
آئی سی سی نے بنگلہ دیشی صحافیوں کو ٹی 20 ورلڈکپ کی کوریج سے روک دیا
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے بعد اب بنگلہ دیشی صحافی بھی میگا ایونٹ میں شریک نہیں ہوں گے، آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے بنگلہ دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن دینے سے انکار کر دیا۔
آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیشی ٹیم کے باہر ہوجانے پر اب نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیشی صحافیوں کو ایونٹ کی کوریج کے لیے ایکریڈیشن دینے سے انکار کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش میڈیا کے مطابق آئی سی سی نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کور کرنے والے صحافیوں کو ایگریڈیشن دینے سے انکار کردیا ہے، سری لنکا اور بھارت دونوں ملکوں میں بنگلہ دیش کے کسی صحافی کو ایکریڈیشن نہیں دی گئی۔
بنگلہ دیش میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کئی ایسے صحافی ہیں جن کی ایکریڈیشن ہو چکی تھی مگر بعد میں مسترد کی گئی۔ بنگلہ دیش کے صحافی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک صحافی کو 20 تاریخ کو ایکریڈیشن کے ہونے کی تصدیقی ای میل آئی مگر بعد میں ایکریڈیشن مسترد ہونے کی ای میل کی گئی۔
بنگلہ دیش کے سینئر صحافی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ٹیم نہیں بھی کھیلتی ہے تب بھی آئی سی سی ایسوسی ایٹ ممبرز کے صحافیوں کو ایگریڈیشن جاری کرتا ہے۔
بنگلہ دیش کے سپورٹس سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی تنظیموں نے جلد آئندہ لائے عمل کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں آئی سی سی کی جانب سے صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ دینے کے معاملے پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امزاد حسین نے صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ ملنے کی بھی تصدیق کر تے ہوئے بتایا کہ بنگلا دیش کے 130 سے 150 صحافیوں نے ایگریڈیشن کے لیے اپلائی کیا تھا۔
امزاد حسین نے کہا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے بنگلہ دیش کے تمام صحافیوں کے ایگریڈیشن مسترد کر دئیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اب تک بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ دینے کے معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی جس کے باعث تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں سکیورٹی تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کی جانب سے سکیورٹی تحفظات پر کسی دوسرے مقام پر میچ منتقل کرنے کی حمایت کی تھی، ان دنوں پاکستان کی ورلڈکپ میں شرکت کے متعلق بھی شکوک و شبہات سر اٹھا رہے ہیں۔



