کرکٹ

شاداب خان کی سلیکشن ، توصیف احمد اور ثقلین مشتاق آمنے سامنے آ گئے

شاداب خان کی سلیکشن ، توصیف احمد اور ثقلین مشتاق آمنے سامنے آ گئے

قومی کرکٹ ٹیم میں شاداب خان کی سلیکشن کے معاملے پر سابق چیف سلیکٹر توصیف احمد اور سابق ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔

توصیف احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ ثقلین مشتاق نے شاداب کی سلیکشن اور انہیں رعایت دینے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کیا، جبکہ ثقلین مشتاق نے الزام کی تردید کرتے ہوئے توصیف احمد کو اپنی مبینہ ریکارڈنگ عوام کے سامنے لانے کا چیلنج دے دیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سابق چیف سلیکٹر توصیف احمد نے ایک پوڈکاسٹ میں قومی ٹیم کی سلیکشن اور کھلاڑیوں کے ساتھ مبینہ پسندیدگی کے حوالے سے گفتگو کی۔

توصیف احمد نے ثقلین مشتاق کا نام لیتے ہوئےکہا کہ انہیں شاداب خان کے معاملے میں رعایت دینے کے لیے فون کیا گیا تھا اور ثقلین مشتاق نے ایک اور شخص سے بھی فون کروانے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کے پاس فون ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ ثقلین مشتاق کو شاداب کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا اور کھلاڑیوں کے ساتھ پسندیدگی کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔

انہوں نے شاداب خان کو سینٹرل کنٹریکٹ ملنے اور سلیکشن کے بعض معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔توصیف احمد نے مزید کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی فارم یا فٹنس کے مسائل سے دوچار ہو تو اس کے باوجود اسے مسلسل ترجیح دینا دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں دوسرے کھلاڑیوں، خصوصاً سفیان مقیم، کا کیا قصور ہے۔توصیف احمد کے ان دعووں پر ثقلین مشتاق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سخت ردعمل دیا۔

ثقلین مشتاق نے توصیف احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس ان کی کوئی وائس ریکارڈنگ یا پیغام موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے جاری کرکے اپنے دعوے کو ثابت کریں۔

سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ انہوں نے توصیف احمد کو سینئر سمجھتے ہوئے احترام کے ساتھ فون کیا تھا اور انہیں چاہیے کہ جھوٹ نہ بولیں، حقائق نہ چھپائیں اور معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں۔

ثقلین مشتاق نے مزیدکہا کہ ان کے پاس بھی اس معاملے کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ توصیف احمد پہلے اپنی ریکارڈنگ عوام کے سامنے لائیں، اس کے بعد وہ بھی اپنی ریکارڈنگ جاری کردیں گے تاکہ لوگ خود دونوں جانب کی گفتگو سن کر حقیقت کا فیصلہ کرسکیں۔

شاداب خان کی سلیکشن سے متعلق ان متضاد دعووں کے بعد پاکستان کرکٹ کے دو سابق اسپنرز کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی تنازع نمایاں ہوگیا ہے۔

توصیف احمد کے مبینہ ریکارڈنگ کے دعوے اور ثقلین مشتاق کے جوابی چیلنج کے بعد اب دونوں جانب سے اصل ریکارڈ سامنے آنے کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ مبینہ ریکارڈنگ سامنے آتی ہے یا نہیں، کیونکہ اگر فریقین میں سے کسی ایک نے بھی اپنا دعویٰ ثبوت کے ساتھ پیش کردیا تو پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کے حوالے سے یہ تنازع مزید سنگین رخ اختیار کرسکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!