Tag: islamanabd sports news

  • ساجد علی سدپارہ نے دنیا کی پانچویں بلند چوٹی ماؤنٹ مکالو سر کرلی

    ساجد علی سدپارہ نے دنیا کی پانچویں بلند چوٹی ماؤنٹ مکالو سر کرلی

    ساجد علی سدپارہ نے دنیا کی پانچویں بلند چوٹی ماؤنٹ مکالو سر کرلی

    کھٹمنڈو:  پاکستان کے نامور کوہ پیما ساجد علی سدپارہ نے نیپال میں واقع دنیا کی 5ویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ماکالو (8485 میٹر) کو بغیر اضافی آکسیجن کے سر کر لیا۔

    مہم کے منتظم ادارے سیون سمٹ ٹریکس کے مطابق ساجد سدپارہ 2 مئی کی صبح 5 بجے کامیابی سے چوٹی پر پہنچے۔ ٹیم میں پاکستان سے ساجد کے علاوہ یوهانس لاؤ اور 7 شیرپا شامل تھے، جنہوں نے ایک مشکل اور تکنیکی لحاظ سے چیلنجنگ مہم کو کامیابی سے مکمل کیا۔

    ساجد سدپارہ اس وقت دنیا کی تمام 14، 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو بغیر اضافی آکسیجن کے سر کرنے کے مشن پر ہیں، اور ماکالو کی کامیاب چڑھائی اس سلسلے میں ان کی 10ویں بڑی کامیابی ہے۔ وہ 4 اپریل کو نیپال پہنچے تھے جبکہ 16 اپریل کو بیس کیمپ پہنچ کر 25 اپریل کو سمٹ روٹیشن مکمل کی گئی۔

    ساجد، لیجنڈری کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے ہیں، جو 2021 میں کے ٹو کی سرمائی مہم کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ساجد نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

    الپائن کلب آف پاکستان کے صدر عرفان ارشد نے ساجد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ نائب صدر کرار حیدری نے بھی ان کی کارکردگی کو نوجوانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔

    29 سالہ ساجد اس سے قبل ایورسٹ، کے ٹو، نانگا پربت اور دیگر بلند چوٹیوں کو بھی سر کر چکے ہیں، جس سے وہ عالمی کوہ پیمائی برادری میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔

  • ساوتھ ایشین جونیئر بیڈمنٹن چیمپئن شپ 2026 کا آغاز اسلام آباد میں ہو گیا

    ساوتھ ایشین جونیئر بیڈمنٹن چیمپئن شپ 2026 کا آغاز اسلام آباد میں ہو گیا

    ساوتھ ایشین جونیئر بیڈمنٹن چیمپئن شپ 2026 اسلام آباد میں شروع،

    کے پی کے 6 کھلاڑی ایکشن میں

    اسلام آباد (سپورٹس لنک رپورٹ) ساوتھ ایشین جونیئر بیڈمنٹن چیمپئن شپ 2026 کا آغاز اسلام آباد میں ہو گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے چھ باصلاحیت میل کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق انڈر 23 کیٹیگری میں عمر جہانگیر اور محمد زید، انڈر 19 میں قاری محمد عمر، فہد احمد اور حاشر شاہ جبکہ انڈر 16 میں محمد حسنین ایکشن میں نظر آئیں گے۔

    یہ تمام کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ملک کے لیے میڈلز جیتنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔

    خیبرپختونخوا بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے صدر بلال خان جو کہ ٹیم منیجر بھی ہیں اور کوچ حیات اﷲ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی بھرپور تیاری کے ساتھ چیمپئن شپ میں حصہ لے رہے ہیں اور انشاءاللہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈلز اپنے نام کریں گے۔

    خیبر پختونخوا بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل میاں صداقت شاہ نے امید ظاہر کی ہے کہ کھلاڑی کامیابی کے ساتھ وطن واپس لوٹیں گے اور ان کے اعزاز میں بھرپور اور پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ساوتھ ایشین جونیئر بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں خطے کے مختلف ممالک کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں، جہاں سخت مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • پاکستانی بائولر اعزاز الرحمن نے پاک چائنا فرینڈ شپ ٹین پن چیمپئن شپ نے جیت لی

    پاکستانی بائولر اعزاز الرحمن نے پاک چائنا فرینڈ شپ ٹین پن چیمپئن شپ نے جیت لی

    پاکستانی بائولر اعزاز الرحمن نے پاک چائنا فرینڈ شپ ٹین پن چیمپئن شپ نے جیت لی

    اسلام آباد ; پاکستانی بائولر اعزاز الرحمن نے پاک چائنا فرینڈ شپ ٹین پن چیمپئن شپ نے جیت لی جبکہ افضال اختر نے دوسری اور دانیال اعجاز نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    افتتاحی تقریب میں مصطفیٰ حسن، وزیر اور مشن کے سربراہ نائجیریا ایمبیسی، مسٹر چن پینگ، کونسلر چینی سفارت خانہ، پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈپٹی ڈی جی شاہد اسلام، پاکستان ٹین پن باؤلنگ فیڈریشن کے سرپرست،

    محمد امجد حسن قریشی، صدر اعجاز الرحمن، جنرل سیکرٹری کرنل ریٹائرڈ کامران خالد جنجوعہ اور الطاف حسین بھی موجود تھے۔ پاکستان ٹین پن باؤلنگ فیڈریشن کے صدر و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی اعجاز الرحمن نے چیمپیئن شپ کی رپورٹ پیش کی۔

    پاک چائنا فرینڈ شپ ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ کا رنگا رنگ آغاز اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں مختلف فنکاروں اور گلوکار نے اپنے اپنے فن ک مظاہرہ کیا۔

    گزشتہ روز لیزر سٹی باؤلنگ کلب، صفا گولڈ ایف سیون مرکز اسلام آباد میں کھیلی گئی پاک چائنا فرینڈ شپ ٹین پن چیمپئن شپ کے دوستانہ میچز میں اعزاز الرحمن نے 217 پوائنٹس کے ساتھ کامیابی حاصل کی

    جبکہ افضال اختر نے 186 کے ساتھ دوسری اور دانیال اعجاز نے 172 پوائٹس تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    اسی طرح ہارون اور محمد حسین چھٹہ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔ چیمپئن شپ میں خواتین کے مقابلے جاری ہیں۔ چیمپئن شپ میں پاکستان اور چین کے 20، 20 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

