
پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی تلاش اور کوچز کی کارکردگی. تحریر : حمید خان
پاکستان کرکٹ بورڈ کے تحت 16 ریجنز اور تقریباً 106 ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشنز ہیں، یعنی بڑی تعداد میں ریجنل اور ڈسٹرکٹ کوچز کام کر رہے ہیں۔ ریجنل کوچز کو تقریباً 4 لاکھ جبکہ ڈسٹرکٹ کوچز کو تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، ڈیلی ویجز کوچز اس کے علاوہ ہیں۔
اتنی اچھی تنخواہوں کے باوجود اگر ہمیں نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے میں مشکلات ہیں تو صرف کھلاڑیوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے کوچز کی کارکردگی بھی دیکھنی چاہیے۔
پی سی بی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ تعینات کوچز اپنے ریجن اور ڈسٹرکٹ میں حقیقتاً کتنا وقت دیتے ہیں۔ ماہانہ بنیاد پر ان کی حاضری، فیلڈ وزٹس اور کام کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے۔
ضرورت پڑے تو قانونی اور ضابطے کے مطابق دستیاب حاضری و سفری ریکارڈ سے بھی تصدیق کی جا سکتی ہے اور ہر کوچ کے سی ڈی آر چیک کیے جاہیں صرف پی سی بی ایونٹس میں موجودگی سے نا ٹیلینٹ سامنے آئے گا نا کرکٹ بہترین ہوگی۔
بدقسمتی سے اگر کوئی شخص اس ذمہ داری کو پارٹ ٹائم جاب سمجھ کر کرے گا تو نتائج بھی اسی طرح کے آئیں گے۔ جس کام کو وقت، سنجیدگی اور مستقل مزاجی نہ دی جائے، اس سے بہترین نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
پی سی بی کو اب صرف کوچز کی تعیناتی نہیں بلکہ ان کی حقیقی کارکردگی اور فیلڈ میں موجودگی کو بھی معیار بنانا ہوگا، کیونکہ اصل ٹیلنٹ فائلوں ااور کاغذوں میں نہیں، گراؤنڈ میں ملتا ہے



