کھیلوں میں انا اور آمرانہ رویہ — علی ترین اور پی سی بی کا تنازعہ: کھیل کی ساکھ یا طاقت کی جنگ؟
تحریر: شاہد الحق

کھیلوں میں انا اور آمرانہ رویہ — علی ترین اور پی سی بی کا تنازعہ: کھیل کی ساکھ یا طاقت کی جنگ؟
تحریر: شاہد الحق (سینئر اسپورٹس اینالسٹ، وی لاگر و سی ای او – SPOFIT)
پاکستان میں کھیلوں کے میدان اب کھیل سے زیادہ طاقت، ضد، انا، اور اثر و رسوخ کی جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ چاہے وہ ہاکی فیڈریشن ہو، باکسنگ ایسوسی ایشن یا ایتھلیٹکس فیڈریشن — ہر جگہ وہی ’’طاقتور‘‘ کردار براجمان ہیں جو کھیل کو ادارہ نہیں بلکہ اپنی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔
کرکٹ جیسے بڑے کھیل میں بھی اب وہی بدمعاشی سرایت کرتی جا رہی ہے، جس کا تازہ مظاہرہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ملتان سلطانز کے مالک علی ترین کے درمیان ہونے والی کشیدگی میں دیکھنے کو ملا۔
پی سی بی اور علی ترین کا تنازعہ — ایک مختصر پس منظر ;
حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے علی ترین کو ایک قانونی نوٹس بھیجا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) سے متعلق ایسے بیانات دیے جو بورڈ کے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہیں۔
نوٹس میں یہاں تک کہا گیا کہ اگر علی ترین نے معافی نہ مانگی تو ان کی فرنچائز ملتان سلطانز کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، علی ترین نے اس نوٹس کا جواب ایک طنزیہ ویڈیو کے ذریعے دیا جس میں وہ بورڈ کے نوٹس کو پھاڑتے ہوئے کہتے ہیں:
> “یہ میری معافی ہے!”
یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ اب جذبات سے آگے بڑھ کر ایک اختیارات کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
فرنچائز اونر کی حیثیت اور کردار
دنیا بھر میں فرنچائز لیگیں — چاہے وہ IPL ہو، BBL ہو یا CPL — صرف کھلاڑیوں اور ناظرین کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اصل سہارا دینے والے وہ فرنچائز اونرز ہیں جو کروڑوں روپے لگا کر کھیل کو مالی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یہی سرمایہ کاری نوجوان کھلاڑیوں کو موقع، مقامی معیشت کو فروغ، اور بین الاقوامی کرکٹ کو پلیٹ فارم دیتی ہے۔
لہٰذا، اگر کوئی بورڈ کسی اونر کی عزتِ نفس کو مجروح کرے، اسے میڈیا میں تماشہ بنائے یا انتقامی کارروائی کا تاثر دے — تو اس کا اثر صرف ایک شخص پر نہیں بلکہ پوری لیگ کی ساکھ پر پڑتا ہے۔
سرمایہ دار اعتماد کھو بیٹھتا ہے، اسپانسرز پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور کھیل ایک ’’ادارے‘‘ سے زیادہ ’’اختیار کی منڈی‘‘ بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی اصول کیا کہتے ہیں؟
آئی سی سی اور دیگر بین الاقوامی اسپورٹس ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ کھیل میں گورننس اور سرمایہ کار کے درمیان تعلق شراکت داری (Partnership) پر مبنی ہونا چاہیے، تابعداری (Subordination) پر نہیں۔
کوئی بھی بورڈ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اسے اپنے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ
عزت، شفافیت اور مکالمے کے اصولوں پر چلنا چاہیے۔
نوٹس دینا بورڈ کا حق ہے، مگر نوٹس کا لہجہ اور اس کا عوامی انداز بھی اتنا ہی اہم ہے۔
کسی فرنچائز کو دھمکی دینا کہ ’’معافی مانگو ورنہ ختم کر دیں گے‘‘ — یہ ایک انتظامی نہیں بلکہ سیاسی طرزِ عمل ہے۔
علی ترین کے مؤقف اور ردعمل کا جائزہ
علی ترین کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ بورڈ کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں تاکہ کھیل بہتر ہو، شفافیت بڑھے، اور فیصلے میرٹ پر ہوں۔ یہ نقطہ بالکل درست ہے —
لیکن افسوس کہ ان کے ردعمل کا انداز تنازعے کو حل کرنے کے بجائے بڑھا گیا۔
قانونی اور انتظامی مسئلے کا جواب طنزیہ ویڈیو سے نہیں بلکہ مضبوط قانونی و اخلاقی مؤقف سے دینا چاہیے تھا۔
کیونکہ جب کوئی شخص اپنی بات کو مزاح یا غصے میں پیش کرتا ہے تو اصل مقصد کمزور ہو جاتا ہے، اور مخالف فریق کو آسان موقع مل جاتا ہے کہ وہ ’’ضابطہ شکنی‘‘ کا الزام لگا دے۔
پی سی بی کے لیے تجاویز ;
1. انتظامی کارروائی میں توازن — کسی فرنچائز یا کھلاڑی پر ایکشن لینا ہو تو وہ ’’احتساب‘‘ کے بجائے ’’اصلاح‘‘ کے جذبے سے ہونا چاہیے۔
2. پالیسی شفافیت — فرنچائز معاہدوں اور نظم و ضبط کے ضوابط واضح اور سب کے لیے یکساں ہوں۔
3. میڈیئیشن کمیٹی — تنازعات کو نوٹس یا میڈیا میں جانے سے پہلے باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کا نظام بنایا جائے۔
4. احترامِ سرمایہ کار — یاد رکھیں کہ یہ لوگ کھیل میں سرمایہ نہیں، اعتماد لگا رہے ہیں۔ ان کی تذلیل کھیل کے وقار کو مجروح کرتی ہے۔
5. پی آر (Public Relations) کا نیا باب — پی سی بی کو اپنی میڈیا اسٹریٹجی جدید طرز پر اپنانا چاہیے، جس میں احترام، وضاحت اور غیر جانبداری بنیادی شرط ہو۔
علی ترین کے لیے بھی چند اصولی ہدایات ;
1. غصہ نہیں، ادارہ جاتی بات چیت — سوشل میڈیا کے بجائے بورڈ کے فورم پر معاملات اٹھائیں۔
2. دلائل اور شواہد سے گفتگو — جذبات کے بجائے پروفیشنل انداز میں اصلاحات کی بات کریں۔
3. عوامی احترام برقرار رکھیں — آپ نہ صرف ایک ٹیم اونر ہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے رول ماڈل بھی۔
کھیلوں میں نظم، ادارہ جاتی شفافیت اور انسانی احترام بنیادی ستون ہیں۔
اگر بورڈ اپنی طاقت سے کسی کی عزت مجروح کرے یا کوئی فرنچائز اونر اپنی بات انا کے ذریعے منوائے — تو کھیل ہار جاتا ہے۔
دنیا کی کامیاب لیگیں وہی ہیں جہاں بورڈ، فرنچائز، کھلاڑی اور شائقین شراکت دار ہیں، مخالف نہیں۔
پاکستان کرکٹ کو بھی اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ’’طاقت‘‘ کے ذریعے بڑھے گا یا ’’عزت‘‘ کے ذریعے۔