  • پندرہواں پی ایس این سالانہ اسپورٹس فیسٹیول مارگلہ ٹاؤن فٹبال گراؤنڈ میں شروع

    پندرہواں پی ایس این سالانہ اسپورٹس فیسٹیول مارگلہ ٹاؤن فٹبال گراؤنڈ میں شروع

    پندرہواں پی ایس این سالانہ اسپورٹس فیسٹیول مارگلہ ٹاؤن فٹبال گراؤنڈ میں شروع

    اسلام آباد، پرائیویٹ اسکولز نیٹ ورک (پی ایس این) اسلام آباد کے زیر اہتمام پندرہواں سالانہ اسپورٹس فیسٹیول جمعرات کو مارگلہ ٹاؤن فٹبال گراؤنڈ میں شاندار انداز میں شروع ہو گیا۔

    فیسٹیول میں وفاقی دارالحکومت کے ہائی وے زون سے تعلق رکھنے والے کم لاگت نجی اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور اور پرجوش شرکت کی۔

    کئی روزہ اس اسپورٹس فیسٹیول کا مقصد طلبہ میں جسمانی فٹنس، نظم و ضبط اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو فروغ دینا ہے۔ اس ہمہ گیر اسپورٹس ایونٹ کے انعقاد کا تصور نامور ماہرِ تعلیم مرحوم ڈاکٹر افضل بابر کا تھا،

    جنہوں نے اسلام آباد میں کم لاگت اسکولوں کی بہتری اور ترقی کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ ڈاکٹر افضل بابر 23 اکتوبر کو انتقال کر گئے تھے۔ افتتاحی تقریب کے دوران ان کی خدمات اور وژن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور شرکاء و منتظمین نے ان کے تعلیمی مشن کو سراہا۔

    فیسٹیول میں طلبہ مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں جن میں کرکٹ، ٹگ آف وار، بوری دوڑ، 100 میٹر اور 200 میٹر ریس جبکہ روایتی چیٹی ریس بھی شامل ہے، جہاں کم عمر کھلاڑی اپنے ٹیلنٹ اور جذبے کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نو منتخب پی ایس این صدر مقبول حسین ڈار نے کہا کہ اسپورٹس فیسٹیول طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے پی ایس این کے عزم کا عکاس ہے۔

    انہوں نے کہا، “کھیل بچوں میں اعتماد، نظم و ضبط اور ٹیم ورک پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس فیسٹیول کے ذریعے ہم کم لاگت اسکولوں کے طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔”

    مقبول حسین ڈار نے مرحوم ڈاکٹر افضل بابر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، “یہ فیسٹیول ڈاکٹر افضل بابر کے وژن کا تسلسل ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کم لاگت اسکولوں کے طلبہ بھی دیگر طلبہ کی طرح یکساں پلیٹ فارم کے حقدار ہیں، اور پی ایس این ان کے مشن کو آگے بڑھاتا رہے گا۔”

    افتتاحی تقریب میں اسکول سربراہان، اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے ایک پُرجوش اور حوصلہ افزا ماحول پیدا ہوا۔ پی ایس این کے عہدیداران نے امید ظاہر کی کہ یہ اسپورٹس فیسٹیول اسلام آباد کے اسکولوں میں کھیلوں اور صحت مند مسابقت کے کلچر کو مزید فروغ دے گا۔

  • ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس نے پی ایس بی کوچنگ سنٹرپشاور کا انتظام سنبھال لیا

    ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس نے پی ایس بی کوچنگ سنٹرپشاور کا انتظام سنبھال لیا

    ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس نے پی ایس بی کوچنگ سنٹرپشاور کا انتظام سنبھال لیا

    پی ایس بی کوچنگ سنٹر کی سہولت کا انتظام سنبھالنا اچھا اقدام ہے، سید عاقل شاہ

    پشاور (سپورٹس لنک رپورٹ) ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا نے پاکستان سپورٹس بورڈ کوچنگ سنٹر پشاور کا انتظام سنبھال لیا،

    پی ایس بی کوچنگ سنٹر وفاقی حکومت کے پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر انتظام تھا، پی ایس بی کوچنگ سنٹر ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس کے احاطے میں واقع ہے جو صوبائی حکومت کی ملکیت ہے۔

    سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ نے ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس کی جانب سے پی ایس بی کوچنگ سنٹر کا انتظام لینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    ایک بیان میں سید عاقل شاہ نے کہا کہ پی ایس بی کوچنگ سنٹر کی سہولت کا انتظام سنبھالنا اچھا اقدام ہے وہ خود اس سلسلے میں کئی سالوں سے کوشش کر رہے تھے کہ صوبائی حکومت اس سہولت کا انتظام سنبھالے،

    سابق ڈائریکٹرز جنرل سپورٹس سے کئی بار بات کی تھی کہ یہ صوبے کی سہولت ہے اس کا انتظام سنبھالا جائے لیکن کسی نے انتظام نہیں سنبھالا۔

    انہوںنے کہا کہ یہ کھیلوں کے لئے بہت بڑا کام ہوا ہے پہلے اپنی ہی سہولت میں کھیلوں کے انعقادکے لئے دوسروں سے پوچھنا پڑتا تھا اب صوبے خصوصاً پشاور کے کھلاڑیوں کو کھیلنے کی مزید سہولیات میسر آئی ہیں۔

  •  سٹار ٹینس پلیئر اعصام الحق نے باقاعدہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

     سٹار ٹینس پلیئر اعصام الحق نے باقاعدہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

     سٹار ٹینس پلیئر اعصام الحق نے باقاعدہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پہلے اے ٹی پی چیلنجر کپ کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے یہ اعلان کیا۔

    ایک تاریخی سنگِ میل جس کے لیے اعصام نے دو دہائیوں تک جدوجہد کی، روشن ترین لائٹس اور گونجتی تالیوں کے درمیان، اعصام نے حاضرین کو اپنے شاندار کیریئر کی یادگار جھلک دکھائی۔

