ہاکی

شہیلا رضا نے بھی ہاکی فیڈریشن کی انتظامی نااہلی کا بھانڈا پھوڑ دیا

شکریہ وزیراعظم لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، ہاکی فیڈریشن کا فنڈز لوٹنے والوں کا احتساب ابھی باقی ہے،

بدعنوان ٹولے کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں، ہم عہدے نہیں قومی کھیل کی بحالی چاہتے پیں، ہماری اور کھلاڑیوں کی آواز بالآخر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئی،

ڈی جی اسپورٹس بورڈ اور سیکریٹری پی او اے بھی ہاکی کی تباہی کے زمہ دار ہیں، ممبر قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا

ورکنگ ٹیم میرٹ پر بنی تو ہاکی کی بحالی کے لئے فیڈریشن کا ساتھ دینگے، اولمپئن سمیع اللہ

بدعنوان سیاستدان جیل جاسکتے ہیں تو ہاکی فنڈز لوٹنے والے جیل کیوں نہیں جاسکتے، اولمپیئن حنیف خان کا وزیراعظم سے سوال

ایف آئی ایچ کے صدر طیب اکرام درحقیقت ایک کمیشن ایجنٹ ہیں۔ پاکستان میں ہاکی کی تباہی میں ان کا بھی حصہ ہے، اولمپئن ناصر علی

گزشتہ دو سال سے ہاکی فیڈریشن انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہے، وزیراعظم تحقیقات کرائیں سب سامنے جائے گا، حیدر حسین سابق سیکریٹری پی ایچ ایف کا انکشاف

آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے ساتھ ہونے والے سلوک کی خبریں انڈین میڈیا پر چلنا باعث شرم ہے، ہاکی پر قابض ٹولے کی وجہ سے ملک میں ہاکی کے 100 حقیقی کلب بھی نہیں، انٹرنیشنل ہاکی پلیئر محمد نعیم

کراچی(سپورٹس لنک رپورٹ) ممبر قومی اسمبلی و رکن اسٹینڈنگ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ برائے کھیل سیدہ شہلا رضا نے سابق اولمپئنز کلیم اللہ، سمیع اللہ، افتخار سید، حنیف خان، ناصر علی، ایاز محمود، وسیم فیروز،

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری جنرل حیدر حسین، انٹرنیشنل ہاکی پلیئر محمد نعیم سمیت کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی اور جعلی سیکریٹری جنرل اولمپئن مجاہد علی سے استعفیٰ لیکر انہیں گھر بھیجنے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے،

شہلا رضا نے کہا کہ ہم پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان کے قومی کھیل سے محبت اور اس کا درد رکھنے والوں کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ دو سال سے ہاکی فیڈریشن کی کرپشن،

اقربا پروری اور غیر قانونی غیر آئینی اقدامات کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے تھے ہماری آواز اور آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کی آواز بالآخر ایوان وزیراعظم تک پہنچ گئی

اور وزیراعظم نے ہاکی فیڈریشن کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے پی ایچ ایف کے ناکام اور ناکارہ صدر طارق بگٹی اور غیر قانونی سیکریٹری جنرل اولمپئن رانا مجاہد علی سے استعفیٰ لیکر انہیں گھر بھیج دیا تاہم کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی،

شہلا رضا نے ہاکی فیڈریشن کی دوشالہ کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کہا کہ 2008 سے 2022 اور طارق بگٹی کے دور میں ہونے والی غیر قانونی اقدامات،

فنڈز کا غیر منصفانہ استعمال کی تحقیات کے ساتھ آڈٹ کے 113 پیراز کی مکمل صاف اور شفاف تحقیات کرکے ایک ارب 50 کروڑ روپے سے زیادہ کے کرپشن میں ملوث ہاکی فیڈریشن کے سابق صدور اولمپئن اختر رسول، بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر، طارق میسوری بگٹی، سابق سیکریٹریز اولمپئن رانا مجاہد علی،

شہباز سینئر اور آصف باجوہ سمیت کرپشن میں ملوث ہر ایک شخص کے خلاف آئین و قانون کے مطابق سزا دی جائے اور انکوائری مکمل ہونے تک ان کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے،

شہلا رضا نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری جنرل حیدر حسین کا کیس آج بھی عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت نے رانا مجاہد علی کو صرف روز مرہ کے کام کرنے کی اجازت دی تھی لیکن وہ از خود مکمل سیکریٹری جنرل بن گئے تھے جبکہ ان کا انتخابی عمل مکمل طورپر ہاکی فیڈریشن کے قوانین کے برعکس تھا،

ممبر قومی اسمبلی نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیر زادہ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل خالد محمود کے خلاف چار شیٹ پیش کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ورلڈ پرو ہاکی لیگ کے لئے وفاقی حکومت نے 25 کروڑ روپے کی جو گرانٹ دی اس پر قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ برائے کھیل میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ فنڈز کا استعمال پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ذریعے کیا جائے گا

جبکہ دوسری جانب پاکستان اسپورٹس بورڈ معاملات کو صاف اور شفاف طریقے سے چلانے میں ناکام نظر آتی ہے، جس رانا مجاہد کو ڈی جی پی ایس بی ہاکی فیڈریشن کا سیکریٹری نہیں مانتے اچانک اس کے ہمنوا ہوگئے جبکہ انتخابات کے علیم کرپشن اور غیر قانونی کام میں ملوث اولمپئن شہباز سینئر کو ہاکی فیڈریشن کا نمائندہ بھی تسلیم کرلیا،

