد عرصے سے پینشن کی رقم سے محروم ہیں، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیرِ کفالت خاندانوں کے طبی تحفظ کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں، حاضر سروس ملازمین کے لیے طبی بجٹ کو محض ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر فکس کر دیا گیا ہے، ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے پانچ نکاتی فوری مطالبات رکھے ہیں:

1. پینشنرز کے تمام چار ماہ کے بقایاجات بغیر کسی مزید تاخیر کے فوری جاری کیے جائیں۔ 2. ریٹائرڈ پی ایس بی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے میڈیکل کی تمام سہولیات فوری بحال کی جائیں۔

3. پینشن اور طبی سہولیات کی معطلی کے دوران ہونے والی نور نواص خان سمیت تمام چار پینشنرز کی ہلاکتوں پر غیر جانبدارانہ انکوائری قائم کی جائے تاکہ بیوروکریسی کی مجرمانہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔

4. شدید مالی تنگی کا شکار بیواؤں، معمر شہریوں اور ہسپتالوں میں زیرِ علاج علیل ملازمین کو فوری ہنگامی ریلیف فراہم کیا جائے۔ 5. مستقبل میں پینشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مستقل اور پائیدار طریقہ کار وضع کیا جائے۔

کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ انصاف اور ریلیف میں تاخیر مظلوم خاندانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے، اور اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو پینشنرز شدید علیل ساتھیوں کے ہمراہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!