    اُن کے دیرینہ کوچ حسیب اسلم نے ابتدائی طور پر انہیں ٹرینڈ کرنے سے انکار کر دیا تھا، اعصام الحق کا کہنا تھا کہ صرف اپنی والدہ کے اصرار پر انہوں نے آخرکار حامی بھری۔

    اعصام الحق نے کہا کہ میرے والدین ہی اصل قوت تھے، اُن کا یقین، اُن کی قربانیاں اور ان کی حوصلہ افزائی نے مجھے وہ بنایا جو میں ہوں، میں اپنے تمام کوچز، مینٹرز اور ساتھی کھلاڑیوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے میری بہترین صلاحیتوں کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    اُن کا مزید کا کہنا کہ پاکستان کے سپورٹس میڈیا نے ان کے سفر کو ابتدا سے ہی بھرپور انداز میں اُجاگر کیا ، تقریب میں تمام بین الاقوامی اور مقامی کھلاڑیوں کا باقاعدہ تعارف بھی کرایا گیا۔

  • اصل ہتھیار ذہنی مضبوطی ہے, محسن نواز کا آئی سی ٹی شوٹنگ ایونٹ میں خطاب

    اصل ہتھیار ذہنی مضبوطی ہے, محسن نواز کا آئی سی ٹی شوٹنگ ایونٹ میں خطاب

    اصل ہتھیار ذہنی مضبوطی ہے, محسن نواز کا آئی سی ٹی شوٹنگ ایونٹ میں خطاب

     اسلام آباد: چھٹی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) شوٹنگ مقابلوں کی اختتامی تقریب میں عالمی شہرت یافتہ لانگ رینج شوٹر اور اسپورٹس سائیکالوجسٹ محسن نواز نے شرکاء اور افسران پر زور دیا کہ زندگی ہو یا فائرنگ رینج, ہر کامیابی کی بنیاد مضبوط ذہن ہوتا ہے۔

    پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نواز نے کہا: “آپ کی ذہنی صحت آپ کے ہاتھ میں موجود اسلحے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ذہنی یکسوئی، جذبات پر قابو اور مثبت سوچ وہ عوامل ہیں جو نہ صرف نشانہ بازی بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔

    مقابلے میں ایس ایم جی، ایم پی فائیو اور پستول سمیت مختلف اقسام کے اسلحے شامل تھے جن میں ملک بھر سے شوٹنگ کلب کے ممبران اور شہریوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس ایونٹ کا مقصد کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینا، عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط مضبوط کرنا، اور شوٹنگ اسپورٹس میں نظم و ضبط اور مہارت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

    تقریب میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز ملک جمیل ظفر، اے آئی جی لاجسٹکس عبدالحق عمرانی، اور اے آئی جی کمپلینٹ و انویسٹی گیشن عنایت علی شاہ نے شرکت کی، جو ایوارڈ تقسیم کی تقریب کے صدر بھی رہے۔

    حال ہی میں اپنی بین الاقوامی کامیابیوں کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز کے لیے منتخب ہونے والے محسن نواز نے اسپورٹس سائیکالوجی کے تناظر میں شرکاء کو قیمتی نکات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ یورپی مقابلوں میں ایک پاکستانی سویلین کی حیثیت سے 10 بین الاقوامی میڈلز جیتنے کا تجربہ بتاتا ہے کہ کمزور کارکردگی کی جڑ بھی ذہنی کیفیت ہی ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ “کامیابی ایک مضبوط ذہن سے جنم لیتی ہے، لہٰذا ہر افسر کو اپنے خیالات کے معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔” انہوں نے زور دیا کہ جہاں جسمانی تربیت ضروری ہے، وہیں ذہنی نظم و ضبط بھی قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی دکھانے والے شوٹرز میں شیلڈز اور اعزازات تقسیم کیے گئے۔ مقابلے نے ہر عمر اور صنف کے شرکاء کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کیا جبکہ ذہنی مضبوطی، ارتکازِ توجہ اور کمیونٹی انگیجمنٹ کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔

  • 35نیشنل گیمز ولمپک ٹارچ کراچی سے پشاور پہنچ گئی

    35نیشنل گیمز ولمپک ٹارچ کراچی سے پشاور پہنچ گئی

    35نیشنل گیمز ولمپک ٹارچ کراچی سے پشاور پہنچ گئی

    اولمپک ٹارچ ریل کے سلسلے میں تقریب آج پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوگی

    پشاور(سپورٹس لنک رپورٹ) نیشنل گیمز کے سلسلے میں اولمپک ٹارچ گزشتہ روز کراچی سے پشاور پہنچ گئی جہاں ٹارچ کا استقبال صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداروں‘سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ ‘

    صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہارون ظفر‘ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر‘ڈائریکٹر سپورٹس آپریشنز جمشید بلوچ سمیت دیگر سپورٹس سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے کیا‘

    خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ذوالفقار بٹ اولمپک ٹارچ اٹھائے تقریب میں آئے اور انہوں نے سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ ‘صدر ہارون ظفر اور دیگر شخصیات کے ساتھ اولمپک مشعل ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر کو حوالے کی۔

    نیشنل گیمز کے سلسلے میں اولمپک ٹارچ ریلے کے سلسلے میں تقریب آج پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوگی اس موقع پر مشیر برائے کھیل تاج محمد خان اولمپک مشعل آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں کو حوالے کریں گے

    اور یوں اس مشعل کا سفر نیشنل گیمز کے آغاز تک جاری رہے گا جو میزبان شہر کراچی میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا‘گزشتہ روز نیشنل گیمز کے سلسلے میں صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کا اجلاس پشاور میں زیر صدارت صدر ایسوسی ایشن ہارون ظفر منعقد ہوا

    جس میں ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدر‘ڈائریکٹر سپورٹس آپریشنزجمشید بلوچ‘صوبائی اولمپک ایسوسی ایشنز کے تمام عہدیداروں نے بھرپور شرکت کی‘اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 493 پلیئرز اور آفیشلز پر مشتمل خیبر پختونخوا کا دستہ چھ دسمبر سے کراچی میں ہونیوالی نیشنل گیمز میں شرکت کریگا

    رجسٹریشن کیلئے اٹھارہ نومبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے‘مختلف کھیلوں کے کیمپ جاری ہیں جبکہ دیگر کے کیمپ بھی آج اور کل سے شروع ہورہے ہیں چودہ دنوں کے کیمپ کے بعد ٹیمیں مرحلہ وار کراچی روانہ ہوں گی‘

    صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ذوالفقار بٹ کے مطابق کے پی کے دستے میں سے 150 کھلاڑی مارچ پاسٹ میں شرکت کریں گے ‘کھلاڑیوں کیلئے ٹریک سوٹس وغیرہ تیار ہیں‘سامان بھی جلد ہی فراہم کردیا جائیگا ‘

    انہوں نے کہا کہ ان گیمز میں ڈوپنگ ٹیسٹ بھی ہوں گے لہذا تمام ایسوسی ایشنز اپنے کھلاڑیوں کو اس بارے میں آگاہی فراہم کریں‘ڈوپنگ سرٹیفیکیٹ بھی لازمی قرار دئیے گئے ہیں‘

    نیشنل گیمز میں اعتراضات کیلئے اپیلٹ بنچ بھی ہوگا‘سابق صوبائی وزیر کھیل اور صوبائی ریسلنگ ایسوسی ایشن کے صدر سید عاقل شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل گیمز میں صوبوں میں ہماری دوسری پوزیشن اس لئے آتی ہے کہ ایتھلیٹکس ٹریک چار برس سے بند ہے اس کیساتھ سوئمنگ پول بھی بند ہے

    اور گیمز میں 120 میڈلز کے لئے ان گیمز میں مقابلے ہوتے ہیں‘نیشنل گیمز میں میڈلز جیتنے پڑتے ہیں گولڈ میڈلز پر پوزیشن بنتی ہے‘ریسلنگ میں انٹرنیشنل میڈل جیتے ہیں‘آرچری اور دیگر گیمز کو متبادل جگہ پریکٹس کیلئے دی

    جائے‘مارشل آرٹس کی ٹیمیں قومی کھیلوں میں شرکت کررہی ہیں جبکہ دوسری طرف کسی کے پاس بھی پریکٹس اور مقابلوں کیلئے میٹ تک نہیں ہیں‘پراونشل گیمز میں ہمیشہ بہترین کارکردگی دکھائی‘

    انہوں نے واضح کیا کہ سیف گیمز میں تین ایونٹس کی میزبانی خیبر پختونخوا کو نہ دی گئی تو صوبہ بھر کے کھلاڑی‘آفیشلز اور سپورٹس آرگنائزرز سڑکوں پر ہوںگے‘

    ڈی جی سپورٹس تاشفین حیدرنے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل گیمز کے دستے کو بہترین سہولتیں فراہم کرینگے‘ایتھلیٹکس ٹریک پر کام جاری ہے‘سوئمنگ پول میں گرم پانی کے سسٹم کو بھی جلد ہی ٹھیک کر دیا جائے گا‘

    عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں فلڈ لائٹس کی تنصیب کا کام بھی مکمل کیا گیا ہے نیشنل ٹی ٹورنامنٹ رمضان میں پشاور میں ہوگا جبکہ پی ایس ایل کے میچ بھی پشاورمیں کروانے کیلئے کوشاں ہیں‘

    انہوں نے ایسوسی ایشنز کو ہدایات دیں کہ ٹرائلز اور کیمپس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو صرف اور صرف میرٹ پر ہی ٹیموں میں شامل کیا جائے

    تا کہ وہ صوبے میں زیادہ سے زیادہ میڈل جیت سکیں‘ہر گولڈ میڈل جیتنے والے کو سکالر شپ دیا گیا ہے جبکہ نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر میڈل جیتنے والوں کیلئے انعامات میں اضافہ بھی کیا جائے گا ایسوسی ایشنز کی سالانہ گرانٹ اس سال جاری کر دی جائے گا ‘ڈوپنگ پر سیمینار منعقد کریں گے ‘سیف گیمز ایونٹس کی میزبانی کیلئے کوشاں ہیں۔

  • اسلام آباد اسپورٹس گالا 2025 ; سید ذیشان علی نقوی کی خصوصی شرکت

    اسلام آباد اسپورٹس گالا 2025 ; سید ذیشان علی نقوی کی خصوصی شرکت

    اسلام آباد میں اسپورٹس گالا 2025 ;

    فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پریزیڈنٹ پاکستان کونسل فار ٹریڈیشن سپورٹس اینڈ گیمز سید ذیشان علی نقوی کی خصوصی شرکت

    اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) AIMS School & College میں اسپورٹس گالا 2025 شاندار انداز میں منعقد ہوا، جس میں فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پریزیڈنٹ پاکستان کونسل فار ٹریڈیشن سپورٹس اینڈ گیمز سید ذیشان علی نقوی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    تقریب کا اہتمام ادارے کے سی ای او امتیاز علی رضوی نے کیا تقریب کا آغاز مشعل جلا کر سید ذیشان نقوی نے کیا، جس کے بعد بچوں نے مختلف اسپورٹس مقابلوں میں بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا۔

    کھیلوں میں پٹھو گرم، بنٹے، فٹبال، رسی کشی، دوڑ اور ٹریڈیشن اسپورٹس شامل تھیں گروپ پریڈ کے شاندار مظاہرے سے تقریب کا ماحول مزید پرجوش ہوگیا اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی خطاب کرتے ہوئے سید ذیشان نقوی نے کہاآج یہاں آکر بے حد خوشی ہوئی۔

    بچوں سے مل کر اور ادارے کا ماحول دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا ہے۔ یہاں تقریباً ساڑھے چار سو طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور اس قدر منظم سیٹ اپ واقعی قابلِ تعریف ہےانہوں نے مزید کہایہ ادارہ نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں ہے بلکہ کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے۔

    یہی بچے پاکستان کا مستقبل ہیں اور آنے والے وقت میں ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کا مقصد بھی ہر بچے کو ترقی کا بھرپور موقع فراہم کرنا ہے

    اس موقع پر سی ای او امتیاز علی رضوی نے سید ذیشان نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت نے طلبہ کے حوصلے بلند کیے اور تقریب کی اہمیت میں اضافہ کیا

    اختتامی تقریب میں سید ذیشان نقوی نے ادارے کی بلڈنگ، کلاس رومز اور سہولیات کا تفصیلی دورہ کیا، بچوں سے ملاقات کی اور انتظامات کی تعریف کی۔ آخر میں پوزیشن ہولڈر بچوں میں میڈلز، شیلڈز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے گئے

