فٹ بال

بلوچستان اسپورٹس بورڈ کا بلوچستان فٹبال ایسوسی ایشن کے خلاف احتجاج، فٹبال گورننس پر سوالات

بلوچستان اسپورٹس بورڈ کا بلوچستان فٹبال ایسوسی ایشن کے خلاف احتجاج، فٹبال گورننس پر سوالات

اسلام آباد; رپورٹ نواز گوھر : بلوچستان اسپورٹس بورڈ (بی ایس بی) نے بلوچستان فٹبال ایسوسی ایشن (بی ایف اے) کے خلاف باقاعدہ طور پر احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے، جس میں صوبے میں فٹبال کی ترقی میں مبینہ رکاوٹوں اور ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے کردار پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

فٹبال ذرائع کے مطابق بی ایس بی نے اپنی تحریری مراسلت میں بی ایف اے کے طرزِ عمل پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فٹبال کے فروغ اور بہتری میں مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے، بی ایف اے کے بعض عہدیداران کے اقدامات نے بلوچستان میں کھیل کی انتظامی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔

خط میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے کانگریس اور ایگزیکٹو کمیٹی کے بعض اراکین قومی سطح پر بھی عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں، جس سے پاکستان فٹبال میں نظم و نسق کی بحالی کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق 28 دسمبر 2025 کو منعقدہ پی ایف ایف الیکٹو کانگریس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس میں دو ایگزیکٹو کمیٹی نشستوں کا انتخاب ہونا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ بی ایف اے کے کانگریس اراکین لاہور میں موجود ہونے کے باوجود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، حالانکہ پی ایف ایف کی جانب سے انہیں واپسی کے فضائی ٹکٹ، ہوٹل میں قیام، یومیہ الاؤنس اور مکمل لاجسٹک سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس رویے پر جمیل سرپارا، عبد المالک اور نصراللہ سمیت بی ایف اے کے متعدد کانگریس اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے دو اراکین اصغر خان اور نصراللہ کو بھی اسی نوعیت کے نوٹس دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان فٹبال کو درپیش گورننس کے مسائل میں مزید اضافہ کرتی ہے، جبکہ متعلقہ حلقے جوابدہی، شفافیت اور تعمیری مکالمے پر زور دے رہے ہیں تاکہ صوبائی اور قومی سطح پر فٹبال میں استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!