جس کا مقصد انجیئرڈ الیکشن کے سوا اور کچھ نہیں تھا، ہاکی فیڈریشن کا کلب رجسٹریشن کے ذریعے 16 ہزار کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا دعویٰ بھی بے بنیاد اور جھوٹا ہے،

تحقیات کی جائے تو ہاکی کھیلنے والے 1600 کھلاڑی بھی دستیاب نہیں ہیں، کراچی ہاکی ایسوسی ایشن خواتین ونگ کی چیئر پرسن شہلا رضا نے وزیراعظم سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل خالد محمود کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خالد محمود ایک بدعںوان شخص ہے ریکارڈ کو کھنگالا جائے تو معلوم ہو جائے گا

کہ برسوں سے ہی او اے کے سیکریٹری جنرل پر قابو اس شخص نے کیسے مختلف فیڈریشن کے خلاف متوازی فیڈریشن بناکر ملک میں کھیلوں کا جنازہ نکالا ہے، یہ وہی خالد محمود ہے جس نے ماضی میں اولمپئن رانا مجاہد علی پر 10 سال کی پابندی عائد کی

اور پھر پانچ سے چھ سال بعد پابندی ختم کرکے اسے اپنا چہتہ بنا لیا، خالد محمود اتنا مفاد پرست ہے کہ مارچ 2024 میں پی او اے کی ساؤتھ ایشیئن گیمز کے اجلاس میں حیدر حسین کو بطور سیکریٹری رل ہاکی فیڈریشن مدعو کرتا ہے

پھر مارچ میں ہی پی او اے کے صدارتی انتخاب کے موقع پر حیدر حسین اپنا ووٹ بھی کاسٹ کرتے ہیں لیکن اس کے بعد رانا مجاہد اچانک خالد محمود کے لاڈلے ہوجاتے ہیں

اور خالد محمود پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے رانا مجاہد کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا سیکریٹری جنرل مان لیتے ہیں اور انہیں اس کا تصدیق نامہ بھی جاری کردیتے ہیں،

ایک سوال کے جواب میں شہلا رضا نے کہا کہ قومی ٹیم نے دودہ آسٹریلیا میں پیش آنے والے واقعات کو منظر عام پر لاکر طارق بگٹی اور رانا مجاہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے،

ہاکی فیڈریشن کے نئے ایڈہاک صدر محی الدین وانی سب کچھ جانتے ہیں امید ہے وہ معاملات کو درست کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے، وزیراعظم ہم سے ملاقات کریں

میں کسی عہدے کی امیدوار نہیں لیکن ہاکی فیڈریشن کو درست سمت میں ڈالنے کے لئے ہمارے پاس بہت سی تجاویز ہیں ہمارے قافلے میں ایسے اولمپئنز اور پروفیشنلز ہیں جو ہاکی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں،

روز مرہ کے معاملات چلانے کے لئے وزیراعظم ایک ورکنگ کمیٹی تشکیل دیں، اس موقع پر اولمپئن سمیع اللہ نے کہا کہ طارق بگٹی اور رانا مجاہد علی کا فیڈریشن سے جانا ہاکی کے مفاد میں ہے اچھی مینجمنٹ بنی تو ساتھ مل کر کام کریں گے ہمارا مقصد ہاکی کی بھلائی ہے ہمیں عہدے کی طلب نہیں،

سابق کپتان اولمپئن حنیف خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بدعںوانی میں ملوث ہاکی فیڈریشن کے سابق صدور اور سابق اولمپئنز سیکرٹریز کو جیل بھیجا جائے جب بدعںوانی میں ملوث سیاستدان جیل جاسکتے ہیں تو بدعنوان اولمپینز جیل کیوں میں جاسکتے

اولمپئن ناصر علی نے انکشاف کیا کہ ورلڈ ہاکی فیڈریشن کے صدر طیب اکرام بھی پاکستان ہاکی کی کرپشن اور تباہی میں ملوث ہیں وہ مسلم فوڈ نامی ایک ادارے کے مالک ہیں پاکستان سمیت اسلامی ممالک کی ٹیموں کو مسلم فوڈ کا استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں جبکہ ٹیموں کو من پسند ہوٹلوں میں ٹہرانے کا کام بھی وہ خود کرتے ہیں

درحقیقت طیب اکرام ورلڈ ہاکی فیڈریشن کی صدر کی حیثیت کا ناجائز اور غیرقانت فائیدہ اٹھا رہے ہیں اور ایک کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے بھی کام کررہے ہیں، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری جنرل حیدر حسین نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو سال سے ہاکی فیڈریشن انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہے،

وزیراعظم دو سال کے دوران قومی ٹیم کے ساتھ بیرون ملک جانے والے افراد کی تحقیات کروائیں اور اس دوران ہاکی فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے بیرون ملک جانے والوں کی جان کاری حاصل کریں تو ایسے ایسے انکشافات سامنے آئیں

گے کہ سب حیران رہ جائیں گے، حیدر حسین نے سوال کیا کہ مینز ٹیم کے ساتھ خواتین کیوں بیرون ملک جاتی ہیں جبکہ ہاکی فیڈریشن اور کھلاڑیوں کے مالی معاملات کا سب کو علم ہے،

انٹرنیشنل ہاکی پلیئر محمد نعیم کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں جو کچھ قومی ٹیم کے ساتھ ہوا وہ کرپشن اور نااہلی کی نئی داستان ہے تاہم ان خبروں کا انڈین میڈیا میں چلنا باعث شرم ہے، وزیراعظم قابض ٹولے سے ہاکی فیڈریشن کا پیسہ واپس نکلوائیں، اس ٹولے کی نااہلی اور نالائقی کے باعث ملک بھر میں ہاکی کے بہ مشکل 100 کلب بھی نہیں ۔۔۔۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!