  • ارشد ندیم: عروج، زوال اور پاکستان ایتھلیٹکس و پی ایس بی کا المیہ

    ارشد ندیم: عروج، زوال اور پاکستان ایتھلیٹکس و پی ایس بی کا المیہ

    ارشد ندیم: عروج، زوال اور پاکستان ایتھلیٹکس و PSB کا المیہ

    تحریر: شاہد الحق

    پاکستان کے اسپورٹس کے نقشِ قدم پر ایک ایسا لمحہ آیا جب ایک کھلاڑی نے پوری قوم کا سر فخر سے اونچا کر دیا — ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو میں 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔

    جبکہ ورلڈ اتھلیٹکس چمپیئن شپ میں ارشد ندیم ایک منجھے ھوۓ کھلاڑی کی کارکردگی نہ دیکھا سکے جسکی وجہ سے پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے سابق صدر و چیئر مین جنرل محمد اکرم ساہی جو موجودگی ساؤتھ ایشیئن اتھلیٹکس کے صدر بھی ھیں نے ایک مختصر انٹرویو میں جو شکوے شکایتیں کیں اور تحقیقات کا مطالبہ کیا اس سے کئی شکوک و شبہات نے جنم لیا۔

    یہ وہ سنگِ میل تھا جس کے بعد اداروں، پالیسی سازوں اور کوچنگ مشینری سے سنجیدہ سوال پوچھنے ضروری ہو گئے اور عوام کی معلومات کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ھوا کہ اس کارکردگی کے پیچھے کونسے کردار و ادرے کار گر تھے۔

    اس مضمون میں میں وہ تمام سوالات، شکوک و شبہات، اور سفارشات یکجا کر رہا ہوں جو اس پورے معاملے کے گرد اٹھتے ہیں — کوچنگ سے لے کر طبی علاج تک،

    فیڈریشنز اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کے کردار سے لے کر ارشد کی ذاتی ذمہ داری اور مستقبل کے لیے ناگزیر اصلاحات تک۔ میری کوشش ہوگی کہ کوئی اہم نکتہ رہ نہ جائے — حقائق جہاں تصدیق ہو سکے ان کے ساتھ، اور جہاں ثبوت کم ہوں وہاں واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ تحقیقی سوالات ہیں جن کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

    1) اولمپک کامیابی کے بعد واضح منصوبہ بندی کا فقدان

    ارشد ندیم کی اوّلمپک فتح کے فوری بعد ایک موقع تھا کہ فیڈریشن اور حکومت جیووِلِن تھرو کی لمبی مدت کی ترقی کا جامع نقشہ بناتیں — ہائی پرفارمنس سینٹر، ریجنل کوچنگ نیٹ ورک، گراس روٹ ٹیلنٹ ہنٹ اور مسلسل میڈیکل/سپورٹس سائنس سپورٹ۔ مگر حقیقت یہ رہی کہ وہ بقاعدہ، مربوط اور تسلسل پر مبنی منصوبہ بندی منظرِ عام پر نہ آئی۔ کئی رپورٹس میں یہ بھی آیا کہ ادارے اس کامیابی کا کریڈٹ لینے میں مصروف رہے، جب کہ عملی طور پر موثر سرمایہ کاری اور ڈویلپمنٹ کا تسلسل غائب رہا۔

    2) ایک آدمی — کئی اہم عہدے: شفافیت اور مفاد کا تضاد و سوالات

    ساؤتھ ایشیا/عالمی و اولمپک کامیابیوں کی سطح پر اور مقامی سطح پر ارشد ندیم کے ساتھ جو بنیادی شراکت رہی، وہ اتھلیٹکس فیڈریشن کے سابق پریذیڈنٹ جو ساؤتھ ایشیئن اتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر بھی ھیں اور کوچ فیاض بخآری کی رہی جبکہ سلمان اقبال بٹ (Salman Iqbal Butt) کو ٹوکیو اولمپک کے بعد ارشد ندیم کے ساتھ ایک رابطہ افسر کی ذمہ داریاں سونپی گیئں۔ انہیں ارشد کا کوچ بتایا جاتا ہے اور ان کے پاس ساؤتھ ایشیا سطح پر ڈویلپمنٹ عہدہ بھی دیا گیا۔ متعدد ذرائع میں سلمان بٹ پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے بھی ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر کے طور پر حوالہ ملتے ہیں۔ اس کے باوجود عوامی حلقوں میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ کیا ایک ہی فرد کو مقامی/صوبائی/علاقائی و بین الاقوامی ذمہ داریوں کا ذمہ دینا شفاف اور منصفانہ ہے؟ جب ایک شخص بیک وقت فیڈریشن، صوبائی باڈی یا علاقائی ڈویلپمنٹ رولز میں اثر رکھے تو تضادِ مفاد (conflict of interest) اور اثر و رسوخ کے امکانات پر سوال اٹھتے ہیں — اور ان سوالات کی شفاف انکوائری لازمی ہے۔

    تحقیقی نقطہ: اس بات کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے کہ کسی فرد کو ایک سے زائد کلیدی عہدوں پر تقرر کس طریقہ کار کے تحت ہوئے؟ کیا اس کی تعلیمی و پروفیشنل قابلیت مستند طریقے سے جانچی گئی؟ تقرریاں کن سفارشات یا فیصلوں کی بنیاد پر ہوئیں؟ یہ معلومات عوامی ہونی چاہئیں تاکہ شکوک دور ہوں۔

    3) طبی علاج: لندن میں آپریشن، قطر کا عالمی معیار کا کھیلوں کا ھسپتال اور فیصلہ سازی پر سوال

    حالیہ رپورٹس کے مطابق ارشد ندیم نے پنڈلی (calf) کے آپریشن کے لیے برطانیہ کے اسپائر/کیمرج سینٹر میں سرجری کروائی جو ڈاکٹر علی باجوہ کی زیرِ نگرانی ہوئی — یہ فیصلہ کس کے مشورے اور منظوری سے ہوا؟

