فٹ بال

ایران فیفا ورلڈ کپ سے باہر ہوا یا کیا گیا؟ الجیرین کپتان کے بیان نے ہلچل مچا دی

آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے، ریاض محرز

ایران فیفا ورلڈ کپ سے باہر ہوا یا کیا گیا؟ الجیرین کپتان کے بیان نے ہلچل مچا دی

فیفا ورلڈ کپ میں الجیریا اور آسٹریا کے درمیان کھیلا گیا میچ تین تین گول سے برابر رہا۔

گروپ جے کے آخری میچ کے نتیجے نے نئی بحث کو جنم دیا۔ میچ ڈرا ہونے کی وجہ سے دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں جبکہ ایران ایونٹ سے باہر ہو گیا۔

اس سارے معاملے پر ایران کے شائقین نے شدید اعتراض کیا اور فیفا سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، میچ کے بعد الجیریا کے کپتان ریاض محرز کے دیے گئے بیان کی وجہ سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔

ریاض محرز نے کہا کہ صورتحال کچھ عجیب تھی، ہم لوگ تیزی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے اس کے برعکس آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری لمحے میں گیند میرے پاس آئی تو میرے پاس گول کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، ریاض محرز نے کہا کہ میں کھیل کے اصولوں اور فٹ بال کا احترام کرتا ہوں۔

الجیرین کپتا ن نے کہا کہ ان کے لیے اچھی بات یہ ہوئی کہ آسٹریا نے بھی گول کر لیا اور وہ بھی کوالیفائی کر گئے، ہم دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ گئے اور آج یہی سب سے اہم بات تھی۔

ریاض محرز نے اپنے انجری ٹائم کے گول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک شرمندگی والی صورتحال تھی لیکن گیند میرے پاس آئی تو میں کیا کرتا؟

الجیرین کپتان کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں تاہم اب تک فیفا یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا ہے۔

اس موقع پر ایرانی شائقین نے میچ کی متعدد ویڈیوز شیئر کیں اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ بعض لمحات میں دونوں ٹیمیں جیت کی سنجیدہ کوشش کرتی نظر نہیں آئیں۔

دوسری طرف آسٹریا کے کوچ رالف رانگنک نے کسی بھی خفیہ سمجھوتے کی تردید کی ہے اور کہا کہ اگر یہ پہلے سے طے شدہ مقابلہ ہوتا تو ایسا ڈرامائی اختتام کبھی شائقین کو دیکھنے کو نہ ملتا۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!