کرکٹ

جنوبی افریقہ نے پاکستان کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 55 رنز سے شکست دے دی

جنوبی افریقہ نے پاکستان کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 55 رنز سے شکست دے دی

بابر اعظم صفر پر آؤٹ، سلمان علی آغا کی کپتانی پر سوالات – میزبان ٹیم کی بیٹنگ ایک بار پھر ناکام

روالپنڈی (عبدالغفار خان سے) راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 55 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی۔

میزبان ٹیم ایک بار پھر ہدف کے تعاقب میں ناکام رہی اور 195 رنز کے جواب میں پوری ٹیم 18.1 اوورز میں صرف 139 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

جنوبی افریقہ کے اوپنر ریزا ہینڈرکس نے شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 40 گیندوں پر 60 رنز بنائے، جبکہ ٹونی ڈے زورزی اور جارج لنڈے نے برق رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو 194 رنز کے بڑے مجموعے تک پہنچایا۔

پاکستان کی جانب سے اسپنر محمد نواز سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے چار اوورز میں 26 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سائم ایوب نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں مگر مجموعی طور پر پاکستانی بولرز لائن اور لینتھ برقرار نہ رکھ سکے۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر دھوکہ دے گئی۔ تجربہ کار بلے باز بابر اعظم بغیر کوئی رن بنائے کوربن بوش کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ سائم ایوب نے 28 گیندوں پر 37 رنز بنا کر مزاحمت کی کوشش کی

جبکہ محمد نواز نے 20 گیندوں پر 36 رنز بنا کر امید جگائی مگر کوئی بیٹر اننگز کو آگے نہ بڑھا سکا۔ ایک موقع پر 82 کے مجموعی اسکور پر چار وکٹیں گرنے کے بعد قومی ٹیم مکمل طور پر دباؤ میں آگئی اور واپسی کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے۔

جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر کوربن بوش نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 14 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ انہوں نے بابر اعظم، سلمان آغا، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ جیسے اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پاکستانی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔

ٹاس کے دوران کپتان سلمان علی آغا نے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا جو بعد میں ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ راولپنڈی کی شام کے وقت نمی کے باعث بولنگ اور فیلڈنگ مشکل ہوجاتی ہے، اس کے باوجود کپتان نے بیٹنگ کا انتخاب نہیں کیا۔ فیلڈنگ میں بھی قومی ٹیم کمزور دکھائی دی، کئی مواقع پر آسان کیچز چھوڑے گئے اور غیر ضروری رنز دیے گئے۔

یہ شکست محض بیٹنگ یا بولنگ کی ناکامی نہیں بلکہ حکمت عملی کی کمزوری ہے۔ سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کر کے ٹیم کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔

ایسی کنڈیشنز میں شام کے وقت بولنگ کا فیصلہ ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم جیسے سینئر بلے باز کا بغیر رن بنائے آؤٹ ہونا ٹیم کے حوصلے پر اثر انداز ہوا۔ پاکستان کرکٹ کو اب نئے خیالات اور بہتر پلاننگ کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ نوجوان کھلاڑیوں میں جذبہ تو ہے لیکن حکمت عملی کی کمی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

شائقین کرکٹ میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ راولپنڈی اسٹیڈیم میں ہزاروں تماشائیوں نے بابر اعظم اور نوجوان بلے بازوں سے بڑی اننگز کی توقع کی تھی مگر بیٹنگ لائن کی ناکامی نے ماحول سرد کردیا۔ کئی شائقین نے مایوسی کے عالم میں بیٹنگ آرڈر پر تنقید کرتے ہوئے “کپتانی بدل دو” کے نعرے بھی لگائے۔

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر سلمان علی آغا کے نام ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ شائقین نے ٹیم سلیکشن، بیٹنگ آرڈر اور کپتانی کے فیصلوں پر شدید تنقید کی اور ٹیم مینجمنٹ سے فوری تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے لیے شکست سے بچنے اور سیریز برابر کرنے کے لیے بیٹنگ میں تسلسل اور کپتانی میں بہتری لازمی ہوگی۔ اگر ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو جنوبی افریقہ اس برتری کو فیصلہ کن برتری میں بدل سکتا ہے۔

عبدالغفار خان کے مطابق کرکٹ میں غلطی کی گنجائش کم ہوتی ہے، خاص طور پر جب مدِمقابل ٹیم جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ہو۔ ٹیم کو جیت کے لیے جذبے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی، قیادت اور ٹیم ورک کی بھی ضرورت ہے۔

پاکستان کی پلیئنگ الیون ;  پاکستان کی پلیئنگ الیون میں سلمان علی آغا(کپتان)، صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، بابر اعظم، حسن نواز، عثمان خان، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور ابرار احمد شامل ہیں۔

جنوبی افریقہ کی پلیئنگ الیون ; جنوبی افریقہ کی پلیئنگ الیون میں ڈونوون فریرا (کپتان)، کوئنٹن ڈی کوک، ریزا ہینڈرکس، ٹونی ڈی زورزی، ڈیوالڈ بریوس، میتھیو بریزکے، جارج لیندسے، کارٹن بوش، لزاڈ ولیمز، ناندرے برگر اور لنگی ندیدی پر مشتمل ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!