    اس کی تفصیلات شفاف ہونی چاہئیں۔ کیا علی شیر باجوہ پہلے کسی بڑے اتھلیٹ یا سپورٹس میڈیسن کے ساتھ تجربہ رکھتے تھے؟ اور کیا ڈاکٹر باجوہ ہی بہترین انتخاب تھے؟

    اس تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیوں لندن کو منتخب کیا گیا جبکہ خطّے میں قطر کا معروف اسپورٹس میڈیکل مرکز Aspetar عالمی شہرت رکھتا ہے، جو سنجیدہ کھیلوں کی میڈیکل اور ریہیبلیٹیشن سہولیات مہیا کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ادارہ ہے۔ اگر علاج کا انتخاب ذاتی تعلقات یا اثر و رسوخ کی بنا پر ہوا تو یہ کھلاڑی کے بہترین مفاد کے منافی ہوگا؛ اسی لیے اس پورے فیصلے کی دستاویزی منطق سامنے لانی چاہیے تاکہ شفافیت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔

    تحقیقی نقطہ: فیڈریشن/PSB کو یہ بتانا چاہیے کہ طبی فیس بک-کونسلنگ، آپریشن اور ریہیب کے فیصلے کس نے اور کس میڈیکل مشورے کی بنیاد پر کئے گئے؟ اگر بین الاقوامی آپشنز کا تقابلی جائزہ اور مکمل تفصیلات موجود ہیں تو وہ شائع کیا جائے۔

    4) پاکستان اسپورٹس بورڈ، فنڈز اور ‘براہِ راست’ روابط — اختیارات و شفافیت

    پاکستان اسپورٹس بورڈ سرکاری سطح پر فنڈ تقسیم کرنے والا ادارہ ہے اور اس نے ارشد ندیم کو اور ایتھلیٹکس فیڈریشن کو مختلف ریوارڈز/گرانٹس دیے۔ PSB کی جانب سے کچھ کیش پرائزز اور سہولیات دینے کی خبریں موجود ہیں —

    مثال کے طور پر PSB کی طرف سے ارشد کو اعزازی انعام کا اعلان اور فیڈریشن کو تربیتی فنڈ دینے کی رپورٹ سامنے آئی۔ اس کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ جیسا کہ ارشد رسمی طور پر ایتھلیٹکس فیڈریشن (AFP) سے منسلک ہے، PSB نے براہِ راست یا فیڈریشن کے ذریعے فنڈنگ کیوں اور کس اختیار کے تحت کی؟ یہ ایک گورننس کا مسئلہ ہے جسے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

    مختلف ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی ھے کہ ارشد کے علاج کی غرض سے کچھ حکومتی و پرائیویٹ اداروں نے سپانسر شپ دی جو کروڑوں روپے بنتی ھے جبکہ پاکستان سپورٹس بورڈ نے بھی لندن علاج کے لئے کروڑوں فنڈز جاری کئے وہ کتنے تھے؟ اور کیا ارشد یا PSB ان اخراجات کی تفصیلات دے گا؟

    تحقیقی نقطہ: PSB اور AFP کے فنڈنگ میکانزم کو شفاف بنائیں — کون سے طریقہ کار کے تحت کون سا فنڈ جاری ہوتا ہے، کوچز اور فیڈریشنز کے لیے انعام یا معاونت کا طریقِ کار کیا ہے، اور فیصلے کن اصولوں کے تحت لیے گئے۔

    جبکہ فیڈریشن بار بار سلیمان بٹ کو کوچ تسلیم کرنے سے انکاری ھے تو صرف ارشد کے کہنے پر سلیمان کو کوچ کیوں تسلیم کیا گیا؟ یہاں تحقیقات کی ضرورت ھے کہ کہیں ارشد اور سلیمان میں کیش ایورڈ کے لالچ میں بندر بانٹ تو نہیں؟

    5) کوچ فَياض الحسن بُخاری کا نظرانداز ہونا — اخلاقی اور عملی نقصان

    ارشد کے ابتدائی تربیت کار اور لفظی طور پر “اصل معمار” کہلانے والے فیاض الحسن بُخاری نے ارشد کی بنیاد رکھی اور ان کے کردار کو تاریخی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر میڈیا اور ادارتی تشہیر میں بسا اوقات اصل کوچ کے کردار کو کم کر کے ان کے نمائندے یا بعد کے مینجرز کو کوچ دکھایا جاتا رہا —

    یہ فطری طور پر ناانصافی ہے اور کوچنگ ماڈل کے لیے بھی نقصان دہ۔ ابتدائی کوچ کو نظر انداز کرنا اسپورٹس کلچر میں ایک خطرناک پیغام بنتا ہے: محنت، استقامت اور لوکل کوچنگ کو کم اہم سمجھا جائے۔ متعدد رپورٹس نے فیاض بخاری کی خدمات کے صلے میں کم معاوضہ اور ایک اولمپیئن کوچ ھونے کے ناطے کم درجے پر تسلیم کرنا اور سرکاری و نجی سطح پر پذیرائی نہ ملنا فیڈریشن، حکومتی اداروں اور ارشد ندیم کا براہ راست ملوث ھونے کا ذکر بار بار ذرائع ابلاغ میں آیا ھے۔ اسکی تحقیق بھی ھونی چاہیئے۔

    سفارش: کوچ بخاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں، انہیں ماہرین کے ساتھ شراکت میں تربیتی پراجیکٹس کا سربراہ بنائیں، اور ان کے نام پر مقامی/قومی جونیئر سکالرشپ/ٹریننگ پروگرام شروع کریں تاکہ ان کی میرٹ کو جوہری قدر دی جائے۔

    6) سلیمان/سلمان بٹ — اسناد، تقرریاں اور شکوکِ پیدا ہونے کی وجہ

    عوام اور صحافتی حلقوں میں یہ بڑھتا ہوا سوال بار بار سامنے آیا کہ کیا سلمان بٹ کی تمام تقرریاں اور انتظامی عہدے معیاری و شفاف طریقے سے دیے گئے؟ ہم نے جو آرکائیو/اخباری حوالہ جات دیکھے ان میں سلمان اقبال بٹ کے کوچنگ اور ایشیا/ورلڈ ایتھلیکس ڈویلپمنٹ رولز کے حوالے ملے، مگر کچھ دعوے —

