
بھارتی کرکٹ کی کامیابی: میرٹ کا جادو اور پاکستانی ٹیم کی ناکامی
بھارت، جس کی آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے، وہاں کرکٹ میں جگہ بنانا کسی خواب سے کم نہیں۔ لیکن اگر میرٹ ہو تو خواب حقیقت بھی بنتے ہیں۔ اس کی مثال بھارتی ٹیم کے موجودہ کھلاڑی محمد سراج ہے،
جو ایک رکشہ چلانے والے باپ کا بیٹا ہونے کے باوجود اپنی محنت، کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر ٹیم کا اہم حصہ بن گیا۔
دوسری طرف، بھارت کے کرکٹ لیجنڈز جیسے سچن ٹنڈولکر، سنیل گواسکر اور سورو گنگولی کے بیٹے، صرف مشہور نام رکھنے کے باوجود قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے، کیونکہ وہ کارکردگی کے معیار پر پورا نہیں اترے۔
یہی میرٹ پر مبنی سسٹم ہے جس نے بھارتی کرکٹ کو دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل کر دیا۔ وہاں انتخاب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی سفارش یا پس منظر کی بنا پر۔
لیکن پاکستان میں؟ یہاں سفارشی کلچر اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو چُنا جاتا ہے۔ نتیجہ؟ پاکستان چیمپئنز ٹرافی 2025 سے باہر ہو چکا ہے! 29 سال بعد چیمپئنز ٹرافی ہونے جا رہی ہے، لیکن پاکستان جیسی کرکٹنگ نیشن اس میں شرکت سے محروم ہے۔ یہ ہماری کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔
یہ وہی پاکستان ہے جو 2017 میں چیمپئنز ٹرافی جیتا تھا، لیکن 7 سال بعد ہمارا زوال اس حد تک آ گیا ہے کہ ہم ایونٹ میں جگہ بھی نہ بنا سکے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ میرٹ کا قتل اور سفارشی کلچر ہے۔
ایسے کھلاڑی جو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں جگہ بنانے کے حقدار ہیں، انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ پسندیدہ کھلاڑی بغیر کسی کارکردگی کے ٹیم میں شامل کر لیے جاتے ہیں۔
کیا پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اس ناکامی کی ذمہ داری لے گا؟ کیا کوئی جواب دے گا کہ ہماری کرکٹ اتنی پیچھے کیوں چلی گئی؟ جب تک میرٹ کو بحال نہیں کیا جاتا، پاکستان کرکٹ کی تباہی کا سفر جاری رہے گا۔



