پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے عثمان وزیرکا ٹائٹل جعلی قرار دیدیا
ورلڈ نمبر 86عثمان وزیر کا کیریئر خریدے گئے اور فکسڈ میچز پر مبنی ہے،ان کے حریف کمزوراورمعمر تھے

پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے عثمان وزیرکا ٹائٹل جعلی قرار دیدیا
ورلڈ نمبر 86 عثمان وزیر کا کیریئر خریدے گئے اور فکسڈ میچز پر مبنی ہے،ان کے حریف کمزوراورمعمر تھے
ان کا حالیہ ٹائٹل بھی جعلی ہے جو مخالف باکسر کو ڈالرز دے کر ہرانے کے بعدحاصل کیا گیا،پرو گرین
اسلام آباد ( سپورٹس لنک) پاکستانی باکسر عثمان وزیر کے حوالے سے پاکستان باکسنگ فیڈریشن اور پاکستان پروفیشنل باکسنگ فیڈریشن (پروگرین) کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے،
اس حوالے سے دونوں کا مشترکہ موقف ہے کہ عثمان وزیر کو باکسنگ چیمپئن کے طور پر پیش کیا جانا کسی طور درست نہیں ہے۔حقائق یہ ہیں کہ عثمان وزیر کا کیریئر خریدے گئے اور فکسڈ میچز پر مبنی ہے اور ان کی عالمی رینکنگ86ہے جس سے ان کی صلاحیتوں کا بخوبی انداز ہ لگایا جاسکتا ہے،
ان کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اب تک کھیلی گئی تمام 17 فائٹس جیتی ہیں، لیکن یہ سب کمزور اور معمر باکسرز کے ساتھ فکسڈ فائٹس تھیں جن پر اوسطاً 5 ہزار سے 15 ہزار ڈالر فی فائٹ خرچ کیے گئے، ریفری اور ججز کو رشوت دی گئی اور مخالف باکسر کو 1,500 سے 5,000 ڈالر ملے تاکہ وہ ہارنے پر راضی ہو جائے،
اس طرح عثمان وزیر کی 16 پچھلی فائٹس پر اندازاً 160,000 ڈالر خرچ ہوئے، پھر جو ٹائٹل انہوں نے کھیلا وہ جاپان کا اصل OPBF ٹائٹل نہیں تھا بلکہ تھائی لینڈ کی فیک فیڈریشن کا جعلی OPBF Silver ٹائٹل تھا جس کی مارکیٹ ویلیو صرف 2500سے سے تین ہزارڈالرز ہے،
اس ٹائٹل فائٹ میں مخالف باکسر اسٹیو فرنانڈس(Stevie Ferdinandus)کو اندازاً دوسے اڑھائی ہزار ڈالرزدیے گئے تاکہ وہ فائٹ ہار جائے، یعنی ایک جعلی ٹائٹل جس کی دنیا میں کوئی اصل حیثیت نہیں اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے اور اسے جاپانی اصلی OPBF ٹائٹل کے برابر دکھانے کی کوشش کی گئی،
اسٹیو فرنانڈس 44سال کے ہیں اور انہوں نے پروفیشنل باکسنگ کو کئی سال قبل خیرباد کہ دیا تھا وہ آج کل میچ میکر ہونے کے ساتھ ساتھ باکسنگ ریفری جج بھی ہیں،ا س طرح عثمان وزیرکی فتح مزید مشکوک ہوجاتی ہے۔
موقف میں کہا گیا ہے کہ جاپان کا اصلی ٹائٹل انتہائی ٹف ہوتا ہے اور اس کے لیے کوالیفائی کرنا بہت مشکل ہے، اگر کل اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تواندازہ ہوگا کہ عثمان وزیر کے کیریئر پر تقریباً 160,000 ڈالر عام فکسڈ فائٹس پر اور تقریباً 3,000 ڈالر اس جعلی ٹائٹل فائٹ پر لگائے گئے،
یعنی کل تقریباً 163,000 ڈالر ز(پاکستانی روپے میں 4.5 کروڑ سے 5 کروڑ) خرچ ہوئے لیکن اس سب کے باوجود ان کی box recریٹنگ صرف 2اسٹار ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ وہ عالمی معیار کے باکسر نہیں بلکہ کمزور مخالفین اور جعلی ٹائٹلز کے ذریعے ریکارڈ بنانے والے ایک خود ساختہ چیمپئن ہیں۔
موقف میں مزید کہا گیا ہے کہ عثمان وزیر اس طرح کا بوگس ریکارڈ اس لئے بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں کسی باکسر سے بھاری رقم لے کر ہار جائیں اور ان کو شکست دینے والے باکسر کی رینکنگ تیزی سے بہتر ہو سکے،اس طرح عثمان وزیر کھیل سے مزید بددیانتی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔
دونوں فیڈریشنزکا کہنا ہے کہ عثمان وزیر نے اپنی فائٹس کے لئے حکومت پاکستان،پاکستان اسپورٹس بورڈ اور مختلف ایم این ایز و اداروں سے فنڈز بھی لیے جودر حقیقت دوسرے با صلاحیت باکسرز کا حق تھا،
پاکستان میں انتہائی با صلاحیت باکسرز موجودہیں جو دنیا بھرمیں پاکستان کا پرچم بلند کر سکتے ہیں مگر وہ مالی مدد کے بغیر گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں جبکہ عثمان وزیر کو جعلی ٹائٹلز اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے مصنوعی ہیرو بنایا جا رہا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،
حقیقت یہ ہے کہ عثمان وزیر عالمی چیمپئن نہیں بلکہ تھائی لینڈ کے فیک ٹائٹل کا ہولڈر ہے جس کی اصل قیمت اڑھائی سے تین ہزار ڈالرز ہے، جس کے بدلے میں مخالف باکسر کو ناک آؤٹ کرایا گیا۔