    مثلاً ایک شخص کا ایک وقت میں صوبائی صدر، فیڈریشن ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر، ارشد کا کوآرڈینیٹر، ساؤتھ ایشیا کے پیڈ/پروگرام ڈائریکٹر اور خود ساختہ اولمپک کوچ بن جانا — کی واضح سرکاری دستاویزی تائید ہر جگہ دستیاب نہیں ملی۔ کچھ عناصر تصدیق شدہ ہیں (Coaching & development roles)، کچھ دعوے عینی شواہد طلب کرتے ہیں۔کیا بین القوامی طور پر ہزاروں ڈالرز ملنے کے باوجود اس شخص کا کوئی پاکستان یا ساؤتھ ایشیاء کے لئے باقاعدہ ڈویلپمنٹ پلان سامنے آیا؟ اور اس تقرری کا کوئی اجتماعی فائیدہ ھوا؟ اور اگر ھے تو منظر عام پر لایا جائے ۔

    تحقیقی نقطہ:

    1. تقرریوں اور ایکریڈیشن کی آزادانہ جانچ کرائی جائے — (a) سرکاری آڈٹ، (b) ورلڈ ایتھلیٹکس/ایشیئن ایتھلیکس کی طرف سے جاری سرٹیفیکیٹس کی بئومکینکس کی ڈگری اور تجربہ، ویریفیکیشن

    2. اگر کسی بھی سطح پر مفاد میں تضاد پایا جائے تو اس کی شفاف انکوائری کی جائے اور نتیجوں کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔

    7) انعامات، مالی مراعات اور کوچ بخاری کے حق میں تضاد والا منظرنامہ

    ماضی میں کوچ فیاض بخاری کو مقامی سطح پر انعامات ملے، مگر بعد ازاں جب بڑے پیمانے پر پیسے اور اعزازات دیے گئے تو مختلف ادارے (PSB، صوبائی حکومتیں، وزارتیں) نے مختلف مقدار میں انعامات تقسیم کیے —

    ان تقسیمات کے طریقِ کار اور معیار کے بارے میں عوامی سوالات اٹھے۔ اسی دوران بعض رپورٹس میں یہ بھی آیا کہ بعض اہلِ منصب یا نئے متعارف شدہ افراد جیسے سلیمان بٹ کو ترجیحی مراعات دی گئیں، جس نے شکوک کو ہوا دی۔

    سفارش: نقد انعامات کی تقسیم کے معیار کو باقاعدہ قانون/پالیسی کے تحت لایا جائے — کوچز، فیڈریشن اور PSB کے بیچ ترسیل کا شفاف عمل طے ہو اور کارکردگی کے پیمانے واضح ہوں۔

    8) ارشد ندیم — ذاتی طرز عمل، احتیاطیں، غرور اور ذمہ داری

    تنقید کا ایک پہلو ارشد ندیم کے اپنے طرزِ عمل سے بھی منسلک ہے۔ جتنی بھی ذمہ داری اداروں پر عائد ہوتی ہے، ایک عالمی سطح کا ایتھلیٹ اپنی ذاتی پروفیشنلز، فٹنس اور کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لئے، فیڈریشن، کوچ اور علاج کے انتخاب میں زیادہ باخبر اور عاجزی والا رویّہ رکھے تو بہتر ہے۔ یہ بات بھی درست ھے کہ ارشد کی خوشیوں، تقریبات، اور میڈیا جذبات نے شاید انہیں تربیت کے تسلسل سے دور کیا — اور یہ ورزش/پریکٹس میں خلل کا سبب بن گیا جو بہرحال ارشد کی انجری کا سبب بنا۔ اگر ارشد ندیم اپنے کوچ فیاض بخاری صاحب جیسی محنت کرنے والے کوچ کا احترام اور انکساری دکھاتے تو یہ سسٹم میں ایک صحت مند علامت بن سکتا تھا۔ ایک سوال اور جنم لیتا ھے کہ ارشد نے اپنی فیڈریشن اور ساتھی اتھلیٹس کے لیے کیا کیا؟ کیا انہوں نے جیولن کی ترقی کے لیے کوئی مالی یا تربیتی اقدام پیش کیا؟ عوامی سطح پر معاشرے کے لئے کوئی فلاحی کام میں واضح شرکت کی؟ اگر ارشد نے امداد یا کوئی پروگرام پیش کیا تو اسے شفاف طریقے سے ریکارڈ کریں اور اپنی اس کارکردگی کو مشعل راہ بنائیں۔

    9) بھائی کا WAPDA میں تقرر — حقیقت اور شفافیت

    کچھ رپورٹس میں درج ہے کہ ارشد کے خاندان/بھائیوں کے لیے WAPDA نے مراعات یا نوکریاں فراہم کیں؛ وَاَپڈا کی جانب سے ارشد کے خاندان کے لیے سہولیات کی خبریں منظرِ عام پر آئیں — یہ ایک عام عمل ہے جہاں ادارے ہستیوں کو ملازمتیں دیتے ہیں، مگر شفاف طریقہ کار کو سامنے رکھنا چاہیے تاکہ “ اقربا پروری” کے تاثر کو روکا جا سکے۔

    10) بھارت کی حکمتِ عملی: ایک مقابلہ نقطۂ نظر

    نیراج چوپڑا اور بھارت کی مثال واضح کرتی ہے کہ جب کامیابی کو مربوط نظام سازی اور سرمایہ کاری سے جوڑا جائے تو نتائج دیرپا ہوتے ہیں — بھارت نے نیراج چوپڑا کی کامیابی کے بعد ایونٹس، ہائی پرفارمنس سینٹرز، اور خاص بین القوامی سیمنارز، ٹریننگز کا اہتمام کیا، اور ایک باقاعدہ ایونٹ (Neeraj Chopra Classic) شروع کیا اور دیگر ڈویلپمنٹ اقدامات نے جویلن گراؤنڈ کو مضبوط کیا۔ اس ماڈل نے نئے ٹیلنٹس کو جنم دیا (مثلاً حالیہ عالمی مقابلوں میں سامنے آنے والے نئے بھارتی تھروورز)۔ پاکستان کے لیے بھی یہی سبق ہے: ایک شخص کی کامیابی کافی نہیں بلکہ ادارہ جاتی تسلسل درکار ہے۔

    11) اگر فیڈریشن/PSB/حکومت سنجیدہ ہے تو فوری عملی سفارشات (عملی اقدامات جو فوری نفاذ کے قابل)

    1. فوری شفاف انکوائری (30–60 دن):

    سلمان اقبال بٹ/متعلقہ افراد کی تقرریوں، ایکریڈیشنز اور اسناد کی آزادانہ تصدیق۔

    ارشد ندیم کی طبی تاریخ، علاج کے فیصلوں اور فنڈنگ کی دستاویزات کی باقاعدہ جانچ۔

    2. PSB کی ازسرِنو تشکیل (گورننس ریفارم):

    فیصلہ سازی میں صرف ماہرین (sports scientists, experienced coaches, former elite athletes) کو شامل کریں؛ منسٹر/سیکریٹری/ڈی جی کا رول گورننس و پالیسی تک محدود رکھیں۔

    بورڈ ممبرز کے لیے میرٹ، خدمات کی مدت اور پارلیمانی،عسکری یا سیاسی مداخلت و اثرات سے آزادی کے باقاعدہ قواعد بنیں۔

    3. گراس روٹ اور ہائی پرفارمنس سینٹر کا ڈھانچہ:

    جیولن کے لیے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر قائم کریں (Aspetar جیسے ماڈل سے مشابہت) کھلاڑیوں کے لئے ھسپتال کا قیام؛ علاقائی کوچنگ سینٹرز قائم کریں؛ ایک 8–10 سالہ ٹیلنٹ ہنٹ پلان وضع کریں۔

    4. طبی اور ریہیب پروٹوکول:

    کسی بھی سنجیدہ انجری کی صورت میں کم از کم دو آزاد اسپورٹس میڈیکل ریویو لازمی کریں؛ علاج کی جگہ، ماہر اور اخراجات کا تقابلی جائزہ ضابطے کے طور پر رکھیں اور نجی شعبے سے فنڈنگ کاعمل شفاف بنایا جائے ۔

    کسی خاص مقصد کے حصول کے لئے فیڈریشن اور حکومتی ادارے مل کر اخراجات مینج کریں اور زیادہ اخراجات کی صورت میں نجی شعبہ سے بھی مشترکہ کوششیں کرنی چاہیئں۔

    5. کھلاڑی، کوچز اور مینجرز کے معاوضے و مراعات کا مربوط نظام واضح کیا جائے جو سب کے لئے قابل قبول اور حوصلہ افزا ھو۔

    کوچز کے معاوضے، انعامات اور مراعات کا واضح شیڈول شائع کریں؛ اصل کوچز (جیسے فیاض بخاری) کے کریڈیٹس اور مراعات یقینی بنائیں۔

    6. بین الاقوامی معاونت اور ریلوکیشن:

    ارشد اور یاسر جیسے ٹیلنٹس کو فیاض بخاری کے زیرِ نگرانی کسی عالمی ماہر کوچ کے ساتھ ٹریننگ کی سہولت فراہم کریں — اگر ضروری ہو تو انہیں ایک پروفیشنل ترتیب دیئے ھوئے پروگرام کی بنیاد پر بیرونِ ملک بھیجا جائے تاکہ انجری فری اور ورلڈ لیول کارکردگی حاصل ہو۔ (کوچ فیاض بخاری کا سابقہ بیان کہ ارشد ورلڈ ریکارڈ بھی توڑ سکتا ہے قابلِ توجہ ہے — اس توقع کو عملی شکل دینے کے لیے ماہرین کا ساتھ ضروری ہے۔)

    12) شفافیت اور عوامی اعتماد — درخواست براۓ فیڈریشن و PSB

    میں بطور صحافی اور کھیلوں کا ماہر درخواست کرتا ہوں:

    ارشد ندیم کے معاملے میں فیڈریشن اور PSB عوامی طور پر ایک مفصل بریف جاری کریں جس میں تقرریاں، فنڈز، علاج کے فیصلوں اور مستقبل کے ڈویلپمنٹ پلان واضح ہوں۔

    اس معاملے میں اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو تسلیم کریں؛ اصلاحی اقدامات اور ذمہ دار افراد کی شناخت سے ہی عوامی بھروسہ بحال ہوگا۔

    13) ذاتی رائے اور اخلاقی نکتہ

    ارشد ندیم نے قوم کو وہ خوشیاں دی ہیں جو کم ہی ملی ہیں — ان کی جیت قومی اثاثہ ہے۔ مگر ہیرو کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے: کوچز کا احترام، عاجزی، اور قومی ترقی کے لیے زیادہ مظبوط شراکت — یہ وہ اقدار ہیں جو انہیں اور ملک کو دونوں فائدہ دیں گی۔ اگر ارشد اپنے ابتدائی کوچ فیاض بخاری کے ساتھ دوبارہ مربوط ہو کر اور ماہرین کے زیرِ نگرانی بھرپور تربیت کریں تو ان میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ نہ صرف ورلڈ ریکارڈ بلکہ پھر سے دیرپا، مستقل کارکردگی دکھائیں — بشرطیکہ ادارے بھی اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں۔ (کوچ فیاض بُخاری نے پہلے کہا تھا کہ ارشد ورلڈ ریکارڈ تک پہنچ سکتا ہے — یہ اعتماد ابھی بھی ضائع نہیں ہوا۔) جبکہ یہاں یاسر سلطان جو بخآری صاحب ہی کی کوچنگ میں پاکستان نمبر 2 اور انتہائی پر امید کھلاڑی ھیں پر بھی برابری کی بنیاد پر محنت ضروری ھے ۔

    14) خلاصہ — کیا ہونا چاہیے؟ (بڑی تصویر)

    اصلاحات: PSB اور فیڈریشن دونوں میں گورننس ریفارم لازمی۔

    شفاف انکوائری: تقرریاں، فنڈنگ اور طبی فیصلوں کی آزادانہ جانچ۔

    کوچنگ رولز: اصل کوچز کو تسلیم اور منظم طریقے سے انعام دیں؛ جیولن کو تربیتی پلانز کا حصہ بنائیں۔

    ہنگامی تربیتی منصوبہ: ارشد اور یاسر کو فوری طور پر ماہرین کی نگرانی میں ریہیب/ٹریننگ پہنچائیں — بیرونِ ممالک کے ہائی پرفارمنس سینٹرز کے ساتھ پارٹنرشپ پر کام کریں۔

error: Content is protected !!